کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: معان بن رفاعہ سلامی کی علی بن یزید سے روایات
❮
❯
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي فِي شِدَّةِ حَرٍّ انْقَطَعَ شِسْعُهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ بِشِسْعٍ، فَوَضَعَهُ فِي نَعْلِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ تَعْلَمُ مَا حَمَلْتَ عَلَيْهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَوْ تَعْلَمُ مَا حَمَلْتَ عَلَيْهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سخت گرمی میں چل رہے تھے کہ آپ ﷺ کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا، تو ایک آدمی تسمہ لے آیا اور اسے آپ ﷺ کے جوتے میں لگا دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ تم نے رسول اللہ ﷺ پر کتنا بڑا احسان کر دیا ہے، اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ تم نے رسول اللہ ﷺ پر کتنا بڑا احسان کر دیا ہے (تو تم حیران رہ جاؤ)۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7834
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 215، حدیث 7865
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ، وَهُوَ يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ، فَقَالَ: «أَوْجَبَ هَذَا، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو ”قل ھو اللہ احد“ پڑھ رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے (جنت کو اپنے اوپر) واجب کر لیا، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7835
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 215، حدیث 7866
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: لَمَّا كَانَ حَجَّةُ الْوَدَاعِ، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُرْدِفٌ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، خُذُوا مِنَ الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ الْعِلْمُ، وَقَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ» . وَقَدْ كَانَ أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمِنٌوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: ١٠١] الْآيَةَ، فَكُنَّا نَذْكُرُهَا كَثِيرًا، فَتَمْنَعُنَا مِنْ مَسْأَلَتِهِ. فَأَتَيْنَا أَعْرَابِيًّا فَرَشَوْنَاهُ بُرْدًا، فَأَعْتَمَ بِهِ حَتَّى رَأَيْتُ حَاشِيَةَ الْبُرْدِ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ قُلْنَا: سَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ كَيْفَ يُرْفَعُ الْعِلْمُ مِنَّا، وَبَيْنَ أَظْهُرِنَا الْمَصَاحِفُ قَدْ تَعَلَّمْنَا فِيهَا، وَعَلَّمْنَاهَا نِسَاءَنَا وَذَرَارِيَّنَا وَخَدَمَنَا، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، وَقَدْ عَلَتْ وَجْهَهُ حُمْرَةٌ مِنَ الْغَضَبِ، فَقَالَ: «أَيْ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، وَهَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى بَيْنَ أَظْهُرِهِمِ الْمَصَاحِفُ، لَمْ يُصْبِحُوا يَتَعَلَّقُوا بِالْحَرْفِ مِمَّا جَاءَتْهُمْ بِهِ أَنْبِيَاؤُهُمْ، أَلَا وَإِنَّ مِنْ ذَهَابِ الْعِلْمِ أَنْ يَذْهَبَ أَهْلُهُ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب حجۃ الوداع کا موقع آیا تو نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے، اس وقت آپ ﷺ کے پیچھے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما اونٹ پر سوار تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! علم حاصل کر لو اس سے پہلے کہ علم اٹھا لیا جائے، اور اس سے پہلے کہ علم بلند کر دیا جائے۔“ اور اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی تھی: ”اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جو اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں“ [سورۃ المائدہ: 101] — تو ہم اسے بہت یاد رکھتے تھے، جو ہمیں آپ ﷺ سے سوال کرنے سے روکے رکھتی تھی۔ چنانچہ ہم ایک دیہاتی کے پاس گئے اور اسے ایک چادر کی رشوت دی، اس نے وہ چادر اوڑھ لی یہاں تک کہ میں نے چادر کا کنارہ اس کی دائیں بھنوں پر دیکھا، پھر ہم نے اس سے کہا: نبی کریم ﷺ سے سوال کرو۔ تو اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم سے علم کیسے اٹھا لیا جائے گا جبکہ ہمارے درمیان قرآن کے نسخے موجود ہیں، ہم نے ان سے سیکھا ہے، اور اپنی عورتوں، اپنی اولاد اور اپنے خادموں کو بھی سکھایا ہے؟ تو نبی کریم ﷺ نے اپنا سر اٹھایا، غصے سے آپ ﷺ کے چہرے پر سرخی آ گئی، پھر فرمایا: ”تیری ماں تجھ پر روئے! یہ یہود و نصاریٰ بھی، جن کے درمیان صحیفے موجود ہیں، پھر بھی انہوں نے اپنے انبیاء کی لائی ہوئی کسی بات پر عمل نہیں کیا۔ سن لو! علم کے اٹھ جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اہل اٹھ جائیں“ — تین بار فرمایا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7836
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 215، حدیث 7867
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ مِنْ سَرَايَاهُ، فَمَرَّ رَجُلٌ بِغَارٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ، فَجَذَبَتْهُ نَفْسُهُ أَنْ يُقِيمَ فِي ذَلِكَ الْغَارِ، فَيَقُوتَ مَا فِيهِ مِنْ مَاءٍ، وَيُصِيبُ مِمَّا حَوْلَهُ مِنَ الْبَقْلِ، وَيَتَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا، ثُمَّ قَالَ: لَوْ أَنِّي أَتَيْتُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَإِنْ أَذِنَ لِي فَعَلْتُ، وَإِلَّا لَمْ أَفْعَلْ. فَأَتَاهُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي مَرَرْتُ بِغَارٍ فِيهِ مَا يَقُوتُنِي مِنَ الْمَاءِ وَالْبَقْلِ، فَحَدَّثَتْنِي نَفْسِي بِأَنْ أُقِيمَ، وَأَتَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِالْيَهُودِيَّةِ وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ، وَلَكِنِّي بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَغَدَاةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَمَقَامُ أَحَدِكُمْ فِي الصَّفِّ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهِ سِتِّينَ سَنَةً»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے کسی غزوے میں نکلے، تو ایک آدمی ایک غار کے پاس سے گزرا جس میں کچھ پانی تھا، تو اس کے دل نے چاہا کہ وہ اسی غار میں ٹھہر جائے، اس میں موجود پانی پر گزارا کرے، اور اردگرد کے ساگ سے کچھ کھا لے، اور دنیا سے کنارہ کش ہو جائے۔ پھر اس نے کہا: کاش میں اللہ کے نبی ﷺ کے پاس جاؤں اور یہ بات ان سے ذکر کروں، اگر آپ ﷺ مجھے اجازت دیں تو میں ایسا کر لوں گا، ورنہ نہیں کروں گا۔ چنانچہ وہ آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں ایک غار کے پاس سے گزرا جس میں مجھے پانی اور ساگ کی صورت میں اتنا کچھ ملا جو میرے لیے کافی ہے، تو میرے دل نے کہا کہ میں یہیں ٹھہر جاؤں اور دنیا سے کنارہ کش ہو جاؤں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے یہودیت یا نصرانیت کے ساتھ نہیں بھیجا گیا، بلکہ مجھے آسان اور سیدھی حنیفیت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ کے راستے میں صبح یا شام کا ایک سفر دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کا صف میں کھڑا ہونا اس کی ساٹھ سال کی نماز سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7837
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 216، حدیث 7868
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ، فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ، وَقَرَّ ذَلِكَ نَفْسَهُ، فَحَبَسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلَّا يَقَعَ فِي قَلْبِهِ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ، فَلَمَّا مَرَّ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ إِذَا بِقَبْرَيْنِ قَدْ دَفَنُوا فِيهِمَا رَجُلَيْنِ، فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ دَفَنْتُمْ هَهُنَا الْيَوْمَ؟» قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، فُلَانُ. قَالَ: «إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ الْآنَ وَيُفْتَنَانِ فِي قَبْرَيْهِمَا» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: «أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، وَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَتَنَزَّهُ مِنَ الْبَوْلِ» . وَأَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا، ثُمَّ جَعَلَهَا عَلَى الْقَبْرَيْنِ. قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، وَلِمَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: «لِيُخَفِّفَ عَنْهُمَا» . قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، وَحَتَّى مَتَى يُعَذَّبَانِ؟ قَالَ: «غَيْبٌ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللهُ» . قَالَ: «وَلَوْلَا تَمْرِيجًا فِي قُلُوبِكُمْ، أَوْ تَزَيُّدُكُمْ فِي الْحَدِيثِ سَمِعْتُمْ مَا أَسْمَعُ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ ایک سخت گرمی کے دن بقیعِ غرقد کی طرف سے گزرے، اور لوگ آپ ﷺ کے پیچھے چل رہے تھے، تو جب آپ ﷺ نے جوتوں کی آواز سنی، اور یہ بات آپ ﷺ کے دل پر گراں گزری، تو آپ ﷺ رک گئے یہاں تک کہ انہیں اپنے آگے کر دیا، تاکہ آپ ﷺ کے دل میں تکبر کا کوئی شائبہ نہ آئے۔ جب آپ ﷺ بقیعِ غرقد سے گزرے تو دیکھا کہ دو قبروں میں دو آدمی دفن کیے گئے ہیں، نبی کریم ﷺ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”آج تم نے یہاں کسے دفن کیا؟“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! فلاں فلاں کو۔ فرمایا: ”یہ دونوں اس وقت اپنی قبروں میں عذاب اور آزمائش میں ہیں۔“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! اس کی وجہ کیا ہے؟ فرمایا: ”ان میں سے ایک چغل خوری کیا کرتا تھا، اور دوسرا پیشاب سے بچاؤ نہیں کرتا تھا۔“ پھر آپ ﷺ نے ایک ہری ٹہنی لی، اسے چیرا، پھر اسے دونوں قبروں پر رکھ دیا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا: ”تاکہ ان دونوں کا عذاب ہلکا ہو جائے۔“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ عذاب کب تک رہے گا؟ فرمایا: ”یہ ایک غیب کی بات ہے جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ فرمایا: ”اگر تمہارے دلوں میں شک نہ پڑ جاتا، یا تم بات میں بڑھا چڑھا کر بیان نہ کرتے، تو تم بھی وہی سنتے جو میں سنتا ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7838
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 216، حدیث 7869
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: جَلَسْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَّرَنَا وَرَقَّفَنَا، فَبَكَى سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ وَقَالَ: يَا لَيْتَنِي مُتُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا سَعْدُ، أَعِنْدِي تَمَنَّ الْمَوْتَ؟» فَرَدَّدَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: «يَا سَعْدُ، إِنْ تَكُ خُلِقْتَ لِلْجَنَّةِ، فَمَا طَالَ عُمُرُكَ وَحَسُنَ عَمَلُكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ، وَإِنْ تَكُنْ خُلِقْتَ لِلنَّارِ، فَبِئْسَتِ الَّتِي الشَّيْءُ تَتَعَجَّلُ إِلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیٹھے، تو آپ ﷺ نے ہمیں نصیحت کی اور رقت طاری کر دی، تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رونے لگے، بہت زیادہ روئے اور کہنے لگے: کاش میں مر جاتا! تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے سعد! کیا میرے سامنے موت کی تمنا کرتے ہو؟“ آپ ﷺ نے یہ بات تین بار دہرائی، پھر فرمایا: ”اے سعد! اگر تم جنت کے لیے پیدا کیے گئے ہو، تو تمہاری عمر لمبی ہو اور تمہارا عمل اچھا ہو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اور اگر تم جہنم کے لیے پیدا کیے گئے ہو، تو یہ بہت بری بات ہے کہ تم اس کی طرف جلدی کرو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7839
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 217، حدیث 7870
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، وَكَانُوا يَظُنُّونَ الْوَحْيَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، فَأَقْصَرُوا عَنْهُ حَتَّى جَاءَ أَبُو ذَرٍّ، فَافْتَحَمَ فَأَتَاهُ فَجَلَسَ إِلَيْهِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ صَلَّيْتَ الْيَوْمَ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «قُمْ فَصَلِّ» . فَلَمَّا صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتِ الضُّحَى، أَقْبَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ تَعَوَّذْتَ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ؟» قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، وَهَلْ لِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟ قَالَ: «نَعَمْ، شَيَاطِينُ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا»
ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَةً مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ؟» قُلْتُ: بَلَى، جَعَلَنِي اللهُ فِدَاكَ. قَالَ: " قُلْ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ "
ثُمَّ سَكَتَ عَنِّي حَتَّى اسْتَبْطَأْتُ كَلَامَهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّا كُنَّا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ، وَعِبَادَةِ أَوْثَانٍ، فَبَعَثَكَ اللهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ أَرَأَيْتَ الصَّلَاةَ مَاذَا هِيَ؟ قَالَ: «خَيْرٌ مَوْضُوعٌ فَمَنْ شَاءَ اسْتَقَلَّ، وَمَنْ شَاءَ اسْتَكْثَرَ»
قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَرَأَيْتَ الصِّيَامَ مَاذَا هُوَ؟ قَالَ: «أَضْعَافٌ مُضَعَّفَةٌ، وَعِنْدَ اللهِ الْمَزِيدُ»
قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ وَجُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ»
قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «مَنْ سُفِكَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ»
قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَيُّمَا آيَةٍ أُنْزِلَتْ يَا نَبِيَّ اللهِ عَلَيْكَ أَعْظَمُ؟ قَالَ: {اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [البقرة: ٢٥٥] «آيَةُ الْكُرْسِيِّ»
قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «أَغْلَاهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا»
قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، فَأَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ؟ قَالَ: «آدَمُ» . قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَوَ نَبِيٌّ كَانَ آدَمُ؟ قَالَ: " نَعَمْ، نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ خَلْقَهُ اللهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: يَا آدَمُ قِبَلًا "
قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ كَمْ وَفَاءُ عِدَّةِ الْأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ: «مِائَةُ أَلْفٍ وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفًا، الرُّسُلُ مِنْ ذَلِكَ ثَلَاثُمِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے، اور لوگ یہ گمان کرتے تھے کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے، تو وہ آپ ﷺ کے قریب جانے سے رک گئے، یہاں تک کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ آئے، آگے بڑھے اور آپ ﷺ کے پاس بیٹھ گئے، تو آپ ﷺ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے ابو ذر! کیا تم نے آج نماز پڑھی؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: ”کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔“ جب انہوں نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھ لیں تو آپ ﷺ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے ابو ذر! کیا تم نے جن و انس کے شیطانوں کے شر سے پناہ مانگی؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا انسانوں کے بھی شیطان ہوتے ہیں؟ فرمایا: ”ہاں، انس اور جن کے شیطان، جو ایک دوسرے کو دھوکے کے طور پر خوشنما باتیں سکھاتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”اے ابو ذر! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ نہ سکھاؤں؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ فرمایا: ”کہو: لا حول ولا قوۃ الا باللہ (کوئی طاقت اور قوت نہیں سوائے اللہ کی مدد کے)۔“ پھر آپ ﷺ مجھ سے خاموش ہو گئے یہاں تک کہ مجھے آپ ﷺ کی گفتگو دیر سے محسوس ہوئی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم جاہلیت اور بت پرستی والے لوگ تھے، تو اللہ نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا، بتائیے نماز کیا ہے؟ فرمایا: ”ایک بہترین چیز ہے جو مقرر کر دی گئی ہے، جو چاہے کم پڑھے اور جو چاہے زیادہ پڑھے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! روزہ کیا ہے؟ فرمایا: ”کئی گنا بڑھایا ہوا اجر ہے، اور اللہ کے ہاں مزید بھی ہے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! سب سے افضل صدقہ کون سا ہے؟ فرمایا: ”کسی محتاج کو چھپا کر دیا گیا، اور کم مال والے کی محنت سے نکلا ہوا صدقہ۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! سب سے افضل شہید کون ہے؟ فرمایا: ”جس کا خون بہایا گیا اور جس کا گھوڑا زخمی کیا گیا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ پر نازل ہونے والی سب سے عظیم آیت کون سی ہے؟ فرمایا: ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ اور ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے“ [سورۃ البقرہ: 255] — ”آیت الکرسی۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! سب سے افضل غلام (آزاد کرنا) کون سا ہے؟ فرمایا: ”جو سب سے مہنگا ہو، اور اپنے مالکوں کے نزدیک سب سے قیمتی ہو۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ فرمایا: ”آدم علیہ السلام۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ فرمایا: ”ہاں، وہ ایک ایسے نبی تھے جن سے اللہ نے کلام کیا، اللہ نے انہیں اپنے دستِ قدرت سے پیدا کیا، اور ان میں اپنی روح پھونکی، پھر ان سے فرمایا: اے آدم! سامنے آ جاؤ۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! انبیاء کی کل تعداد کتنی ہے؟ فرمایا: ”ایک لاکھ چوبیس ہزار، اور ان میں سے رسول تین سو پندرہ ہیں، ایک بڑی جماعت۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7840
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 217، حدیث 7871
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللهِ بَعَّدَ اللهُ بَيْنَهُ، وَبَيْنَ جَهَنَّمَ مَسِيرَةَ مِائَةِ عَامٍ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھے، اللہ اس کے اور جہنم کے درمیان سو سال کا فاصلہ کر دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7841
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 218، حدیث 7872
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ ثَعْلَبَةَ بْنَ حَاطِبٍ الْأَنْصَارِيَّ، أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَرْزُقَنِي اللهُ. قَالَ: «وَيْحَكَ يَا ثَعْلَبَةُ، قَلِيلٌ تُؤَدِّي شُكْرَهُ خَيْرٌ مِنْ كَثِيرٍ لَا تُطِيقُهُ»
ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَرْزُقَنِي مَالًا، قَالَ: «وَيْحَكَ يَا ثَعْلَبَةُ، أَمَا تُرِيدُ أَنْ تَكُونَ مِثْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهِ لَوْ سَأَلْتَ أَنْ يَسِيلَ لِيَ الْجِبَالَ ذَهَبًا وَفِضَّةً لَسَالَتْ»
ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَرْزُقَنِي مَالًا، وَاللهِ لَئِنْ أَتَانِي اللهُ مَالًا لَأُوتِيَنَّ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ ارْزُقْ ثَعْلَبَةَ مَالًا» فَاتَّخَذَ غَنَمًا، فَنَمَتْ كَمَا يَنْمُو الدُّودُ حَتَّى ضَاقَتْ عَنْهَا أَزِقَّةُ الْمَدِينَةِ، فَتَنَحَّى بِهَا، وَكَانَ يَشْهَدُ الصَّلَاةَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَيْهَا، ثُمَّ نَمَتْ حَتَّى تَعَذَّرَتْ عَلَيْهِ مَرَاعِي الْمَدِينَةِ، فَتَنَحَّى بِهَا، فَكَانَ يَشْهَدُ الْجُمُعَةَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَيْهَا، ثُمَّ نَمَتْ فَتَنَحَّى بِهَا، فَتَرَكَ الْجُمُعَةَ وَالْجَمَاعَاتِ فَيَتَلَقَّى الرُّكْبَانُ، وَيَقُولُ: مَاذَا عِنْدَكُمْ مِنَ الْخَبَرِ؟ وَمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا} [التوبة: ١٠٣] قَالَ: فَاسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّدَقَاتِ رَجُلَيْنِ: رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، وَكَتَبَ لَهُمْا سَنَةَ الصَّدَقَةِ وَأَسْنَانَهَا، وَأَمَرَهُمَا أَنْ يَصْدُقَا النَّاسَ، وَأَنْ يَمُرَّا بِثَعْلَبَةَ، فَيَأْخُذَا مِنْهُ صَدَقَةَ مَالِهِ، فَفَعَلَا حَتَّى ذَهَبَا إِلَى ثَعْلَبَةَ، فَأَقْرَآهُ كِتَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ صَدِّقَا النَّاسَ فَإِذَا فَرَغْتُمَا، فَمُرَّا بِي. فَفَعَلَا، فَقَالَ: وَاللهِ مَا هَذِهِ إِلَّا أُخَيَّةُ الْجِزْيَةِ، فَانْطَلَقَا حَتَّى لَحِقَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَمِنْهُمْ مَنْ عَاهَدَ اللهَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِهِ} [التوبة: ٧٥] إِلَى قَوْلِهِ {يَكْذِبُونَ} [التوبة: ٧٧] قَالَ: فَرَكِبَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَرِيبٌ لِثَعْلَبَةَ رَاحِلَةً حَتَّى أَتَى ثَعْلَبَةَ، فَقَالَ: وَيْحَكَ يَا ثَعْلَبَةُ، هَلَكْتَ، أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيكَ مِنَ الْقُرْآنِ كَذَا، فَأَقْبَلَ ثَعْلَبَةُ، وَوَضَعَ التُّرَابَ عَلَى رَأْسِهِ وَهُوَ يَبْكِي، وَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ، يَا رَسُولَ اللهِ. فَلَمْ يَقْبَلْ مِنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَتَهُ حَتَّى قَبَضَ اللهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَتَى أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ قَدْ عَرَفْتَ مَوْقِعِي مِنْ قَوْمِي، وَمَكَانِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاقْبَلْ مِنِّي، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهُ، ثُمَّ أَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ، ثُمَّ أَتَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ، ثُمَّ مَاتَ ثَعْلَبَةُ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
ترجمہ
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے رزق عطا فرمائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”افسوس تم پر اے ثعلبہ! تھوڑا (مال) جس کا شکر تم ادا کر سکو، اس زیادہ (مال) سے بہتر ہے جس کی تم طاقت نہ رکھ سکو“۔ پھر وہ دوبارہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے مال عطا فرمائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”افسوس تم پر اے ثعلبہ! کیا تم نہیں چاہتے کہ تم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے ہو جاؤ؟ اللہ کی قسم! اگر تم چاہو کہ پہاڑ میرے لیے سونا چاندی بن کر بہہ جائیں تو وہ بہہ جائیں“۔ پھر وہ دوبارہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے مال عطا فرمائے، اللہ کی قسم! اگر اللہ مجھے مال دے تو میں ہر حق دار کو اس کا حق ادا کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! ثعلبہ کو مال عطا فرما“۔ چنانچہ اس نے بکریاں رکھ لیں جو اس طرح بڑھیں جیسے کیڑے بڑھتے ہیں، یہاں تک کہ مدینہ کی گلیاں ان کے لیے تنگ پڑ گئیں، تو وہ (شہر سے) دور چلا گیا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں حاضر ہوتا، پھر (اپنی بکریوں کی طرف) نکل جاتا۔ پھر وہ (بکریاں) اتنی بڑھیں کہ مدینہ کی چراگاہیں اس کے لیے ناکافی ہو گئیں تو وہ مزید دور چلا گیا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ میں حاضر ہوتا، پھر نکل جاتا۔ پھر وہ مزید بڑھیں تو وہ اور دور چلا گیا، یہاں تک کہ اس نے جمعہ اور جماعتیں چھوڑ دیں۔ وہ (بس) قافلوں سے ملتا اور پوچھتا: تمہارے پاس کیا خبر ہے، لوگوں کا کیا حال ہے؟ اس پر اللہ عزوجل نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمائی: ◇ان کے اموال میں سے صدقہ لے لیجیے جس سے آپ انہیں پاک کریں اور ان کا تزکیہ کریں◇ [التوبہ: 103]۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقات کی وصولی کے لیے دو آدمی مقرر کیے، ایک انصار میں سے اور ایک بنو سلیم میں سے، اور انہیں صدقے کا نصاب اور اس کی مقدار لکھ دی، اور انہیں حکم دیا کہ لوگوں سے صدقہ وصول کریں اور ثعلبہ کے پاس بھی جائیں اور اس کے مال کا صدقہ وصول کریں۔ چنانچہ انہوں نے ایسا کیا یہاں تک کہ وہ ثعلبہ کے پاس گئے اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھایا۔ اس نے کہا: پہلے دوسرے لوگوں سے صدقہ وصول کرو، جب فارغ ہو جاؤ تو میرے پاس سے گزرنا۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر جب وہ (واپسی پر) ثعلبہ کے پاس آئے تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو جزیہ کی بہن (کے سوا کچھ نہیں) ہے۔ چنانچہ وہ دونوں واپس چل پڑے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے۔ اسی پر اللہ عزوجل نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمائی: ◇اور ان میں سے وہ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں اپنے فضل سے عطا کرے◇ [التوبہ: 75] سے لے کر ◇جھوٹ بولتے تھے◇ [التوبہ: 77] تک کی آیات۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ ثعلبہ کے ایک قریبی رشتہ دار انصاری شخص نے سواری پر سوار ہو کر ثعلبہ کے پاس جا کر کہا: افسوس تم پر اے ثعلبہ! تم ہلاک ہو گئے، اللہ عزوجل نے تمہارے بارے میں قرآن کی یہ آیات نازل کی ہیں۔ چنانچہ ثعلبہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) آیا، اپنے سر پر مٹی ڈالتا اور روتا ہوا، اور کہتا: یا رسول اللہ، یا رسول اللہ! لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا صدقہ قبول نہ فرمایا یہاں تک کہ اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (اس دنیا سے) اٹھا لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے ابوبکر! آپ کو میری اپنی قوم میں حیثیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک میری منزلت معلوم ہے، تو میرا (صدقہ) قبول کیجیے۔ لیکن انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اس سے (صدقہ) قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اس سے (صدقہ) قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ثعلبہ فوت ہو گیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7842
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 218، حدیث 7873