حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ يَحْيَى، أَخْبَرَهُ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ يَقُولُ: «يَخْرُجُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ نَاسٌ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ»
ترجمہ
…سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اس امت میں سے کچھ لوگ نکلیں گے جو دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ جَمِيلَ بْنَ أَبِي الْمَضَاءِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ لِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: كَيْفَ تَأْكُلُ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا طَعِمَ أَحَدُكُمْ مِنَ الطَّعَامِ، فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ، حَتَّى يَلْعَقَ أَصَابِعَهُ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ يُبَارَكُ لَهُ»
ترجمہ
…زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروان بن حکم نے پوچھا: تم کیسے کھاتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بتایا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنا ہاتھ اس وقت تک نہ صاف کرے جب تک اپنی انگلیاں چاٹ نہ لے، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت رکھی گئی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ بَاتَ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ، فَأَصَابَهُ وَضَحٌ، فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ»
ترجمہ
…عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اس حال میں سو جائے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، پھر اسے کوئی تکلیف پہنچے، تو وہ اپنے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔“
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي، فَلَا يَرْفَعْ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ لَا يَلْتَمِعُ»
ترجمہ
…عبیداللہ بن عبداللہ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اپنی نظر آسمان کی طرف نہ اٹھائے، ایسا نہ ہو کہ اس کی نظر چھینی جائے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَا أَعْرَبُ الْعَرَبِ، وَلَدَتْنِي قُرَيْشٌ، ونَشَأْتُ فِي بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ، فَأَنَّى يَأْتِينِي اللَّحْنُ؟»
ترجمہ
…سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نبی ہوں، جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں، میں عربوں میں سب سے زیادہ فصیح ہوں، مجھے قریش نے جنم دیا اور میں بنو سعد بن بکر میں پلا بڑھا، تو مجھ میں زبان کی غلطی کیسے آ سکتی ہے؟“
حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَذَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْظُرِ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ، وَلَا تَنْظُرِ الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ، وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ، وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ»
ترجمہ
…عبدالرحمن بن ابی سعید اپنے والد سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوئی مرد کسی مرد کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے، اور کوئی عورت کسی عورت کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے، اور کوئی مرد کسی مرد سے جسم سے جسم نہ ملائے، اور کوئی عورت کسی عورت سے جسم سے جسم نہ ملائے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو قَزَعَةَ، أَنَّ أَبَا نَضْرَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، جَعَلَنَا اللهُ فِدَاكَ، مَاذَا يَصْلُحُ لَنَا مِنَ الْأَشْرِبَةِ؟ قَالَ: «لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ» ، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، جَعَلَنَا اللهُ فِدَاكَ، أَوَتَدْرِي مَا النَّقِيرُ؟ قَالَ: «نَعَمْ، الْجِذْعُ يُنْقَرُ وَسَطُهُ، وَلَا فِي الدُّبَّاءِ، وَلَا فِي الْحَنْتَمَةِ، وَعَلَيْكُمْ بَالمُوكَأِ»
ترجمہ
…سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اللہ ہمیں آپ پر قربان کرے، ہمارے لیے کون سے مشروب موزوں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نقیر میں مت پیو۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اللہ ہمیں آپ پر قربان کرے، کیا آپ کو معلوم ہے نقیر کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، وہ کھجور کا تنا ہے جس کا درمیانی حصہ کھوکھلا کیا جاتا ہے، اور دبّاء میں بھی نہ پیو، اور حنتمہ میں بھی نہیں، اور تم پر مشکیزے کا استعمال لازم ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، ثنا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَهِمَ الرَّجُلُ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمْ يَدْرِ أَزَادَ أَمْ نَقَصَ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ»
ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جسے وہ نبی کریم ﷺ تک پہنچاتے ہیں، کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنی نماز میں بھول جائے اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے زیادہ کیا ہے یا کم، تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: «نُهِيَ أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ وَهُوَ قَائِمٌ، وَأَنْ يَلْتَقِمَ فَمَ السِّقَاءِ فَيَشْرَبَ مِنْهُ»
ترجمہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کھڑے ہو کر پانی پینے سے اور مشکیزے کے منہ کو منہ میں لے کر اس سے پینے سے منع کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَيْشِيُّ، ثنا سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عَلَى بَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَذَاكَرُ، يَنْزِعُ هَذَا بِآيَةٍ ويَنْزِعُ هَذَا بِآيَةٍ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا تَفَقَّأَ فِي وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ، فَقَالَ: «يَا هَؤُلَاءِ أَبِهَذَا بُعِثْتُمْ؟ أَمْ بِهَذَا أُمِرْتُمْ؟ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»
ترجمہ
…لوگ قرآن کی آیتوں کے بارے میں بحث کر رہے تھے، یہ کوئی ایک آیت سے کھینچ تان کرتا اور وہ کسی اور آیت سے، اتنے میں رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ آپ ﷺ کے چہرے پر گویا انار کے دانے پھوٹ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! کیا تمہیں اسی کے لیے بھیجا گیا ہے؟ یا تمہیں اسی بات کا حکم دیا گیا ہے؟ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سُوَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ: سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّنِي جِبْرِيلُ فِي الصَّلَاةِ، فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَتْ قَامَةً، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الصُّبْحَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ أَمَّنِي فِي الْيَوْمِ الثَّانِي، فَصَلَّى الظُّهْرَ وَفَيْءُ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلُهُ، وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالْفَيْءُ قَامَتَانِ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ سَاعَةَ غَابَتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، وَصَلَّى الصُّبْحَ حِينَ كَادَتِ الشَّمْسُ تَطْلُعُ» ، ثُمَّ قَالَ: «الصَّلَاةُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام نے مجھے نماز پڑھائی، انہوں نے ظہر اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا، عصر اس وقت پڑھائی جب سایہ ایک قامت کے برابر ہوا، مغرب اس وقت پڑھائی جب سورج غروب ہوا، عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق غائب ہو گئی، اور فجر اس وقت پڑھائی جب صبح صادق طلوع ہوئی۔ پھر دوسرے دن انہوں نے مجھے نماز پڑھائی، ظہر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، عصر اس وقت پڑھائی جب سایہ دو قامت کے برابر ہو گیا، مغرب سورج غروب ہوتے ہی پڑھائی، عشاء رات کے پہلے تہائی حصے تک پڑھائی، اور فجر اس وقت پڑھائی جب سورج طلوع ہونے کے قریب تھا۔“ پھر فرمایا: ”نماز کا وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، وَأَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ قُرَيْظٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ: سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّهُ: سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَاتُ مَا بَيْنَهُمَا»
وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا كَانَ لَهُ مُعْتَمَلٌ، بَيْنَ مَنْزِلِهِ ومُعْتَمَلِهِ خَمْسَةُ أَنْهَارٍ، فَإِذَا انْطَلَقَ إِلَى مُعْتَمَلِهِ عَمِلَ مَا شَاءَ اللهُ، فَأَصَابَهُ الْوَسَخُ أَوِ الْعَرَقُ، فَكُلَّمَا مَرَّ بِنَهَرٍ اغْتَسَلَ، مَا كَانَ ذَلِكَ مُنَقِّيًا مِنْ دَرَنِهِ، فَكَذَلِكَ الصَّلَوَاتُ، كُلَّمَا عَمِلَ خَطِيئَةً أَوْ مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ صَلَّى صَلَاةً اسْتَغْفَرَ، غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ قَبْلَهَا»
وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا كَانَ لَهُ مُعْتَمَلٌ، بَيْنَ مَنْزِلِهِ ومُعْتَمَلِهِ خَمْسَةُ أَنْهَارٍ، فَإِذَا انْطَلَقَ إِلَى مُعْتَمَلِهِ عَمِلَ مَا شَاءَ اللهُ، فَأَصَابَهُ الْوَسَخُ أَوِ الْعَرَقُ، فَكُلَّمَا مَرَّ بِنَهَرٍ اغْتَسَلَ، مَا كَانَ ذَلِكَ مُنَقِّيًا مِنْ دَرَنِهِ، فَكَذَلِكَ الصَّلَوَاتُ، كُلَّمَا عَمِلَ خَطِيئَةً أَوْ مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ صَلَّى صَلَاةً اسْتَغْفَرَ، غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ قَبْلَهَا»
ترجمہ
…سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے: ”پانچوں نمازیں ان کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں۔“
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر کسی آدمی کے گھر اور اس کے کام کی جگہ کے درمیان پانچ نہریں ہوں، اور جب وہ اپنے کام پر جاتا ہے تو جو اللہ چاہے کام کرتا ہے، پھر اسے میل کچیل یا پسینہ لگ جاتا ہے، اور جب بھی وہ کسی نہر کے پاس سے گزرتا ہے تو غسل کر لیتا ہے، تو کیا اس کی میل کچیل صاف نہیں ہو جائے گی؟ اسی طرح نمازیں ہیں، جب بھی کوئی گناہ کرتا ہے یا جو اللہ چاہے کرتا ہے، پھر نماز پڑھتا ہے اور استغفار کرتا ہے، تو اس سے پہلے کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔“
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر کسی آدمی کے گھر اور اس کے کام کی جگہ کے درمیان پانچ نہریں ہوں، اور جب وہ اپنے کام پر جاتا ہے تو جو اللہ چاہے کام کرتا ہے، پھر اسے میل کچیل یا پسینہ لگ جاتا ہے، اور جب بھی وہ کسی نہر کے پاس سے گزرتا ہے تو غسل کر لیتا ہے، تو کیا اس کی میل کچیل صاف نہیں ہو جائے گی؟ اسی طرح نمازیں ہیں، جب بھی کوئی گناہ کرتا ہے یا جو اللہ چاہے کرتا ہے، پھر نماز پڑھتا ہے اور استغفار کرتا ہے، تو اس سے پہلے کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُرَيْظٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صِيَامُ رَمَضَانَ إِلَى رَمَضَانَ كَفَّارَةُ مَا بَيْنَهُمَا»
ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک کے روزے، ان کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، " أَنَّ مُقْعَدًا ذَكَرَ مِنْهُ زَمَانَةً، كَانَ عِنْدَ جِدَارِ أُمِّ سَعْدٍ، فَظَهَرَ بِامْرَأَةٍ حَمْلٌ، فَسُئِلَتْ، فَقَالَتْ: هُوَ مِنْهُ، فَسُئِلَ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْلَدَ بِأثْكَالِ عِذْقِ النَّخْلِ "
ترجمہ
…ایک مفلوج آدمی کے بارے میں ذکر کیا جاتا ہے کہ وہ ام سعد کی دیوار کے پاس رہتا تھا، تو ایک عورت حاملہ ہو گئی۔ اس سے پوچھا گیا تو اس نے کہا: یہ اسی سے ہے۔ پھر اس مفلوج آدمی سے پوچھا گیا تو اس نے اعتراف کر لیا۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ اسے کھجور کے خوشوں کے گچھوں سے کوڑے مارے جائیں۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَعَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيَّانِ قَالَا: ثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى» ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ صَاحِبَ تَمْرِكَ يَشْتَرِي صَاعًا بِصَاعَيْنِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، تَمْرِي كَذَا وَكَذَا، فَلَا يَأْخُذُوهُ إِلَّا أَنْ أَزِيدَهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَفْعَلْ»
ترجمہ
…سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، نمک نمک کے بدلے، برابر برابر ہونا چاہیے، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کھایا۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ کے کھجور کے کارندے کے پاس تو ایک صاع دو صاع کے بدلے خریدتے ہیں۔ آپ ﷺ نے اسے بلوایا تو اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری کھجور اتنی اتنی ہے، وہ اسے اس کے سوا نہیں لیتے کہ میں انہیں زیادہ دوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو۔“