کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: شرحبیل بن سمط کندی کی سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ الْمَعَافِرِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الْكَرِيمِ بْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ شُرَحْبِيلِ بْنِ السِّمْطِ الْكِنْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَفْضَلُ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، وَمَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللهِ، جَرَى عَلَيْهِ مِثْلُ ذَلِكَ فِي الثَّوَابِ، وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ، وَأُومِنَ الْفَتَّانَ»
ترجمہ
سیدنا سلمان الخیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک دن اور ایک رات کا پہرہ دینا ایک مہینے کے روزے اور قیام سے افضل ہے، اور جو شخص اللہ کے راستے میں پہرہ دیتے ہوئے فوت ہو جائے، اسے ثواب میں یہی درجہ ملتا رہے گا، اور اس کا رزق جاری رہے گا، اور وہ فتنے سے محفوظ رہے گا۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ مَكْحُولٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ شُرَحْبِيلِ بْنِ السِّمْطِ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فِي سَبِيلِ اللهِ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، وَمَنْ مَاتَ مُرَابِطًا، جَرَى عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ، وَأُومِنَ الْفَتَّانَ»
ترجمہ
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ کے راستے میں ایک دن اور ایک رات کا پہرہ دینا ایک مہینے کے روزے اور قیام سے بہتر ہے، اور جو شخص پہرہ دیتے ہوئے فوت ہو جائے، اس کا وہی عمل جاری رہتا ہے جو وہ کرتا تھا، اور وہ فتنے سے محفوظ رہتا ہے۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ نَافِعِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ شُرَحْبِيلٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْوَلِيدِ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ أَبِي زَكَرِيَّا يُحَدِّثُ، عَنْ شُرَحْبِيلِ بْنِ السِّمْطِ، أَنَّهُ رَأَى سَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ وَهُوَ مُرَابِطٌ بِسَاحِلِ حِمْصٍ، فَقَالَ: مَا لَكَ عَلَى هَذَا؟ قَالَ: مُرَابِطٌ، قَالَ سَلْمَانُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، كَصِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، وَمَنْ مَاتَ مُرَابِطًا، جَرَى عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ، وَأُومِنَ الْفَتَّانَ، وَيُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَهِيدًا»
ترجمہ
شرحبیل بن سِمط بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو حمص کے ساحل پر پہرہ دیتے دیکھا تو پوچھا: آپ یہاں کس لیے ہیں؟ فرمایا: پہرہ دے رہا ہوں۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ کے راستے میں ایک دن کا پہرہ دینا ایک مہینے کے روزے اور قیام کی طرح ہے، اور جو شخص پہرہ دیتے ہوئے فوت ہو جائے، اس کا وہی عمل جاری رہتا ہے جو وہ کرتا تھا، اور وہ فتنے سے محفوظ رہتا ہے، اور قیامت کے دن اسے شہید کے طور پر اٹھایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ شُرَحْبِيلِ بْنِ السِّمْطِ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: خَرَجْتُ أَبْتَغِي الدِّينَ فَوَافَقْتُ فِي الرُّهْبانِ بَقَايَا أَهْلِ الْكِتَابِ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ} [البقرة: ١٤٦] ، وَكَانُوا يَقُولُونَ: هَذَا زَمَانُ نَبِيٍّ قَدْ أَظَلَّ يَخْرُجُ مِنْ أَرْضِ الْعَرَبِ لَهُ عَلَامَاتٌ، مِنْ ذَلِكَ شَامَةٌ مُدَوَّرَةٌ بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ، فَلَحِقْتُ بِأَرْضِ الْعَرَبِ، وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُ مَا قَالُوا كُلَّهُ، وَرَأَيْتُ الْخَاتَمَ، فَشَهِدَتُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَفْضَلُ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، قَائِمٌ لَا يَفْتُرُ، وَصَائِمٌ لَا يُفْطِرُ، وَإِنْ مَاتَ مُرَابِطًا جَرَى عَلَيْهِ كَصَالِحِ عَمَلِهِ حَتَّى يُبْعَثَ، وَوُقِيَ عَذَابَ الْقَبْرِ»
ترجمہ
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں دین کی تلاش میں نکلا تو راہبوں میں اہلِ کتاب کے باقی ماندہ لوگوں سے ملا، اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: {وہ اسے ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں} [البقرة: 146]، وہ کہا کرتے تھے: یہ ایک نبی کا زمانہ ہے جو قریب آ چکا ہے، وہ عرب کی سرزمین سے ظاہر ہوگا، اس کی کچھ نشانیاں ہیں، ان میں سے ایک اس کے دونوں کندھوں کے درمیان گول تل ہے جو مہرِ نبوت ہے۔ چنانچہ میں عرب کی سرزمین میں جا پہنچا، اور نبی کریم ﷺ مبعوث ہو چکے تھے، تو میں نے وہ سب کچھ دیکھا جو انہوں نے بتایا تھا، اور میں نے مہرِ نبوت بھی دیکھ لی، تو میں نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”ایک دن اور ایک رات کا پہرہ دینا ایک مہینے کے روزے اور قیام سے افضل ہے، (گویا وہ) ایسا قیام کرنے والا ہے جو سستی نہ کرے اور ایسا روزہ دار ہے جو افطار نہ کرے، اور اگر وہ پہرہ دیتے ہوئے فوت ہو جائے تو اس کے نیک عمل جیسا اجر اسے دوبارہ اٹھائے جانے تک ملتا رہتا ہے، اور وہ عذابِ قبر سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زُرَارَةَ الرَّقِّيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ شُرَحْبِيلِ بْنِ السِّمْطِ الْكِنْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَرْبَعٌ مِنْ عَمَلِ الْأَحْيَاءِ يَجْرِي لِلْأَمْوَاتِ: رَجُلٌ تَرَكَ عَقِبًا صَالِحًا يَدْعُو لَهُ يَتْبَعُهُ دُعَاؤُهُمْ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ جَارِيَةٍ مِنْ بَعْدِهِ لَهُ أَجْرُهَا مَا جَرَتْ بَعْدَهُ، وَرَجُلٌ عَلَّمَ عِلْمًا فَعُمِلَ بِهِ مِنْ بَعْدِهِ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهِ شَيْءٌ "
ترجمہ
سیدنا سلمان الخیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”زندوں کے چار عمل ایسے ہیں جن کا اجر فوت شدگان کو ملتا رہتا ہے: ایک وہ شخص جو نیک اولاد چھوڑ جائے جو اس کے لیے دعا کرتی رہے، تو ان کی دعا اسے پہنچتی رہتی ہے، دوسرا وہ شخص جو اپنے بعد جاری رہنے والا صدقہ کر جائے، تو جب تک وہ جاری رہے اسے اس کا اجر ملتا رہتا ہے، تیسرا وہ شخص جو کوئی علم سکھائے پھر اس پر اس کے بعد عمل کیا جائے، تو اسے اس شخص جتنا ہی اجر ملتا ہے جو اس پر عمل کرتا ہے، بغیر اس کے کہ عمل کرنے والے کے اجر میں کوئی کمی ہو۔“