المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
فضيل بن سليمان النميري، عن أبي حازم باب: فضیل بن سلیمان نمیری کی ابوحازم سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللهُ عَلَى يَدَيْهِ» ، فَغَدَا النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَرْجُونَ أَنْ يُعْطِيَهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ: «أَيْنَ عَلِيٌّ؟» قَالُوا: هُوَ شَاكِي الْعَيْنِ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «أَرْسِلُوا بِهِ» فَأُتِيَ بِهِ فَبَسَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا، فَبَرَأَ، ثُمَّ دَفَعَ إِلَيْهِ الرَّايَةَ، فَقَالَ: «انْفُذْ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّى تَنْزِلَ بِالْقَوْمِ فَتَدْعُوَهُمْ إِلَيَّ» ، فَنَفَذَ عَلِيٌّ، ثُمَّ الْتَفَتَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، قَالَ: «عَلَى رِسْلِكَ، إِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَلَأَنْ يُسْلِمَ رَجُلٌ عَلَى يَدِكَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ»سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن فرمایا: ”میں کل یہ جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا۔“ چنانچہ لوگ صبح سویرے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، ہر ایک کو امید تھی کہ آپ اسے جھنڈا دیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”علی کہاں ہیں؟“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! ان کی آنکھیں دکھتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں بلاؤ۔“ چنانچہ انہیں لایا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا اور دعا کی تو وہ ٹھیک ہو گئیں۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں جھنڈا عطا فرمایا اور فرمایا: ”آگے بڑھو اور پیچھے مڑ کر مت دیکھنا یہاں تک کہ تم ان کے میدان میں اتر جاؤ، پھر انہیں میری طرف بلانا۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، پھر مڑ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں ان سے اس وقت تک لڑوں جب تک وہ ”لا الٰہ الا اللہ“ نہ کہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اطمینان سے آگے بڑھو، جب تم ان کے پاس پہنچو تو انہیں ”لا الٰہ الا اللہ“ کہنے کی دعوت دو، پس اگر اللہ تمہاری وجہ سے کسی ایک شخص کو اسلام کی توفیق دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔“