کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب (احادیث 9766 تا 9906)
❮
❯
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ثنا صُغْدِيُّ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ وَيَقُولُ: «تَعَلَّمُوا؛ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِالتَّشَهُّدِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی کوئی سورت سکھاتے، اور فرماتے: ”اسے سیکھو، کیونکہ تشہد کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9886
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 51، حدیث 9922
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ & عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَّمَنِي التَّشَهُّدَ: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے تشہد سکھایا: ”تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلامتی ہو، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9887
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 51، حدیث 9923
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَزِيزٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي، وَأَخَذَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ بِيَدِ عَلْقَمَةَ، وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» .
ترجمہ
قاسم بن مخیمرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: علقمہ (رحمہ اللہ) نے میرا ہاتھ پکڑا، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کا ہاتھ پکڑا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور انہیں نماز میں تشہد سکھایا: ”تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلامتی ہو، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9888
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 51، حدیث 9924
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، قَالُوا: ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ الْأَسَدِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ قَالَ: أَخَذَ عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ النَّخَعِيُّ بِيَدِي وَقَالَ: أَخَذَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ بِيَدِي فَعَلَّمَنِي التَّشَهُّدَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ
قاسم بن مخیمرہ کہتے ہیں کہ علقمہ بن قیس نخعی نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے تشہد سکھایا، پھر (راوی نے) اسی جیسی حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9889
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 51، حدیث 9925
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ زُهَيْرٍ.
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم ﷺ سے زہیر کی حدیث جیسی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9890
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 51، حدیث 9926
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ قَالَ: زَادَ رَبِيعُ بْنُ خَيْثَمٍ فِي التَّشَهُّدِ: «بَرَكَاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ» ، فَقَالَ عَلْقَمَةُ: نَقِفُ حَيْثُ عَلِمْنَا: «السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ»
ترجمہ
طلحہ بن مصرف کہتے ہیں: ربیع بن خثیم نے تشہد میں یہ الفاظ بڑھائے: ”اس کی برکتیں اور اس کی مغفرت“۔ اس پر علقمہ نے کہا: ہم وہیں رکیں گے جہاں تک ہمیں علم ہے: ”اے نبی! آپ پر سلامتی ہو، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9891
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 51، حدیث 9927
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، وَأَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، وَجَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالُوا: ثنا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّشَهُّدِ: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تشہد میں فرمایا: ”تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلامتی ہو، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9892
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 52، حدیث 9928
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9893
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 52، حدیث 9929
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّشَهُّدِ: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تشہد میں فرمایا: ”تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلامتی ہو، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9894
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 53، حدیث 9930
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9895
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 53، حدیث 9931
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ الرَّقَاشِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَشَهَّدُ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: وَكُنَّا نَحْفَظُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا نَحْفَظُ حُرُوفَ الْقُرْآنِ الْوَاوَاتِ وَالْأَلِفَاتِ، قَالَ: " إِذَا جَلَسَ عَلَى وَرِكِهِ الْيُسْرَى قَالَ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَدْعُو إِلَهَهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ وَيَنْصَرِفُ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں تشہد پڑھا کرتے تھے، فرماتے ہیں: ہم اسے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح یاد رکھتے تھے جیسے ہم قرآن کے حروف - واؤ اور الف تک - یاد رکھتے ہیں۔ فرماتے ہیں: جب آپ ﷺ اپنے بائیں سرین پر بیٹھتے تو فرماتے: ”تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلامتی ہو، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ پھر اپنے معبود سے دعا مانگتے، پھر سلام پھیر کر پلٹ جاتے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9896
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 53، حدیث 9932
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَرْزَمِيُّ، ثنا عَمِّي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں بیٹھے تو یوں کہے: تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلامتی ہو، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9897
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 53، حدیث 9933
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " كُنَّا نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ: السَّلَامُ عَلَى رَبَّنَا، فَقِيلَ لَنَا: قُولُوا: السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، فَإِذَا قُلْتُمْ ذَلِكَ سَلَّمْتُمْ عَلَى مَنْ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نماز میں کہا کرتے تھے: ہمارے رب پر سلام ہو۔ تو ہم سے کہا گیا: یوں کہو: ”ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو“؛ جب تم یہ کہو گے تو تم آسمان اور زمین میں جو بھی ہے اس پر سلام بھیج چکے ہو گے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9898
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 54، حدیث 9934
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی کوئی سورت سکھاتے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9899
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 54، حدیث 9935
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلُّويَةَ الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَائِشَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی کوئی سورت سکھاتے: ”تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلامتی ہو، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9900
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 54، حدیث 9936
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْجَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ مُجَاهِدٍ، حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَأَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ: عَلَّمَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ التَّشَهُّدَ وَقَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللهُمَّ صَلِّ عَلَيْنَا مَعَهُمْ، اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللهُمَّ بَارِكْ عَلَيْنَا مَعَهُمْ، صَلَوَاتُ اللهِ وَصَلَاةُ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ، السَّلَامُ عَلَيْهِ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ ﷺ نے سکھایا: ”تمام تعظیمیں، نمازیں اور پاکیزہ کلمات اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اے اللہ! محمد ﷺ اور ان کے اہل بیت پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی، بے شک تو تعریف والا، بزرگی والا ہے، اے اللہ! ہم پر بھی ان کے ساتھ رحمت نازل فرما، اے اللہ! محمد ﷺ اور ان کے اہل بیت پر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم پر برکت نازل فرمائی، بے شک تو تعریف والا، بزرگی والا ہے، اے اللہ! ہم پر بھی ان کے ساتھ برکت نازل فرما، اللہ کی رحمتیں اور مومنوں کی دعائیں نبی امی محمد ﷺ پر ہوں، ان پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9901
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 54، حدیث 9937
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَنْبَسَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُمُ التَّشَهُّدَ: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں تشہد سکھایا: ”تمام تعظیمیں، نمازیں اور پاکیزہ کلمات اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9902
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 55، حدیث 9938
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْأَجْلَحِ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» . رَفَعَهُ الْأَجْلَحُ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں تشہد سکھایا: ”تمام تعظیمیں، نمازیں اور پاکیزہ کلمات اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ (امام طبرانی کہتے ہیں:) اسے اجلح نے مرفوع بیان کیا ہے اور حماد بن سلمہ نے مرفوع بیان نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9903
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 55، حدیث 9939
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: عَلَّمَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ التَّشَهُّدَ، فَذَكَرَ التَّشَهُّدَ ثُمَّ قَالَ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ، مَا أَعْلَمُ مِنْهُ وَمَا لَا أَعْلَمُ، اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عِبَادُكَ الصَّالِحُونَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ مِنْهُ عِبَادُكَ الصَّالِحُونَ، اللهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
ترجمہ
عمیر بن سعید کہتے ہیں: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھے تشہد سکھایا، پھر تشہد کے الفاظ بیان کیے، پھر (یہ دعا بھی سکھائی): ”اے اللہ! میں تجھ سے ہر بھلائی مانگتا ہوں، جسے میں جانتا ہوں اور جسے نہیں جانتا۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا سوال کرتا ہوں جس کا سوال تیرے نیک بندوں نے کیا، اور اس برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس سے تیرے نیک بندوں نے پناہ مانگی۔ اے اللہ! اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9904
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 55، حدیث 9940
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْأَزْدِيِّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ يَقُولُ: إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَقُلِ: التَّحِيَّاتُ، فَذَكَرَ التَّشَهُّدَ ثُمَّ قَالَ: لِيَقُلِ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عِبَادُكَ الصَّالِحُونَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِهِ عِبَادُكَ الصَّالِحُونَ، رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي وَالْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ، رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا، وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا، وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ، رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ، وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ "
ترجمہ
عمیر بن سعید کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو کہے: التحیات - پھر انہوں نے تشہد کے الفاظ بیان کیے - پھر کہا: پھر یہ کہے: ”اے اللہ! میں تجھ سے ہر بھلائی مانگتا ہوں، جسے میں جانتا ہوں اور جسے نہیں جانتا، اور ہر برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جسے میں جانتا ہوں اور جسے نہیں جانتا۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا سوال کرتا ہوں جس کا سوال تیرے نیک بندوں نے کیا، اور اس برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس سے تیرے نیک بندوں نے پناہ مانگی۔ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔ اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس ہمارے گناہ بخش دے، اور ہماری برائیاں دور فرما، اور ہمیں نیکوں کے ساتھ (موت) دے۔ اے ہمارے رب! ہمیں وہ عطا فرما جس کا تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے وعدہ کیا، اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کر؛ بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9905
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 56، حدیث 9941
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكِرْمَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أُخْبِرُكَ عَنْ هَدْيِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي الصَّلَاةِ وَفِعْلِهِ وَقَوْلِهِ فِيهَا، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، كَانَ يُعَلِّمُنَا كَيْفَ نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ حِينَ نَقْعُدُ فِيهَا: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ، ثُمَّ يَسْأَلُ مَا بَدَا لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ، وَيَرْغَبُ إِلَيْهِ مِنْ رَحْمَتِهِ وَمَغْفِرَتِهِ، كَلِمَاتٌ يَسِيرَةٌ لَا يُطِيلُ بِهَا الْقُعُودَ، وَكَانَ يَقُولُ: أُحِبُّ أَنْ تَكُونَ مَسْأَلَتُكُمُ اللهَ حِينَ يَقْعُدُ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ وَيَقْضِي التَّحِيَّةَ أَنْ يَقُولَ بَعْدَ ذَلِكَ: سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ، اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَصْلِحْ لِي عَمَلِي؛ إِنَّكَ تَغْفِرُ الذُّنُوبَ لِمَنْ تَشَاءُ، وَأَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ، يَا غَفَّارُ اغْفِرْ لِي، يَا تَوَّابُ تُبْ عَلَيَّ، يَا رَحْمَانُ ارْحَمْنِي، يَا عَفُوُّ اعْفُ عَنِّي، يَا رَءُوفُ ارْأُفْ بِي، يَا رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكَرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ، وَطَوِّقْنِي حُسْنَ عِبَادَتِكَ، يَا رَبِّ أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ، يَا رَبِّ افْتَحْ لِي بِخَيْرٍ، وَاخْتِمْ لِي بِخَيْرٍ، وَآتِنِي شَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ مِنْ غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، وَقِنِي السَّيِّئَاتِ، وَمَنْ تَقِ السَّيِّئَاتِ فَقَدْ رَحِمْتَهُ، وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ، ثُمَّ مَا كَانَ مِنْ دُعَائِكُمْ فَلْيَكُنْ فِي تَضَرُّعٍ وَإِخْلَاصٍ؛ فَإِنَّهُ يُحِبُّ تَضَرُّعَ عَبْدِهِ إِلَيْهِ.
ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللهِ كَانَ يَقُومُ بِالْهَاجِرَةِ حِينَ تَرْتَفِعُ الشَّمْسُ فَيُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَيَقْرَأُ فِيهِنَّ بِسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ طِوَالٍ وَقِصَارٍ، ثُمَّ لَا يَلْبَثُ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى يُصَلِّيَ صَلَاةَ الظُّهْرِ، فَيُطِيلَ الْقِيَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، يَقْرَأُ فِيهِمَا بِسُورَتَيْنِ بِـ الْم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، وَمِثْلِهَا مِنَ الْمَثَانِي، فَإِذَا صَلَّى الظُّهْرَ رَكَعَ بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَمْكُثُ حَتَّى إِذَا تَصَوَّبَتِ الشَّمْسُ وَعَلَيْهِ نَهَارٌ طَوِيلٌ صَلَّى صَلَاةَ الْعَصْرِ، وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِسُورَتَيْنِ مِنَ الْمَثَانِي، أَوِ الْمُفَصَّلِ، وَهُمَا أَقْصَرُ مِمَّا قَرَأَ بِهِ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ، فَإِذَا قَضَى صَلَاةَ الْعَصْرِ لَمْ يُصَلِّ بَعْدَهَا حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَإِذَا رَآهَا قَدْ تَوَلَّتْ صَلَّى صَلَاةَ الْمَغْرِبِ الَّتِي تُسَمُّونَهَا الْعِشَاءَ، وَيَقْرَأُ فِيهِمَا بِسُورَتَيْنِ مِنْ قِصَارِ الْمُفَصَّلِ؛ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَنَحْوًا مِنْهَا مِنْ قِصَارِ الْمُفَصَّلِ، ثُمَّ يَرْكَعُ بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُقْسِمُ عَلَيْهَا شَيْئًا لَا يُقْسِمُهُ عَلَى شَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ، بِاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّ هَذِهِ السَّاعَةَ لِمِيقَاتُ هَذِهِ الصَّلَاةِ، وَيَقُولُ تَصْدِيقُهَا {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا} [الإسراء: ٧٨] ، وَهِيَ الَّتِي يُسَمُّونَ صَلَاةَ الصُّبْحِ ، وَعِنْدَهَا يَجْتَمِعُ الْحَرَسَانِ، كَانَ يَعِزُّ عَلَيْهِ أَنْ يَسْمَعَ مُتَكَلِّمًا تِلْكَ السَّاعَةَ إِلَّا بِذِكْرِ اللهِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، ثُمَّ يَمْكُثُ بَعْدُ حَتَّى يُصَلِّيَ الْعِشَاءَ، الَّتِي تُسَمُّونَ الْعَتَمَةَ، وَيَقْرَأُ فِيهَا بِخَوَاتِمِ آلِ عِمْرَانَ {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ} إِلَى خَاتِمَتِهَا، وَبِخَوَاتِيمِ سُورَةِ الْفُرْقَانِ {تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا} [الفرقان: ٦١] إِلَى خَاتِمَتِهَا، فِي تَرَسُّلٍ وَحُسْنِ صَوْتٍ بِالْقُرْآنِ، وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّ حُسْنَ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ زِينَةٌ لَهُ، فَإِنْ لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِخَوَاتِيمِ هَاتَيْنِ قَرَأَ نَحْوَهُمَا مِنَ الْمَثَانِي أَوِ الْمُفَصَّلِ، فَإِذَا قَضَى صَلَاةَ الْعِشَاءِ رَكَعَ بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ شَيْءٍ مِنَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَاةُ الْجُمُعَةِ، فَإِنَّمَا كَانَ يُصَلِّي بَعْدَهَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَامَ فَأَوْتَرَ مَا قَدَّرَ اللهُ مِنَ الصَّلَاةِ، إِمَّا تِسْعًا وَإِمَّا سَبْعًا، أَوَ فَوْقَ ذَلِكَ، حَتَّى إِذَا كَانَ حِينَ يَنْشَقُّ الْفَجْرُ وَرَأَى الْأُفُقَ وَعَلَيْهِ مِنَ اللَّيْلِ ظُلْمَةٌ، قَامَ فَصَلَّى الصُّبْحَ، فَقَرَأَ فِيهِمَا بِسُورَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ بِالرَّعْدِ وَمِثْلِهَا مِنَ الْمَثَانِي، حَتَّى يُتَّهَمَ أَنْ يُضِئَ الصُّبْحُ، وَكَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ مِنَ الصَّلَاةِ حَتَّى يَقُومَ لَهَا، وَكَانَ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَسْتَوِي قَائِمًا، ثُمَّ يَحْمَدُ رَبَّهُ وَيُسَبِّحُهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ يُكَبِّرُ للسَّجْدَةِ حَتَّى يَخِرَّ سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَسْتَوِي قَاعِدًا وَيَحْمَدُ رَبَّهُ وَيُسَبِّحُهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ للسَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ مِنْهَا رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، ثُمَّ يَقُومُ مِنَ الْقَعْدَةِ، فَإِذَا صَلَّى صَلَاتَهُ سَلَّمَ مَرَّتَيْنِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَلْتَفِتَ أَوَ يُشِيرَ بِيَدِهِ، ثُمَّ يَعْمَدُ إِلَى حَاجَتِهِ إِنْ كَانَ عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، وَكَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ خَفَضَ فِيهَا صَوْتَهُ وَبَدَنَهُ، وَكَانَ عَامَّةُ قَوْلِهِ وَهُوَ قَائِمٌ أَنْ يُسَبِّحَ، وَكَانَ تَسْبِيحُهُ فِيهَا: سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، لَا يَفْتُرُ مِنْ ذَلِكَ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ ﷺ کو جامع کلمات عطا کیے گئے تھے، آپ ﷺ ہمیں سکھاتے تھے کہ نماز میں جب ہم بیٹھیں تو کیا کہیں: ”تمام تعظیمیں، نمازیں اور پاکیزہ کلمات اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“، پھر اس کے بعد جو چاہے مانگے اور اللہ کی رحمت و مغفرت کی طرف رغبت کرے - یہ چند مختصر الفاظ ہیں، ان کے ساتھ بیٹھنا طویل نہ کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے: مجھے پسند ہے کہ جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے اور تشہد پورا کر لے تو اس کے بعد یہ کہے: (اے اللہ!) تو پاک ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میرا گناہ بخش دے اور میرا عمل درست فرما؛ بے شک تو جسے چاہے گناہ بخش دیتا ہے، اور تو ہی بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ اے بہت بخشنے والے! مجھے بخش دے۔ اے توبہ قبول کرنے والے! میری توبہ قبول فرما۔ اے رحمان! مجھ پر رحم فرما۔ اے معاف کرنے والے! مجھے معاف فرما۔ اے مہربان! مجھ پر مہربانی فرما۔ اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر کی، اور مجھے اچھی عبادت کا حلہ پہنا۔ اے میرے رب! میں تجھ سے ہر بھلائی مانگتا ہوں، اور ہر برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے میرے رب! میرا آغاز بھلائی سے کر، اور میرا انجام بھلائی پر کر، اور بغیر کسی نقصان دہ تکلیف اور گمراہ کن فتنے کے مجھے اپنی ملاقات کا شوق عطا فرما، اور مجھے برائیوں سے بچا؛ اور جسے تو برائیوں سے بچا لے اس پر تو رحم فرما چکا، اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ پھر جو دعا بھی تم کرو وہ عاجزی اور اخلاص کے ساتھ ہو، کیونکہ اللہ اپنے بندے کی اپنے سامنے عاجزی پسند کرتا ہے۔
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ دوپہر کے وقت جب سورج بلند ہو جاتا تو کھڑے ہو کر چار رکعتیں پڑھتے، جن میں لمبی اور چھوٹی سورتیں پڑھتے، پھر تھوڑی دیر ٹھہر کر ظہر کی نماز پڑھتے، جس کی پہلی دو رکعتوں میں لمبا قیام کرتے، ان میں دو سورتیں پڑھتے: الم تنزیل السجدہ اور اسی جیسی ایک مثانی سورت۔ جب ظہر پڑھ لیتے تو اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے۔ پھر ٹھہرتے یہاں تک کہ سورج ڈھلنے لگتا اور دن ابھی کافی باقی ہوتا تو عصر کی نماز پڑھتے، جس کی پہلی دو رکعتوں میں مثانی یا مفصل کی دو سورتیں پڑھتے، جو ظہر میں پڑھی جانے والی سورتوں سے چھوٹی ہوتیں۔ عصر پڑھنے کے بعد پھر سورج غروب ہونے تک کوئی نماز نہ پڑھتے۔ جب سورج غروب ہوتا دیکھتے تو مغرب کی نماز پڑھتے، جسے تم عشاء کہتے ہو، اس میں مفصل کی چھوٹی سورتیں جیسے والیل اذا یغشیٰ اور سبح اسم ربک الاعلیٰ یا ان جیسی سورتیں پڑھتے، پھر اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے۔ اس نماز پر ایسی قسم کھاتے جو کسی اور نماز پر نہ کھاتے: اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، یہ وقت اسی نماز کا مقررہ وقت ہے، اور کہتے کہ اس کی تصدیق یہ آیت کرتی ہے: ”نماز قائم کرو سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک، اور فجر کی قرآت کو بھی، بے شک فجر کی قرآت مشہود ہوتی ہے“ [سورۃ الاسراء: 78] - اور یہی وہ نماز ہے جسے تم صبح کی نماز کہتے ہو، اور اسی وقت دونوں پہرے دار (رات اور دن کے فرشتے) جمع ہوتے ہیں۔ انہیں یہ بات گراں گزرتی کہ اس وقت کسی کی بات ذکرِ الٰہی اور قرآت قرآن کے سوا سنیں۔ پھر اس کے بعد ٹھہرتے یہاں تک کہ عشاء کی نماز پڑھتے، جسے تم عتمہ کہتے ہو، اس میں سورۃ آل عمران کے آخری حصے ”ان فی خلق السموات والارض“ (بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں) سے آخر تک اور سورۃ الفرقان کے آخری حصے ”تبارک الذی جعل فی السماء بروجا“ (بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے) [سورۃ الفرقان: 61] سے آخر تک، آہستگی اور خوش الحانی سے پڑھتے، اور فرماتے: قرآن کو خوش الحانی سے پڑھنا اس کی زینت ہے۔ اگر ان دونوں کے آخری حصے نہ پڑھتے تو اسی جیسی مثانی یا مفصل کی سورتیں پڑھتے۔ عشاء پڑھنے کے بعد اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے۔ کسی بھی فرض نماز کے بعد صرف دو رکعتیں پڑھتے، سوائے جمعہ کے، جس کے بعد چار رکعتیں پڑھتے۔ یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ ہوتا تو کھڑے ہو کر جتنی اللہ نے مقدر کی اتنی وتر کی نماز پڑھتے، کبھی نو رکعتیں، کبھی سات، یا اس سے زیادہ۔ یہاں تک کہ جب فجر پھٹنے لگتی اور افق نظر آتا جبکہ رات کی تاریکی ابھی باقی ہوتی تو کھڑے ہو کر فجر کی نماز پڑھتے، جس میں دو لمبی سورتیں پڑھتے: سورۃ الرعد اور اسی جیسی ایک مثانی سورت، یہاں تک کہ صبح روشن ہونے کا گمان ہونے لگتا۔ نماز کی ہر حرکت پر تکبیر کہتے یہاں تک کہ اس کے لیے کھڑے ہوتے۔ جب سر اٹھاتے تو ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہتے، پھر سیدھے کھڑے ہو کر اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے۔ پھر سجدے کے لیے تکبیر کہتے یہاں تک کہ سجدے میں گر جاتے۔ پھر سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے، پھر سیدھے بیٹھ کر اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے۔ پھر دوسرے سجدے کے لیے تکبیر کہتے، پھر اس سے سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے، پھر (کھڑے ہونے کے لیے) تکبیر کہتے، پھر بیٹھک سے کھڑے ہو جاتے۔ جب نماز پوری کرتے تو بغیر اِدھر اُدھر دیکھے یا ہاتھ سے اشارہ کیے دو بار سلام پھیرتے، پھر اپنی ضرورت کی طرف متوجہ ہوتے، خواہ وہ دائیں طرف ہو یا بائیں۔ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنی آواز اور جسم دونوں میں عاجزی اختیار کرتے۔ کھڑے ہونے کی حالت میں زیادہ تر تسبیح ہی کرتے، اور ان کی تسبیح یہ ہوتی: (اے اللہ!) تو پاک ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں - اس سے کبھی نہ تھکتے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9906
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 56، حدیث 9942