حدیث نمبر: 7836
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: لَمَّا كَانَ حَجَّةُ الْوَدَاعِ، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُرْدِفٌ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، خُذُوا مِنَ الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ الْعِلْمُ، وَقَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ» . وَقَدْ كَانَ أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمِنٌوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: ١٠١] الْآيَةَ، فَكُنَّا نَذْكُرُهَا كَثِيرًا، فَتَمْنَعُنَا مِنْ مَسْأَلَتِهِ. فَأَتَيْنَا أَعْرَابِيًّا فَرَشَوْنَاهُ بُرْدًا، فَأَعْتَمَ بِهِ حَتَّى رَأَيْتُ حَاشِيَةَ الْبُرْدِ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ قُلْنَا: سَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ كَيْفَ يُرْفَعُ الْعِلْمُ مِنَّا، وَبَيْنَ أَظْهُرِنَا الْمَصَاحِفُ قَدْ تَعَلَّمْنَا فِيهَا، وَعَلَّمْنَاهَا نِسَاءَنَا وَذَرَارِيَّنَا وَخَدَمَنَا، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، وَقَدْ عَلَتْ وَجْهَهُ حُمْرَةٌ مِنَ الْغَضَبِ، فَقَالَ: «أَيْ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، وَهَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى بَيْنَ أَظْهُرِهِمِ الْمَصَاحِفُ، لَمْ يُصْبِحُوا يَتَعَلَّقُوا بِالْحَرْفِ مِمَّا جَاءَتْهُمْ بِهِ أَنْبِيَاؤُهُمْ، أَلَا وَإِنَّ مِنْ ذَهَابِ الْعِلْمِ أَنْ يَذْهَبَ أَهْلُهُ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
ترجمہ

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب حجۃ الوداع کا موقع آیا تو نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے، اس وقت آپ ﷺ کے پیچھے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما اونٹ پر سوار تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! علم حاصل کر لو اس سے پہلے کہ علم اٹھا لیا جائے، اور اس سے پہلے کہ علم بلند کر دیا جائے۔“ اور اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی تھی: ”اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جو اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں“ [سورۃ المائدہ: 101] — تو ہم اسے بہت یاد رکھتے تھے، جو ہمیں آپ ﷺ سے سوال کرنے سے روکے رکھتی تھی۔ چنانچہ ہم ایک دیہاتی کے پاس گئے اور اسے ایک چادر کی رشوت دی، اس نے وہ چادر اوڑھ لی یہاں تک کہ میں نے چادر کا کنارہ اس کی دائیں بھنوں پر دیکھا، پھر ہم نے اس سے کہا: نبی کریم ﷺ سے سوال کرو۔ تو اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم سے علم کیسے اٹھا لیا جائے گا جبکہ ہمارے درمیان قرآن کے نسخے موجود ہیں، ہم نے ان سے سیکھا ہے، اور اپنی عورتوں، اپنی اولاد اور اپنے خادموں کو بھی سکھایا ہے؟ تو نبی کریم ﷺ نے اپنا سر اٹھایا، غصے سے آپ ﷺ کے چہرے پر سرخی آ گئی، پھر فرمایا: ”تیری ماں تجھ پر روئے! یہ یہود و نصاریٰ بھی، جن کے درمیان (تحریف شدہ) صحیفے موجود ہیں، پھر بھی انہوں نے اپنے انبیاء کی لائی ہوئی کسی بات پر عمل نہیں کیا۔ سن لو! علم کے اٹھ جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اہل اٹھ جائیں“ — تین بار فرمایا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7836
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 215، حدیث 7867