المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خالد بن معدان، عن أبي أمامة رضي الله عنه باب: خالد بن معدان کی ابواُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 7452
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ثنا جَمِيعُ بْنُ ثَوْبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «نِعْمَ الرَّجُلُ أَنَا لِشِرَارِ أُمَّتِي» . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: كَيْفَ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ لِخِيَارِهِمْ؟ قَالَ: «أَمّا شِرَارُ أُمَّتِي فَيُدْخِلُهُمُ اللهُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِي، وَأَمَّا خِيَارُهُمْ فَيُدْخِلُهُمِ اللهُ الْجَنَّةَ بِأَعْمَالِهِمْ»ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں اپنی امت کے بدترین لوگوں کے لیے کتنا اچھا آدمی ہوں۔“ آپ ﷺ کے ہم نشینوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ، پھر آپ ان کے بہترین لوگوں کے لیے کیسے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے بدترین لوگوں کو اللہ میری شفاعت کے ذریعے جنت میں داخل کرے گا، اور ان کے بہترین لوگوں کو اللہ ان کے اعمال کے ذریعے جنت میں داخل کرے گا۔“