حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْمُجَوِّزُ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ كَانَ إِذَا رُفِعَ الْعَشَاءُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب اپنے سامنے سے کھانا اٹھایا جاتا تو فرماتے: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت تعریفیں، جن سے ہم بے نیاز نہیں ہوئے، نہ اس نعمت کو چھوڑا گیا، اور نہ اے ہمارے رب، ہم تجھ سے بے نیاز ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ إِذَا رَفَعَ مَائِدَتَهُ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ جب اپنا دسترخوان اٹھاتے تو فرماتے: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت تعریفیں، جن سے ہم بے نیاز نہیں ہوئے، نہ چھوڑی گئیں، اور نہ اے ہمارے رب، ہم تجھ سے بےنیاز ہیں۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ومُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ جَشِيبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: عِنْدَ انْقِضَاءِ الطَّعَامِ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو کھانا ختم ہونے کے وقت یہ فرماتے سنا: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت تعریفیں، جن سے ہم بے نیاز نہیں ہوئے، نہ چھوڑی گئیں، اور نہ ہم اس سے بے نیاز ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ نُعَيْمٍ الْخَيْلَانِيُّ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ جَشِيبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ انْقِضَاءِ طَعَامِهِ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا، طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنا کھانا ختم ہونے کے وقت فرماتے: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، بہت زیادہ تعریفیں، پاکیزہ اور بابرکت، جن سے ہم بے نیاز نہیں ہوئے، نہ چھوڑی گئیں، اور نہ اے ہمارے رب، ہم تجھ سے بے نیاز ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ لَا يُرِيدُ إِلَّا أَنْ يَتَعَلَّمَ خَيْرًا أَوْ يَعْلَمَهُ، كَانَ لَهُ كَأَجْرِ حَاجٍّ تَامًّا حِجَّتُهُ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص مسجد کی طرف صبح سویرے جائے، اس ارادے سے کہ وہ بھلائی سیکھے یا سکھائے، اسے مکمل حج کرنے والے حاجی کے برابر اجر ملے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، ثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «لَا تَذْهَبُ الْأَيَّامُ حَتَّى يَشْرَبَ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ، وَيُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دن نہیں گزریں گے یہاں تک کہ میری امت کا ایک گروہ شراب پیئے گا اور اسے اس کے اصل نام کے سوا کسی اور نام سے پکارے گا۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا النُّعْمَانُ، حَدَّثَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَلُومُ عَلَى الْعَجْزِ، فَأَنِلْ مِنْ نَفْسِكَ الْجَهْدَ، فَإِنْ غُلِبْتَ فَقُلْ: تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ، أَوْ حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ "
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل عاجزی (سستی) پر ملامت فرماتا ہے، تو اپنی طرف سے پوری کوشش کرو، پھر اگر تم مغلوب ہو جاؤ تو کہو: میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، یا کہو: اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «مَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ فِي بَيْتِهِ وَأَهْلِهِ وَوَلَدِهِ وَخَدَمِهِ، فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اپنے گھر، اپنے اہل و عیال، اپنی اولاد اور اپنے خادموں پر جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيَرْضَاهُ، وَيُعِينُ عَلَيْهِ مَا لَا يُعِينُ عَلَى الْعُنْفِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نرمی کو پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہوتا ہے، اور اس پر ایسی مدد کرتا ہے جو سختی پر نہیں کرتا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، وجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا وَيَجْلِسُ عِنْدَ رَأْسِهِ، وَعِنْدَ رِجْلَيْهِ نِسَاءٌ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، تُغَنِّينَهُ بِأَحْسَنِ صَوْتٍ سَمِعَهُ الْجِنُّ وَالْإِنْسُ، وَلَيْسَ بِمَزَامِيرِ الشَّيْطَانِ، وَلَكِنْ بِتَمْجِيدِ اللهِ وَتَقْدِيسِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بندہ ایسا نہیں جو جنت میں داخل ہو مگر یہ کہ حورِ عین میں سے عورتیں اس کے سر کے پاس اور اس کے پاؤں کے پاس بیٹھ کر اسے ایسی خوبصورت آواز میں گائیں گی جیسی جن و انس نے کبھی نہیں سنی، اور یہ شیطانی باجے کی آواز نہیں ہو گی، بلکہ اللہ کی تعظیم اور تقدیس بیان کرنے کی آواز ہو گی۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، سُئِلَ أَيُجَامِعُ أَهْلُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: «دَحَامًا دَحَامًا، وَلَكِنْ لَا مَنِيَّ، وَلَا مَنِيَّةَ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: کیا جنتی ازدواجی تعلق قائم کریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بار بار اور کثرت سے، مگر نہ کوئی منی خارج ہو گی اور نہ کوئی موت واقع ہو گی۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَتُّوَيْهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، وإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ الْأَوْصَابِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللهِ، أَمَّنَهُ اللهُ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں سرحد کی پہرہ داری کرتے ہوئے فوت ہو جائے، اللہ اسے قبر کے فتنے سے محفوظ رکھے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَكْرٍ السَّرَّاجُ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ الْعُكَّاشِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «إِنَّ الْحَيَاءَ وَالْعِيَّ مِنَ الْإِيمَانِ، وَهُمْا يُقَرِّبَانِ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُبَاعِدَانِ مِنَ النَّارِ. وَالْفُحْشُ وَالْبِذَاءُ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَهُمْا يُقَرِّبَانِ مِنَ النَّارِ، وَيُبَاعِدَانِ مِنَ الْجَنَّةِ» فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ لِأَبِي أُمَامَةَ: إِنَّا لَنَقُولُ فِي الشِّعْرِ: إِنَّ الْعِيَّ مِنَ الْحُمْقِ، فَقَالَ: تَرَانِي أَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، وَتُحَسِّنْ بِشِعْرِكَ النَّتِنِ
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حیا اور کم گوئی ایمان میں سے ہیں، یہ دونوں جنت کے قریب اور جہنم سے دور کرتے ہیں، اور بےحیائی اور بدزبانی شیطان کی طرف سے ہیں، یہ دونوں جہنم کے قریب اور جنت سے دور کرتے ہیں۔“ اس پر ایک بدوی نے ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ہم تو شعر میں کہتے ہیں کہ کم گوئی حماقت میں سے ہے۔ انہوں نے فرمایا: کیا تم مجھے یہ کہتے دیکھ رہے ہو کہ ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا“ اور تم اپنے بدبودار شعر سے اسے اچھا بنانا چاہتے ہو (یعنی رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مقابلے میں اپنے شعر کو پیش کرتے ہو)؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ، ثنا جَمِيعُ بْنُ ثَوْبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يَغْبَرُّ وَجْهُهُ فِي سَبِيلِ اللهِ إِلَّا أَمَّنَهُ اللهُ دُخَانَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَغْبَرُّ قَدْمَاهُ فِي سَبِيلِ اللهِ إِلَّا أَمَّنَ اللهُ قَدَمَيْهِ النَّارَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کا چہرہ اللہ کی راہ میں گرد آلود ہو جائے، اللہ اسے قیامت کے دن جہنم کے دھوئیں سے محفوظ رکھے گا، اور جس شخص کے قدم اللہ کی راہ میں گرد آلود ہو جائیں، اللہ اس کے قدموں کو قیامت کے دن جہنم سے محفوظ رکھے گا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ثنا جَمِيعُ بْنُ ثَوْبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «نِعْمَ الرَّجُلُ أَنَا لِشِرَارِ أُمَّتِي» . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: كَيْفَ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ لِخِيَارِهِمْ؟ قَالَ: «أَمّا شِرَارُ أُمَّتِي فَيُدْخِلُهُمُ اللهُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِي، وَأَمَّا خِيَارُهُمْ فَيُدْخِلُهُمِ اللهُ الْجَنَّةَ بِأَعْمَالِهِمْ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں اپنی امت کے بدترین لوگوں کے لیے کتنا اچھا آدمی ہوں۔“ آپ ﷺ کے ہم نشینوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ، پھر آپ ان کے بہترین لوگوں کے لیے کیسے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے بدترین لوگوں کو اللہ میری شفاعت کے ذریعے جنت میں داخل کرے گا، اور ان کے بہترین لوگوں کو اللہ ان کے اعمال کے ذریعے جنت میں داخل کرے گا۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ متويهِ، وإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ الْأَوْصَابِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «مَنْ صَلَّى الْجُمُعَةَ، وَصَامَ يَوْمَهُ، وَعَادَ مَرِيضًا، وَشَهِدَ جَنَازَةً، وَشَهِدَ نِكَاحًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کی نماز پڑھی، اسی دن روزہ رکھا، کسی بیمار کی عیادت کی، کسی جنازے میں شرکت کی اور کسی نکاح میں شریک ہوا، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“