المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طاوس، عن ابن عباس باب: طاؤس کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، ثنا عِيسَى بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ طَاوُسًا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُمْ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ لَيْلَةً حَتَّى انْقَلَبَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ إِلَّا عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ منْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَمْسَةَ عَشَرَ رَجُلًا - أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ - مَا بَلَغُوا سَبْعَةَ عَشَرَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: لَا أَخْرُجُ اللَّيْلَةَ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُصَلِّيَ مَعَهُ وَأَعْلَمُ مَا أَمْرُهُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَرِيبٍ مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ وَمَعَهُ بِلَالٌ وَلَمْ يَرَ فِي الْمَسْجِدِ أَحَدًا إِذْ سَمِعَ نَغَمَةً مِنْ كَلَامِهِمْ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَمَشَى إِلَيْهِمْ حَتَّى سَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: «مَا يُجْلِسُكُمْ هَذِهِ السَّاعَةِ؟» قَالُوا: يَا نَبِيُّ اللهِ انتظرناكَ لنَشْهَدَ الصَّلَاةَ مَعَكَ فَقَالَ لَهُمْ: «مَا صَلَّى صَلَاتَكُمْ هَذِهِ أُمَّةٌ قَطُّ قَبْلَكُمْ، وَمَا زِلْتُمْ فِي صَلَاةٍ بَعْدُ» وَقَالَ: «إِنَّ النُّجُومَ أَمَانُ السَّمَاءِ، فَإِذَا طُمِسَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُونَ، وَإِنِّي أَمَانٌ لِأَصْحَابِي فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ، وَأَصْحَابِي أَمَانٌ لِأُمَّتِي فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ»سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک رات عشاء کی نماز میں اتنی تاخیر کی کہ مسجد والے لوٹ گئے سوائے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے، جو نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، اور پندرہ یا سولہ آدمیوں کے، جو سترہ تک نہیں پہنچے تھے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آج رات اس وقت تک نہیں نکلوں گا جب تک نبی کریم ﷺ نہ نکلیں، تاکہ میں آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھوں اور آپ ﷺ کا معاملہ جان لوں۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ رات کے قریب ایک تہائی حصے میں نکلے اور آپ ﷺ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے، مسجد میں کسی کو موجود نہ پایا، اتنے میں مسجد کے ایک کونے میں لوگوں کی گفتگو کی آواز سنی، تو آپ ﷺ ان کی طرف چلے یہاں تک کہ انہیں سلام کیا اور فرمایا: ”اس وقت تمہیں کس چیز نے بٹھا رکھا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہونے کے لیے آپ کا انتظار کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم سے پہلے کسی امت نے تمہاری یہ نماز کبھی نہیں پڑھی، اور تم اب تک (اسی انتظار کی وجہ سے) نماز ہی میں شمار ہو رہے تھے۔“ اور فرمایا: ”بے شک ستارے آسمان کے لیے امان ہیں، جب ستارے مٹ جائیں گے تو آسمان پر وہ آ جائے گا جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے، اور میں اپنے صحابہ کے لیے امان ہوں، جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ آ جائے گا جس کا انہیں وعدہ دیا گیا ہے، اور میرے صحابہ میری امت کے لیے امان ہیں، جب میرے صحابہ چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ آ جائے گا جس کا اسے وعدہ دیا گیا ہے۔“