حدیث نمبر: 7838
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ، فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ، وَقَرَّ ذَلِكَ نَفْسَهُ، فَحَبَسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلَّا يَقَعَ فِي قَلْبِهِ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ، فَلَمَّا مَرَّ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ إِذَا بِقَبْرَيْنِ قَدْ دَفَنُوا فِيهِمَا رَجُلَيْنِ، فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ دَفَنْتُمْ هَهُنَا الْيَوْمَ؟» قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، فُلَانُ. قَالَ: «إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ الْآنَ وَيُفْتَنَانِ فِي قَبْرَيْهِمَا» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: «أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، وَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَتَنَزَّهُ مِنَ الْبَوْلِ» . وَأَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا، ثُمَّ جَعَلَهَا عَلَى الْقَبْرَيْنِ. قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، وَلِمَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: «لِيُخَفِّفَ عَنْهُمَا» . قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، وَحَتَّى مَتَى يُعَذَّبَانِ؟ قَالَ: «غَيْبٌ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللهُ» . قَالَ: «وَلَوْلَا تَمْرِيجًا فِي قُلُوبِكُمْ، أَوْ تَزَيُّدُكُمْ فِي الْحَدِيثِ سَمِعْتُمْ مَا أَسْمَعُ»
ترجمہ

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”…آپ ﷺ نے (اپنے ساتھیوں کو) روکے رکھا یہاں تک کہ انہیں اپنے آگے کر دیا، تاکہ آپ ﷺ کے دل میں تکبر کا کوئی شائبہ نہ آئے۔ جب آپ ﷺ بقیعِ غرقد سے گزرے تو دیکھا کہ دو قبروں میں دو آدمی دفن کیے گئے ہیں، نبی کریم ﷺ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”آج تم نے یہاں کسے دفن کیا؟“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! فلاں فلاں کو۔ فرمایا: ”یہ دونوں اس وقت اپنی قبروں میں عذاب اور آزمائش میں ہیں۔“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! اس کی وجہ کیا ہے؟ فرمایا: ”ان میں سے ایک چغل خوری کیا کرتا تھا، اور دوسرا پیشاب سے بچاؤ نہیں کرتا تھا۔“ پھر آپ ﷺ نے ایک ہری ٹہنی لی، اسے چیرا، پھر اسے دونوں قبروں پر رکھ دیا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا: ”تاکہ ان دونوں کا عذاب ہلکا ہو جائے۔“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ عذاب کب تک رہے گا؟ فرمایا: ”یہ ایک غیب کی بات ہے جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ فرمایا: ”اگر تمہارے دلوں میں شک نہ پڑ جاتا، یا تم بات میں بڑھا چڑھا کر بیان نہ کرتے، تو تم بھی وہی سنتے جو میں سنتا ہوں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7838
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 216، حدیث 7869