کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: فضیل بن سلیمان نمیری کی ابوحازم سے روایات
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ قَالَا: ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّي الْجُمُعَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَقِيلُ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے، پھر واپس آ کر قیلولہ کرتے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5925
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 187، حدیث 5946
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ ہمیشہ بھلائی پر رہیں گے جب تک وہ روزہ جلدی افطار کریں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5926
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 187، حدیث 5947
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ وَعَنْ يَسَارِهِ أَشْيَاخٌ، فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَ الْغُلَامَ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مشروب لایا گیا، آپ کے دائیں طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف بزرگ لوگ تھے۔ آپ ﷺ نے اس میں سے پیا، پھر وہ لڑکے کو دے دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5927
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 187، حدیث 5948
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَنْدَقِ، وَنَحْنُ نَحْفُرُ وَهُوَ يَنْقُلُ التُّرَابَ، فَقَالَ: «اللهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَالْمُهَاجِرَةِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ خندق میں تھے، ہم کھدائی کر رہے تھے اور آپ ﷺ مٹی اٹھا رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! حقیقی زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے، پس انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5928
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 187، حدیث 5949
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللهُ عَلَى يَدَيْهِ» ، فَغَدَا النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَرْجُونَ أَنْ يُعْطِيَهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ: «أَيْنَ عَلِيٌّ؟» قَالُوا: هُوَ شَاكِي الْعَيْنِ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «أَرْسِلُوا بِهِ» فَأُتِيَ بِهِ فَبَسَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا، فَبَرَأَ، ثُمَّ دَفَعَ إِلَيْهِ الرَّايَةَ، فَقَالَ: «انْفُذْ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّى تَنْزِلَ بِالْقَوْمِ فَتَدْعُوَهُمْ إِلَيَّ» ، فَنَفَذَ عَلِيٌّ، ثُمَّ الْتَفَتَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، قَالَ: «عَلَى رِسْلِكَ، إِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَلَأَنْ يُسْلِمَ رَجُلٌ عَلَى يَدِكَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن فرمایا: ”میں کل یہ جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا۔“ چنانچہ لوگ صبح سویرے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، ہر ایک کو امید تھی کہ آپ اسے جھنڈا دیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”علی کہاں ہیں؟“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! ان کی آنکھیں دکھتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں بلاؤ۔“ چنانچہ انہیں لایا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا اور دعا کی تو وہ ٹھیک ہو گئیں۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں جھنڈا عطا فرمایا اور فرمایا: ”آگے بڑھو اور پیچھے مڑ کر مت دیکھنا یہاں تک کہ تم ان کے میدان میں اتر جاؤ، پھر انہیں میری طرف بلانا۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، پھر مڑ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں ان سے اس وقت تک لڑوں جب تک وہ ”لا الٰہ الا اللہ“ نہ کہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اطمینان سے آگے بڑھو، جب تم ان کے پاس پہنچو تو انہیں ”لا الٰہ الا اللہ“ کہنے کی دعوت دو، پس اگر اللہ تمہاری وجہ سے کسی ایک شخص کو اسلام کی توفیق دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5929
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 187، حدیث 5950
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ تَعْرِضُ نَفْسَهَا عَلَيْهِ، فَخَفَّضَ فِيهَا الْبَصَرَ وَرَفَعَهُ، فَلَمْ يُرْجِعْهَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللهِ، زَوِّجْنِيهَا، قَالَ: «هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ؟» ، قَالَ: لَا، وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ مَا عِنْدِي مِنْ شَيْءٍ، قَالَ: «وَلَا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ؟» قَالَ: وَلَا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ أَشُقُّ بُرْدِي هَذِهِ، وأُعْطِيهَا وَآخُذُ النِّصْفَ، فَقَالَ: «لَا، وَلَكِنْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ ایک عورت آئی اور اس نے اپنے آپ کو نکاح کے لیے پیش کیا۔ آپ ﷺ نے اس کی طرف نظر نیچی کی پھر اوپر اٹھائی، لیکن اسے جواب نہ دیا۔ اس پر آپ کے صحابہ میں سے ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کا نکاح مجھ سے کر دیجیے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم یا رسول اللہ! میرے پاس کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں؟“ اس نے کہا: لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں، البتہ میں اپنی یہ چادر پھاڑ کر آدھی اسے دے دیتا ہوں اور آدھی اپنے پاس رکھ لیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ بتاؤ تمہیں قرآن میں سے کچھ یاد ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، میں نے تمہارے پاس جو قرآن ہے اس کے بدلے اس کا نکاح تم سے کر دیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5930
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 188، حدیث 5951
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ»
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک آدمی لوگوں کے سامنے جنتیوں والے عمل کرتا ہے حالانکہ وہ جہنمیوں میں سے ہوتا ہے، اور بیشک آدمی لوگوں کے سامنے جہنمیوں والے عمل کرتا ہے حالانکہ وہ جنتیوں میں سے ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5931
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 188، حدیث 5952
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِأَصْبُعِهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا»
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی درمیانی انگلی اور انگوٹھے سے متصل انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا: ”مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5932
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 188، حدیث 5953
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا»
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں صبح کو نکلنا یا شام کو نکلنا دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5933
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 188، حدیث 5954
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: اسْتَضْحَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَقَدْ رَأَيْنَاكَ ضَحِكْتَ ضِحْكًا مَا رَأَيْنَاكَ ضَحِكْتَ مِثْلَهُ، فَقَالَ: «مِنْ قَوْمٍ يُؤْتَى بِهِمْ إِلَى الْجَنَّةِ فِي كُبُولِ الْحَدِيدِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے، تو صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو ایسے ہنستے دیکھا جیسے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کچھ لوگوں کی وجہ سے جنہیں لوہے کی زنجیروں میں جکڑ کر جنت میں لایا جائے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5934
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 188، حدیث 5955