المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
معان بن رفاعة السلامي، عن علي بن يزيد باب: معان بن رفاعہ سلامی کی علی بن یزید سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ ثَعْلَبَةَ بْنَ حَاطِبٍ الْأَنْصَارِيَّ، أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَرْزُقَنِي اللهُ. قَالَ: «وَيْحَكَ يَا ثَعْلَبَةُ، قَلِيلٌ تُؤَدِّي شُكْرَهُ خَيْرٌ مِنْ كَثِيرٍ لَا تُطِيقُهُ»
ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَرْزُقَنِي مَالًا، قَالَ: «وَيْحَكَ يَا ثَعْلَبَةُ، أَمَا تُرِيدُ أَنْ تَكُونَ مِثْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهِ لَوْ سَأَلْتَ أَنْ يَسِيلَ لِيَ الْجِبَالَ ذَهَبًا وَفِضَّةً لَسَالَتْ»
ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَرْزُقَنِي مَالًا، وَاللهِ لَئِنْ أَتَانِي اللهُ مَالًا لَأُوتِيَنَّ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ ارْزُقْ ثَعْلَبَةَ مَالًا» فَاتَّخَذَ غَنَمًا، فَنَمَتْ كَمَا يَنْمُو الدُّودُ حَتَّى ضَاقَتْ عَنْهَا أَزِقَّةُ الْمَدِينَةِ، فَتَنَحَّى بِهَا، وَكَانَ يَشْهَدُ الصَّلَاةَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَيْهَا، ثُمَّ نَمَتْ حَتَّى تَعَذَّرَتْ عَلَيْهِ مَرَاعِي الْمَدِينَةِ، فَتَنَحَّى بِهَا، فَكَانَ يَشْهَدُ الْجُمُعَةَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَيْهَا، ثُمَّ نَمَتْ فَتَنَحَّى بِهَا، فَتَرَكَ الْجُمُعَةَ وَالْجَمَاعَاتِ فَيَتَلَقَّى الرُّكْبَانُ، وَيَقُولُ: مَاذَا عِنْدَكُمْ مِنَ الْخَبَرِ؟ وَمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا} [التوبة: ١٠٣] قَالَ: فَاسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّدَقَاتِ رَجُلَيْنِ: رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، وَكَتَبَ لَهُمْا سَنَةَ الصَّدَقَةِ وَأَسْنَانَهَا، وَأَمَرَهُمَا أَنْ يَصْدُقَا النَّاسَ، وَأَنْ يَمُرَّا بِثَعْلَبَةَ، فَيَأْخُذَا مِنْهُ صَدَقَةَ مَالِهِ، فَفَعَلَا حَتَّى ذَهَبَا إِلَى ثَعْلَبَةَ، فَأَقْرَآهُ كِتَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ صَدِّقَا النَّاسَ فَإِذَا فَرَغْتُمَا، فَمُرَّا بِي. فَفَعَلَا، فَقَالَ: وَاللهِ مَا هَذِهِ إِلَّا أُخَيَّةُ الْجِزْيَةِ، فَانْطَلَقَا حَتَّى لَحِقَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَمِنْهُمْ مَنْ عَاهَدَ اللهَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِهِ} [التوبة: ٧٥] إِلَى قَوْلِهِ {يَكْذِبُونَ} [التوبة: ٧٧] قَالَ: فَرَكِبَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَرِيبٌ لِثَعْلَبَةَ رَاحِلَةً حَتَّى أَتَى ثَعْلَبَةَ، فَقَالَ: وَيْحَكَ يَا ثَعْلَبَةُ، هَلَكْتَ، أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيكَ مِنَ الْقُرْآنِ كَذَا، فَأَقْبَلَ ثَعْلَبَةُ، وَوَضَعَ التُّرَابَ عَلَى رَأْسِهِ وَهُوَ يَبْكِي، وَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ، يَا رَسُولَ اللهِ. فَلَمْ يَقْبَلْ مِنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَتَهُ حَتَّى قَبَضَ اللهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَتَى أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ قَدْ عَرَفْتَ مَوْقِعِي مِنْ قَوْمِي، وَمَكَانِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاقْبَلْ مِنِّي، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهُ، ثُمَّ أَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ، ثُمَّ أَتَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ، ثُمَّ مَاتَ ثَعْلَبَةُ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُسیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے رزق عطا فرمائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا برا ہو، اے ثعلبہ! تھوڑا سا مال جس کا تم شکر ادا کر سکو وہ اس زیادہ مال سے بہتر ہے جسے تم برداشت نہ کر سکو۔“
پھر وہ دوبارہ آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے مال عطا فرمائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا برا ہو، اے ثعلبہ! کیا تم نہیں چاہتے کہ رسول اللہ ﷺ جیسے (قناعت والے) بن جاؤ؟ اللہ کی قسم! اگر تم چاہتے کہ میرے لیے پہاڑ سونے چاندی کی صورت میں بہہ پڑیں تو وہ بہہ پڑتے۔“
پھر وہ دوبارہ آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے مال عطا فرمائے، اللہ کی قسم! اگر اللہ مجھے مال دے دے تو میں ہر حق دار کو اس کا حق ضرور دوں گا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! ثعلبہ کو مال عطا فرما۔“ تو اس نے بکریاں پال لیں، وہ اس طرح بڑھیں جیسے کیڑے بڑھتے ہیں، یہاں تک کہ مدینہ کی گلیاں اس کے لیے تنگ پڑ گئیں، تو وہ انہیں لے کر شہر سے دور چلا گیا۔ پہلے وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں حاضر ہوتا، پھر ان بکریوں کے پاس چلا جاتا، پھر وہ اتنی بڑھیں کہ مدینہ کی چراگاہیں اس کے لیے ناکافی ہو گئیں، تو وہ مزید دور چلا گیا، پھر بھی جمعہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ادا کرتا، پھر ان کے پاس چلا جاتا، پھر وہ مزید بڑھیں تو وہ اور دور چلا گیا، یہاں تک کہ اس نے جمعہ اور جماعتیں چھوڑ دیں، اور قافلوں سے ملتا اور پوچھتا: تمہارے پاس کیا خبر ہے؟ لوگوں کا کیا حال ہے؟ تو اللہ عزوجل نے اپنے رسول ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی: ”ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لو جس سے تم انہیں پاک اور صاف کرو“ [سورۃ التوبہ: 103]۔ راوی کہتے ہیں: تو رسول اللہ ﷺ نے صدقات وصول کرنے کے لیے دو آدمی مقرر کیے: ایک انصار میں سے اور ایک بنو سلیم میں سے، اور ان کے لیے زکاۃ کا نصاب اور جانوروں کی عمریں لکھ دیں، اور انہیں حکم دیا کہ لوگوں سے زکاۃ وصول کریں، اور ثعلبہ کے پاس سے گزریں اور اس سے اس کے مال کی زکاۃ وصول کریں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ ثعلبہ کے پاس گئے، اسے رسول اللہ ﷺ کا خط پڑھ کر سنایا۔ اس نے کہا: تم لوگوں سے زکاۃ وصول کرو، جب فارغ ہو جاؤ تو میرے پاس سے گزرنا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو جزیہ کی چھوٹی بہن کے سوا کچھ نہیں۔ وہ دونوں چلے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے، اور اللہ عزوجل نے اپنے رسول ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی: ”اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں اپنے فضل سے (مال) عطا کرے...“ [سورۃ التوبہ: 75] سے لے کر ”وہ جھوٹ بولتے ہیں“ [التوبہ: 77] تک۔ راوی کہتے ہیں: تو ثعلبہ کے ایک قریبی انصاری رشتہ دار نے سواری پر بیٹھ کر ثعلبہ کے پاس آ کر کہا: تیرا برا ہو، اے ثعلبہ! تو ہلاک ہو گیا، اللہ عزوجل نے تیرے بارے میں قرآن میں یہ یہ نازل فرمایا ہے۔ تو ثعلبہ آیا، اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگا اور روتے ہوئے کہنے لگا: یا رسول اللہ! یا رسول اللہ! مگر رسول اللہ ﷺ نے اس کی زکاۃ قبول نہ کی یہاں تک کہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو وفات دے دی۔ پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے ابوبکر! آپ جانتے ہیں کہ میری اپنی قوم میں کیا حیثیت ہے، اور رسول اللہ ﷺ کے نزدیک میرا کیا مقام تھا، تو میری زکاۃ قبول کر لیجیے۔ مگر انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر ثعلبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں فوت ہو گیا۔