المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
معان بن رفاعة السلامي، عن علي بن يزيد باب: معان بن رفاعہ سلامی کی علی بن یزید سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ مِنْ سَرَايَاهُ، فَمَرَّ رَجُلٌ بِغَارٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ، فَجَذَبَتْهُ نَفْسُهُ أَنْ يُقِيمَ فِي ذَلِكَ الْغَارِ، فَيَقُوتَ مَا فِيهِ مِنْ مَاءٍ، وَيُصِيبُ مِمَّا حَوْلَهُ مِنَ الْبَقْلِ، وَيَتَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا، ثُمَّ قَالَ: لَوْ أَنِّي أَتَيْتُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَإِنْ أَذِنَ لِي فَعَلْتُ، وَإِلَّا لَمْ أَفْعَلْ. فَأَتَاهُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي مَرَرْتُ بِغَارٍ فِيهِ مَا يَقُوتُنِي مِنَ الْمَاءِ وَالْبَقْلِ، فَحَدَّثَتْنِي نَفْسِي بِأَنْ أُقِيمَ، وَأَتَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِالْيَهُودِيَّةِ وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ، وَلَكِنِّي بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَغَدَاةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَمَقَامُ أَحَدِكُمْ فِي الصَّفِّ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهِ سِتِّينَ سَنَةً»سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے کسی غزوے میں نکلے، تو ایک آدمی ایک غار کے پاس سے گزرا جس میں کچھ پانی تھا، تو اس کے دل نے چاہا کہ وہ اسی غار میں ٹھہر جائے، اس میں موجود پانی پر گزارا کرے، اور اردگرد کے ساگ سے کچھ کھا لے، اور دنیا سے کنارہ کش ہو جائے۔ پھر اس نے کہا: کاش میں اللہ کے نبی ﷺ کے پاس جاؤں اور یہ بات ان سے ذکر کروں، اگر آپ ﷺ مجھے اجازت دیں تو میں ایسا کر لوں گا، ورنہ نہیں کروں گا۔ چنانچہ وہ آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں ایک غار کے پاس سے گزرا جس میں مجھے پانی اور ساگ کی صورت میں اتنا کچھ ملا جو میرے لیے کافی ہے، تو میرے دل نے کہا کہ میں یہیں ٹھہر جاؤں اور دنیا سے کنارہ کش ہو جاؤں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے یہودیت یا نصرانیت کے ساتھ نہیں بھیجا گیا، بلکہ مجھے آسان اور سیدھی حنیفیت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ کے راستے میں صبح یا شام کا ایک سفر دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کا صف میں کھڑا ہونا اس کی ساٹھ سال کی نماز سے بہتر ہے۔“