المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الاختلاف عن الشعبي في حديث عبد الله: إن معاذا كان أمة قانتا لله باب: شعبی سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اختلاف: کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اللہ کے فرمانبردار امام (پیشوا) تھے
حدیث نمبر: 9908
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي فِرَاسٌ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: إِنَّ مُعَاذًا كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا، وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ فَرْوَةُ، رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ: نَسِيَ، إِنَّ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: وَمَنْ نَسِيَ؟ إِنَّا كُنَّا نُشَبِّهُ مُعَاذًا بِإِبْرَاهِيمَ، وَسُئِلَ عَنِ الْأُمَّةِ فَقَالَ: مُعَلِّمُ الْخَيْرِ، وَسُئِلَ عَنِ الْقَانِتِ، فَقَالَ: مُطِيعٌ لِلَّهِ وَرَسُولِهِترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک معاذ ایک امت، اللہ کے فرمانبردار، یکسو تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔ اس پر اشجع قبیلے کے ایک آدمی فروہ نے کہا: وہ بھول گئے، (آیت تو) ”بے شک ابراہیم“ ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کون بھول گیا؟ ہم تو معاذ کو ابراہیم سے تشبیہ دیتے تھے۔ ان سے امت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: بھلائی سکھانے والا۔ اور قانت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کا فرمانبردار۔