کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: شعبی سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اختلاف: کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اللہ کے فرمانبردار امام (پیشوا) تھے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قُرِئَتْ عِنْدَهُ، أَوْ قَرَأَهَا، {إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا} [النحل: ١٢٠] ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: إِنَّ مُعَاذًا كَانَ أُمَّةً قَانِتًا، قَالُوا: يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، {إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا} [النحل: ١٢٠] ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الْأُمَّةُ؟ الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ، وَالْقَانِتُ: الَّذِي يُطِيعُ اللهَ وَرَسُولَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس یہ آیت پڑھی گئی، یا انہوں نے خود پڑھی: ”بے شک ابراہیم ایک امت (جامع خوبیوں والے) اللہ کے فرمانبردار تھے“ [سورۃ النحل: 120]، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک معاذ ایک امت، اللہ کے فرمانبردار تھے۔ لوگوں نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! (آیت تو) ”بے شک ابراہیم ایک امت، اللہ کے فرمانبردار تھے“ ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو امت کیا ہے؟ وہ شخص جو لوگوں کو بھلائی سکھائے۔ اور قانت وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي فِرَاسٌ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: إِنَّ مُعَاذًا كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا، وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ فَرْوَةُ، رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ: نَسِيَ، إِنَّ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: وَمَنْ نَسِيَ؟ إِنَّا كُنَّا نُشَبِّهُ مُعَاذًا بِإِبْرَاهِيمَ، وَسُئِلَ عَنِ الْأُمَّةِ فَقَالَ: مُعَلِّمُ الْخَيْرِ، وَسُئِلَ عَنِ الْقَانِتِ، فَقَالَ: مُطِيعٌ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک معاذ ایک امت، اللہ کے فرمانبردار، یکسو تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔ اس پر اشجع قبیلے کے ایک آدمی فروہ نے کہا: وہ بھول گئے، (آیت تو) ”بے شک ابراہیم“ ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کون بھول گیا؟ ہم تو معاذ کو ابراہیم سے تشبیہ دیتے تھے۔ ان سے امت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: بھلائی سکھانے والا۔ اور قانت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کا فرمانبردار۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مُجَالِدٍ، وَزَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: إِنَّ مُعَاذًا كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا، قِيلَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، {إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا} [النحل: ١٢٠] . قَالَ: قَالَ: أَسَمِعْتُمُونِي ذَكَرْتُ إِبْرَاهِيمَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ مُعَاذًا كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا، قَالَ: كُنَّا نُشَبِّهُ مُعَاذًا بِإِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک معاذ ایک امت، اللہ کے فرمانبردار، یکسو تھے۔ ان سے کہا گیا: اے ابو عبدالرحمٰن! (آیت تو) ”بے شک ابراہیم ایک امت، اللہ کے فرمانبردار، یکسو تھے“ [سورۃ النحل: 120] ہے۔ فرمایا: کیا تم نے مجھے ابراہیم کا ذکر کرتے سنا؟ پھر فرمایا: بے شک معاذ ایک امت، اللہ کے فرمانبردار، یکسو تھے۔ فرمایا: ہم معاذ کو ابراہیم علیہ السلام سے تشبیہ دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُجَالِدٍ، وَبَيَانٍ، أَوْ أَحَدِهِمَا، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: إِنَّ مُعَاذًا كَانَ أُمَّةً قَانِتًا، فَقَالَ فَرْوَةُ: غَلَطٌ، {إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا} [النحل: ١٢٠] ، فَقَالَ: إِنَّا كُنَّا نُشَبِّهُ بِهِ. وَسُئِلَ عَنِ الْأُمَّةِ فَقَالَ: مُعَلِّمُ الْخَيْرِ، وَسُئِلَ عَنِ الْقَانِتِ فَقَالَ: مُطِيعٌ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک معاذ ایک امت، اللہ کے فرمانبردار تھے۔ اس پر فروہ نے کہا: یہ غلطی ہے، (آیت تو) ”بے شک ابراہیم ایک امت، اللہ کے فرمانبردار تھے“ [سورۃ النحل: 120] ہے۔ فرمایا: ہم تو انہیں (معاذ کو) ابراہیم سے تشبیہ دیتے تھے۔ ان سے امت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: بھلائی سکھانے والا۔ اور قانت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کا فرمانبردار۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيُّ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِنَّ مُعَاذًا كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: غَلَطَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّمَا قَالَ {إِنَّ إِبْرَاهِيمَ} [النحل: ١٢٠] ، قَالَ: أَتَدْرِي مَا الْأُمَّةُ، وَمَا الْقَانِتُ؟ قَالَ: اللهُ أَعْلَمُ، قَالَ: الْأُمَّةُ الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ، وَالْقَانِتُ الْمُطِيعُ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، وَكَذَلِكَ كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُعَلِّمُ الْخَيْرَ، وَكَانَ مُطِيعًا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ
ترجمہ
فروہ بن نوفل اشجعی کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک معاذ ایک امت، اللہ کے فرمانبردار، یکسو تھے۔ میں نے دل میں کہا: ابو عبدالرحمٰن سے غلطی ہو گئی، آیت تو ”بے شک ابراہیم“ ہے۔ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے امت کیا ہے اور قانت کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ بہتر جانتا ہے۔ فرمایا: امت وہ ہے جو لوگوں کو بھلائی سکھائے، اور قانت وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول کا فرمانبردار ہو، اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی ایسے ہی تھے، وہ بھلائی سکھاتے اور اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار تھے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عِيسَى، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: إِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ كَانَ أُمَّةً لِلَّهِ قَانِتًا حَنِيفًا، وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَا نَرَاكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ تُحَدِّثُنَا بِشَيْءٍ مَا تَدْرِي مَا هُوَ، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ إِبْرَاهِيمَ} [النحل: ١٢٠] ، وَتَقُولُ أَنْتَ: إِنَّ مُعَاذًا، قَالَ: مَا يَزَالُونَ يَسْمَعُونَ مِنِّي حَقًّا فَيُنْكِرُونَهُ، إِنَّ الْقَانِتَ الْمُطِيعُ لِلَّهِ، وَكَانَ مُعَاذٌ كَذَلِكَ.
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایک امت، اللہ کے فرمانبردار، یکسو تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔ اس پر ایک آدمی نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ آپ ہمیں ایسی بات بتاتے ہیں جس کا آپ کو علم نہیں، اللہ عزوجل تو فرماتا ہے ”بے شک ابراہیم“ اور آپ کہتے ہیں: بے شک معاذ۔ فرمایا: یہ لوگ مجھ سے حق سنتے رہتے ہیں مگر اسے قبول نہیں کرتے۔ قانت اللہ کا فرمانبردار ہے، اور معاذ ایسے ہی تھے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَسْرُوقًا وَلَا غَيْرَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں مسروق یا کسی اور کا ذکر نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، وَحَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ: إِنَّ مُعَاذًا كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ، تَدْرُونَ مَا الْأُمَّةُ؟ يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بے شک معاذ ایک امت، اللہ کے فرمانبردار تھے - کیا تم جانتے ہو امت کیا ہے؟ وہ جو لوگوں کو بھلائی سکھائے۔