حدیث نمبر: 5930
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ تَعْرِضُ نَفْسَهَا عَلَيْهِ، فَخَفَّضَ فِيهَا الْبَصَرَ وَرَفَعَهُ، فَلَمْ يُرْجِعْهَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللهِ، زَوِّجْنِيهَا، قَالَ: «هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ؟» ، قَالَ: لَا، وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ مَا عِنْدِي مِنْ شَيْءٍ، قَالَ: «وَلَا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ؟» قَالَ: وَلَا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ أَشُقُّ بُرْدِي هَذِهِ، وأُعْطِيهَا وَآخُذُ النِّصْفَ، فَقَالَ: «لَا، وَلَكِنْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ»
ترجمہ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ ایک عورت آئی اور اس نے اپنے آپ کو نکاح کے لیے پیش کیا۔ آپ ﷺ نے اس کی طرف نظر نیچی کی پھر اوپر اٹھائی، لیکن اسے جواب نہ دیا۔ اس پر آپ کے صحابہ میں سے ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کا نکاح مجھ سے کر دیجیے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم یا رسول اللہ! میرے پاس کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں؟“ اس نے کہا: لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں، البتہ میں اپنی یہ چادر پھاڑ کر آدھی اسے دے دیتا ہوں اور آدھی اپنے پاس رکھ لیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ بتاؤ تمہیں قرآن میں سے کچھ یاد ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، میں نے تمہارے پاس جو قرآن ہے اس کے بدلے اس کا نکاح تم سے کر دیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5930
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 188، حدیث 5951