المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
شرحبيل بن السمط الكندي، عن سلمان رضي الله عنه باب: شرحبیل بن سمط کندی کی سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ شُرَحْبِيلِ بْنِ السِّمْطِ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: خَرَجْتُ أَبْتَغِي الدِّينَ فَوَافَقْتُ فِي الرُّهْبانِ بَقَايَا أَهْلِ الْكِتَابِ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ} [البقرة: ١٤٦] ، وَكَانُوا يَقُولُونَ: هَذَا زَمَانُ نَبِيٍّ قَدْ أَظَلَّ يَخْرُجُ مِنْ أَرْضِ الْعَرَبِ لَهُ عَلَامَاتٌ، مِنْ ذَلِكَ شَامَةٌ مُدَوَّرَةٌ بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ، فَلَحِقْتُ بِأَرْضِ الْعَرَبِ، وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُ مَا قَالُوا كُلَّهُ، وَرَأَيْتُ الْخَاتَمَ، فَشَهِدَتُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَفْضَلُ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، قَائِمٌ لَا يَفْتُرُ، وَصَائِمٌ لَا يُفْطِرُ، وَإِنْ مَاتَ مُرَابِطًا جَرَى عَلَيْهِ كَصَالِحِ عَمَلِهِ حَتَّى يُبْعَثَ، وَوُقِيَ عَذَابَ الْقَبْرِ»سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں دین کی تلاش میں نکلا تو راہبوں میں اہلِ کتاب کے باقی ماندہ لوگوں سے ملا، اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: {وہ اسے ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں} [البقرة: 146]، وہ کہا کرتے تھے: یہ ایک نبی کا زمانہ ہے جو قریب آ چکا ہے، وہ عرب کی سرزمین سے ظاہر ہوگا، اس کی کچھ نشانیاں ہیں، ان میں سے ایک اس کے دونوں کندھوں کے درمیان گول تل ہے جو مہرِ نبوت ہے۔ چنانچہ میں عرب کی سرزمین میں جا پہنچا، اور نبی کریم ﷺ مبعوث ہو چکے تھے، تو میں نے وہ سب کچھ دیکھا جو انہوں نے بتایا تھا، اور میں نے مہرِ نبوت بھی دیکھ لی، تو میں نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”ایک دن اور ایک رات کا پہرہ دینا ایک مہینے کے روزے اور قیام سے افضل ہے، (گویا وہ) ایسا قیام کرنے والا ہے جو سستی نہ کرے اور ایسا روزہ دار ہے جو افطار نہ کرے، اور اگر وہ پہرہ دیتے ہوئے فوت ہو جائے تو اس کے نیک عمل جیسا اجر اسے دوبارہ اٹھائے جانے تک ملتا رہتا ہے، اور وہ عذابِ قبر سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔“