حدیث نمبر: 9911
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيُّ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِنَّ مُعَاذًا كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: غَلَطَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّمَا قَالَ {إِنَّ إِبْرَاهِيمَ} [النحل: ١٢٠] ، قَالَ: أَتَدْرِي مَا الْأُمَّةُ، وَمَا الْقَانِتُ؟ قَالَ: اللهُ أَعْلَمُ، قَالَ: الْأُمَّةُ الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ، وَالْقَانِتُ الْمُطِيعُ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، وَكَذَلِكَ كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُعَلِّمُ الْخَيْرَ، وَكَانَ مُطِيعًا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ
ترجمہ

فروہ بن نوفل اشجعی کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک معاذ ایک امت، اللہ کے فرمانبردار، یکسو تھے۔ میں نے دل میں کہا: ابو عبدالرحمٰن سے غلطی ہو گئی، آیت تو ”بے شک ابراہیم“ ہے۔ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے امت کیا ہے اور قانت کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ بہتر جانتا ہے۔ فرمایا: امت وہ ہے جو لوگوں کو بھلائی سکھائے، اور قانت وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول کا فرمانبردار ہو، اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی ایسے ہی تھے، وہ بھلائی سکھاتے اور اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9911
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 60، حدیث 9947