حدیث نمبر: 9905
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْأَزْدِيِّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ يَقُولُ: إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَقُلِ: التَّحِيَّاتُ، فَذَكَرَ التَّشَهُّدَ ثُمَّ قَالَ: لِيَقُلِ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عِبَادُكَ الصَّالِحُونَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِهِ عِبَادُكَ الصَّالِحُونَ، رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي وَالْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ، رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا، وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا، وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ، رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ، وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ "
ترجمہ

عمیر بن سعید کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو کہے: التحیات - پھر انہوں نے تشہد کے الفاظ بیان کیے - پھر کہا: پھر یہ کہے: ”اے اللہ! میں تجھ سے ہر بھلائی مانگتا ہوں، جسے میں جانتا ہوں اور جسے نہیں جانتا، اور ہر برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جسے میں جانتا ہوں اور جسے نہیں جانتا۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا سوال کرتا ہوں جس کا سوال تیرے نیک بندوں نے کیا، اور اس برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس سے تیرے نیک بندوں نے پناہ مانگی۔ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔ اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس ہمارے گناہ بخش دے، اور ہماری برائیاں دور فرما، اور ہمیں نیکوں کے ساتھ (موت) دے۔ اے ہمارے رب! ہمیں وہ عطا فرما جس کا تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے وعدہ کیا، اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کر؛ بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9905
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 56، حدیث 9941