المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 9766–9906) باب: (احادیث 9766 تا 9906)
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكِرْمَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أُخْبِرُكَ عَنْ هَدْيِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي الصَّلَاةِ وَفِعْلِهِ وَقَوْلِهِ فِيهَا، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، كَانَ يُعَلِّمُنَا كَيْفَ نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ حِينَ نَقْعُدُ فِيهَا: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ، ثُمَّ يَسْأَلُ مَا بَدَا لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ، وَيَرْغَبُ إِلَيْهِ مِنْ رَحْمَتِهِ وَمَغْفِرَتِهِ، كَلِمَاتٌ يَسِيرَةٌ لَا يُطِيلُ بِهَا الْقُعُودَ، وَكَانَ يَقُولُ: أُحِبُّ أَنْ تَكُونَ مَسْأَلَتُكُمُ اللهَ حِينَ يَقْعُدُ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ وَيَقْضِي التَّحِيَّةَ أَنْ يَقُولَ بَعْدَ ذَلِكَ: سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ، اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَصْلِحْ لِي عَمَلِي؛ إِنَّكَ تَغْفِرُ الذُّنُوبَ لِمَنْ تَشَاءُ، وَأَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ، يَا غَفَّارُ اغْفِرْ لِي، يَا تَوَّابُ تُبْ عَلَيَّ، يَا رَحْمَانُ ارْحَمْنِي، يَا عَفُوُّ اعْفُ عَنِّي، يَا رَءُوفُ ارْأُفْ بِي، يَا رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكَرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ، وَطَوِّقْنِي حُسْنَ عِبَادَتِكَ، يَا رَبِّ أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ، يَا رَبِّ افْتَحْ لِي بِخَيْرٍ، وَاخْتِمْ لِي بِخَيْرٍ، وَآتِنِي شَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ مِنْ غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، وَقِنِي السَّيِّئَاتِ، وَمَنْ تَقِ السَّيِّئَاتِ فَقَدْ رَحِمْتَهُ، وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ، ثُمَّ مَا كَانَ مِنْ دُعَائِكُمْ فَلْيَكُنْ فِي تَضَرُّعٍ وَإِخْلَاصٍ؛ فَإِنَّهُ يُحِبُّ تَضَرُّعَ عَبْدِهِ إِلَيْهِ.
ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللهِ كَانَ يَقُومُ بِالْهَاجِرَةِ حِينَ تَرْتَفِعُ الشَّمْسُ فَيُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَيَقْرَأُ فِيهِنَّ بِسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ طِوَالٍ وَقِصَارٍ، ثُمَّ لَا يَلْبَثُ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى يُصَلِّيَ صَلَاةَ الظُّهْرِ، فَيُطِيلَ الْقِيَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، يَقْرَأُ فِيهِمَا بِسُورَتَيْنِ بِـ الْم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، وَمِثْلِهَا مِنَ الْمَثَانِي، فَإِذَا صَلَّى الظُّهْرَ رَكَعَ بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَمْكُثُ حَتَّى إِذَا تَصَوَّبَتِ الشَّمْسُ وَعَلَيْهِ نَهَارٌ طَوِيلٌ صَلَّى صَلَاةَ الْعَصْرِ، وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِسُورَتَيْنِ مِنَ الْمَثَانِي، أَوِ الْمُفَصَّلِ، وَهُمَا أَقْصَرُ مِمَّا قَرَأَ بِهِ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ، فَإِذَا قَضَى صَلَاةَ الْعَصْرِ لَمْ يُصَلِّ بَعْدَهَا حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَإِذَا رَآهَا قَدْ تَوَلَّتْ صَلَّى صَلَاةَ الْمَغْرِبِ الَّتِي تُسَمُّونَهَا الْعِشَاءَ، وَيَقْرَأُ فِيهِمَا بِسُورَتَيْنِ مِنْ قِصَارِ الْمُفَصَّلِ؛ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَنَحْوًا مِنْهَا مِنْ قِصَارِ الْمُفَصَّلِ، ثُمَّ يَرْكَعُ بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُقْسِمُ عَلَيْهَا شَيْئًا لَا يُقْسِمُهُ عَلَى شَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ، بِاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّ هَذِهِ السَّاعَةَ لِمِيقَاتُ هَذِهِ الصَّلَاةِ، وَيَقُولُ تَصْدِيقُهَا {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا} [الإسراء: ٧٨] ، وَهِيَ الَّتِي يُسَمُّونَ صَلَاةَ الصُّبْحِ ، وَعِنْدَهَا يَجْتَمِعُ الْحَرَسَانِ، كَانَ يَعِزُّ عَلَيْهِ أَنْ يَسْمَعَ مُتَكَلِّمًا تِلْكَ السَّاعَةَ إِلَّا بِذِكْرِ اللهِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، ثُمَّ يَمْكُثُ بَعْدُ حَتَّى يُصَلِّيَ الْعِشَاءَ، الَّتِي تُسَمُّونَ الْعَتَمَةَ، وَيَقْرَأُ فِيهَا بِخَوَاتِمِ آلِ عِمْرَانَ {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ} إِلَى خَاتِمَتِهَا، وَبِخَوَاتِيمِ سُورَةِ الْفُرْقَانِ {تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا} [الفرقان: ٦١] إِلَى خَاتِمَتِهَا، فِي تَرَسُّلٍ وَحُسْنِ صَوْتٍ بِالْقُرْآنِ، وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّ حُسْنَ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ زِينَةٌ لَهُ، فَإِنْ لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِخَوَاتِيمِ هَاتَيْنِ قَرَأَ نَحْوَهُمَا مِنَ الْمَثَانِي أَوِ الْمُفَصَّلِ، فَإِذَا قَضَى صَلَاةَ الْعِشَاءِ رَكَعَ بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ شَيْءٍ مِنَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَاةُ الْجُمُعَةِ، فَإِنَّمَا كَانَ يُصَلِّي بَعْدَهَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَامَ فَأَوْتَرَ مَا قَدَّرَ اللهُ مِنَ الصَّلَاةِ، إِمَّا تِسْعًا وَإِمَّا سَبْعًا، أَوَ فَوْقَ ذَلِكَ، حَتَّى إِذَا كَانَ حِينَ يَنْشَقُّ الْفَجْرُ وَرَأَى الْأُفُقَ وَعَلَيْهِ مِنَ اللَّيْلِ ظُلْمَةٌ، قَامَ فَصَلَّى الصُّبْحَ، فَقَرَأَ فِيهِمَا بِسُورَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ بِالرَّعْدِ وَمِثْلِهَا مِنَ الْمَثَانِي، حَتَّى يُتَّهَمَ أَنْ يُضِئَ الصُّبْحُ، وَكَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ مِنَ الصَّلَاةِ حَتَّى يَقُومَ لَهَا، وَكَانَ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَسْتَوِي قَائِمًا، ثُمَّ يَحْمَدُ رَبَّهُ وَيُسَبِّحُهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ يُكَبِّرُ للسَّجْدَةِ حَتَّى يَخِرَّ سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَسْتَوِي قَاعِدًا وَيَحْمَدُ رَبَّهُ وَيُسَبِّحُهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ للسَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ مِنْهَا رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، ثُمَّ يَقُومُ مِنَ الْقَعْدَةِ، فَإِذَا صَلَّى صَلَاتَهُ سَلَّمَ مَرَّتَيْنِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَلْتَفِتَ أَوَ يُشِيرَ بِيَدِهِ، ثُمَّ يَعْمَدُ إِلَى حَاجَتِهِ إِنْ كَانَ عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، وَكَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ خَفَضَ فِيهَا صَوْتَهُ وَبَدَنَهُ، وَكَانَ عَامَّةُ قَوْلِهِ وَهُوَ قَائِمٌ أَنْ يُسَبِّحَ، وَكَانَ تَسْبِيحُهُ فِيهَا: سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، لَا يَفْتُرُ مِنْ ذَلِكَسیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ ﷺ کو جامع کلمات عطا کیے گئے تھے، آپ ﷺ ہمیں سکھاتے تھے کہ نماز میں جب ہم بیٹھیں تو کیا کہیں: ”التحیات للہ والصلوات والطیبات، السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین، اشھد ان لا الہ الا اللہ“، پھر اس کے بعد جو چاہے مانگے اور اللہ کی رحمت و مغفرت کی طرف رغبت کرے - یہ چند مختصر الفاظ ہیں، ان کے ساتھ بیٹھنا طویل نہ کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے: مجھے پسند ہے کہ جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے اور تشہد پورا کر لے تو اس کے بعد یہ کہے: سبحانک لا الہ غیرک، میرا گناہ بخش دے اور میرا عمل درست فرما؛ بے شک تو جسے چاہے گناہ بخش دیتا ہے، اور تو ہی بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ اے بہت بخشنے والے! مجھے بخش دے۔ اے توبہ قبول کرنے والے! میری توبہ قبول فرما۔ اے رحمان! مجھ پر رحم فرما۔ اے معاف کرنے والے! مجھے معاف فرما۔ اے مہربان! مجھ پر مہربانی فرما۔ اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر کی، اور مجھے اچھی عبادت کا حلہ پہنا۔ اے میرے رب! میں تجھ سے ہر بھلائی مانگتا ہوں، اور ہر برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے میرے رب! میرا آغاز بھلائی سے کر، اور میرا انجام بھلائی پر کر، اور بغیر کسی نقصان دہ تکلیف اور گمراہ کن فتنے کے مجھے اپنی ملاقات کا شوق عطا فرما، اور مجھے برائیوں سے بچا؛ اور جسے تو برائیوں سے بچا لے اس پر تو رحم فرما چکا، اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ پھر جو دعا بھی تم کرو وہ عاجزی اور اخلاص کے ساتھ ہو، کیونکہ اللہ اپنے بندے کی اپنے سامنے عاجزی پسند کرتا ہے۔
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ جب سورج بلند ہونے پر دوپہر سے پہلے کھڑے ہوتے تو چار رکعتیں پڑھتے، جن میں لمبی اور چھوٹی سورتیں پڑھتے، پھر تھوڑی دیر ٹھہر کر ظہر کی نماز پڑھتے، جس کی پہلی دو رکعتوں میں لمبا قیام کرتے، ان میں الم تنزیل السجدہ جیسی دو سورتیں اور اسی جیسی مثانی سورتیں پڑھتے۔ جب ظہر پڑھ لیتے تو اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے۔ پھر ٹھہرتے یہاں تک کہ سورج ڈھلنے لگتا اور دن ابھی کافی باقی ہوتا تو عصر کی نماز پڑھتے، جس کی پہلی دو رکعتوں میں مثانی یا مفصل کی دو سورتیں پڑھتے، جو ظہر میں پڑھی جانے والی سورتوں سے چھوٹی ہوتیں۔ عصر پڑھنے کے بعد پھر سورج غروب ہونے تک کوئی نماز نہ پڑھتے۔ جب سورج غروب ہوتا دیکھتے تو مغرب کی نماز پڑھتے، جسے تم عشاء کہتے ہو، اس میں مفصل کی چھوٹی سورتیں جیسے والیل اذا یغشیٰ اور سبح اسم ربک الاعلیٰ یا ان جیسی سورتیں پڑھتے، پھر اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے۔ اس نماز پر ایسی قسم کھاتے جو کسی اور نماز پر نہ کھاتے: اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، یہ وقت اسی نماز کا مقررہ وقت ہے، اور کہتے کہ اس کی تصدیق یہ آیت کرتی ہے: ”نماز قائم کرو سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک، اور فجر کی قرآت کو بھی، بے شک فجر کی قرآت مشہود ہوتی ہے“ [سورۃ الاسراء: 78] - اور یہی وہ نماز ہے جسے تم صبح کی نماز کہتے ہو، اور اسی وقت دونوں پہرے دار (رات اور دن کے فرشتے) جمع ہوتے ہیں۔ انہیں یہ بات گراں گزرتی کہ اس وقت کسی کی بات ذکرِ الٰہی اور قرآت قرآن کے سوا سنیں۔ پھر اس کے بعد ٹھہرتے یہاں تک کہ عشاء کی نماز پڑھتے، جسے تم عتمہ کہتے ہو، اس میں سورۃ آل عمران کے آخری حصے ”ان فی خلق السموات والارض“ سے آخر تک اور سورۃ الفرقان کے آخری حصے ”تبارک الذی جعل فی السماء بروجا“ [سورۃ الفرقان: 61] سے آخر تک، آہستگی اور خوش الحانی سے پڑھتے، اور فرماتے: قرآن کو خوش الحانی سے پڑھنا اس کی زینت ہے۔ اگر ان دونوں کے آخری حصے نہ پڑھتے تو اسی جیسی مثانی یا مفصل کی سورتیں پڑھتے۔ عشاء پڑھنے کے بعد اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے۔ کسی بھی فرض نماز کے بعد صرف دو رکعتیں پڑھتے، سوائے جمعہ کے، جس کے بعد چار رکعتیں پڑھتے۔ یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ ہوتا تو کھڑے ہو کر جتنی اللہ نے مقدر کی اتنی وتر کی نماز پڑھتے، کبھی نو رکعتیں، کبھی سات، یا اس سے زیادہ۔ یہاں تک کہ جب فجر پھٹنے لگتی اور افق نظر آتا جبکہ رات کی تاریکی ابھی باقی ہوتی تو کھڑے ہو کر فجر کی نماز پڑھتے، جس میں سورۃ الرعد جیسی دو لمبی سورتیں یا اسی جیسی مثانی سورتیں پڑھتے، یہاں تک کہ صبح روشن ہونے کا گمان ہونے لگتا۔ نماز کی ہر حرکت پر تکبیر کہتے یہاں تک کہ اس کے لیے کھڑے ہوتے۔ جب سر اٹھاتے تو ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہتے، پھر سیدھے کھڑے ہو کر اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے۔ پھر سجدے کے لیے تکبیر کہتے یہاں تک کہ سجدے میں گر جاتے۔ پھر سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے، پھر سیدھے بیٹھ کر اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے۔ پھر دوسرے سجدے کے لیے تکبیر کہتے، پھر اس سے سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے، پھر (کھڑے ہونے کے لیے) تکبیر کہتے، پھر بیٹھک سے کھڑے ہو جاتے۔ جب نماز پوری کرتے تو بغیر اِدھر اُدھر دیکھے یا ہاتھ سے اشارہ کیے دو بار سلام پھیرتے، پھر اپنی ضرورت کی طرف متوجہ ہوتے، خواہ وہ دائیں طرف ہو یا بائیں۔ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنی آواز اور جسم دونوں میں عاجزی اختیار کرتے۔ کھڑے ہونے کی حالت میں زیادہ تر تسبیح ہی کرتے، اور ان کی تسبیح یہ ہوتی: سبحانک لا الہ الا انت - اس سے کبھی نہ تھکتے۔