المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الاختلاف عن الشعبي في حديث عبد الله: إن معاذا كان أمة قانتا لله باب: شعبی سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اختلاف: کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اللہ کے فرمانبردار امام (پیشوا) تھے
حدیث نمبر: 9910
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُجَالِدٍ، وَبَيَانٍ، أَوْ أَحَدِهِمَا، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: إِنَّ مُعَاذًا كَانَ أُمَّةً قَانِتًا، فَقَالَ فَرْوَةُ: غَلَطٌ، {إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا} [النحل: ١٢٠] ، فَقَالَ: إِنَّا كُنَّا نُشَبِّهُ بِهِ. وَسُئِلَ عَنِ الْأُمَّةِ فَقَالَ: مُعَلِّمُ الْخَيْرِ، وَسُئِلَ عَنِ الْقَانِتِ فَقَالَ: مُطِيعٌ لِلَّهِ وَرَسُولِهِترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک معاذ ایک امت، اللہ کے فرمانبردار تھے۔ اس پر فروہ نے کہا: یہ غلطی ہے، (آیت تو) ”بے شک ابراہیم ایک امت، اللہ کے فرمانبردار تھے“ [سورۃ النحل: 120] ہے۔ فرمایا: ہم تو انہیں (معاذ کو) ابراہیم سے تشبیہ دیتے تھے۔ ان سے امت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: بھلائی سکھانے والا۔ اور قانت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کا فرمانبردار۔