کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا سعد بن عائذ قرظ مؤذن انصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ الْقَرَظُ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يُدْخِلَ أَصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: «إِنَّهُ أَرْفَعُ لِصَوْتِكَ»
«وَإِنَّ أَذَانَ بِلَالٍ كَانَ مَثْنَى ومَثْنَى، وتَشَهُّدُهُ مُضَعَّفٌ، وإِقَامَتُهُ مُفْرَدَةٌ، وَقَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ مَرَّةً وَاحِدَةً، وَأَنَّهُ كَانَ يُؤَذِّنُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِلْجُمُعَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا كَانَ الْفَيْءُ مِثْلَ الشِّرَاكِ»
«وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْعِيدَيْنِ سَلَكَ عَلَى دَارِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ثُمَّ عَلَى أَصْحَابِ الْفَسَاطِيطِ، ثُمَّ بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ كَبَّرَ فِي الْأُولَى سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، وَفِي الْآخِرَةِ خَمْسًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ انْصَرَفَ مِنَ الطَّرِيقِ الْآخَرِ، مِنْ طَرِيقِ بَنِي زُرَيْقٍ، فَذَبَحَ أُضْحِيَّتَهُ عِنْدَ طَرَفِ الزُّقَاقِ بِيَدِهِ بِشَفْرَةٍ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَى دَارِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَدَارِ أَبِي هُرَيْرَةَ بِالْبَلَاطِ»
«وَكَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدَيْنِ مَاشِيًا، وَيَرْجِعُ مَاشِيًا، وَكَانَ يُكَبِّرُ بَيْنَ أَضْعَافِ الْخُطْبَةِ، وَيُكْثِرُ التَّكْبِيرَ فِي الْخُطْبَةِ لِلْعِيدَيْنِ»
«وَكَانَ إِذَا خَطَبَ فِي الْحَرْبِ، خَطَبَ عَلَى قَوْسٍ» ، «وَإِذَا خَطَبَ فِي الْجُمُعَةِ، خَطَبَ عَلَى عَصًا» ، وَإِنَّ بِلَالًا كَانَ إِذَا كَبَّرَ بِالْأَذَانِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ يَقُولُ: " اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، مَرَّتَيْنِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ مَرَّتَيْنِ، وَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ يَنْحَرِفُ عَنْ يَمِينِ الْقِبْلَةِ، فَيَقُولُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ يَنْحَرِفُ عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ، فَيَقُولُ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ، فَيَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ "
ترجمہ
عمار بن سعد قرظ، رسول اللہ ﷺ کے مؤذن، اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سعد قرظ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالیں اور فرمایا: ”یہ تمہاری آواز کو بلند کرنے میں زیادہ مددگار ہے۔“
اور یہ کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان دو دو بار اور ان کا تشہد دہرایا ہوا ہوتا تھا، جبکہ ان کی اقامت اکہری تھی، اور ”قد قامت الصلاۃ“ صرف ایک بار کہتے تھے۔ اور وہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جمعہ کے دن جمعہ کے لیے اذان اس وقت دیتے تھے جب سایہ جوتے کے تسمے کے برابر ہو جاتا۔
اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ جب دونوں عیدوں کے لیے نکلتے تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے گھر کے راستے سے، پھر خیمہ زنوں کے پاس سے گزرتے، پھر خطبے سے پہلے نماز شروع کرتے، پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات تکبیریں کہتے اور دوسری میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہتے، پھر لوگوں کو خطبہ دیتے، پھر دوسرے راستے سے، یعنی بنو زریق کے راستے سے واپس لوٹتے، اور گلی کے سرے پر اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے چھری کے ساتھ ذبح کرتے، پھر سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے گھروں کے راستے سے بلاط کی طرف نکلتے۔
اور آپ ﷺ عیدوں کے لیے پیدل جاتے اور پیدل ہی واپس آتے، اور خطبے کے دوران کئی بار تکبیر کہتے اور دونوں عیدوں کے خطبے میں کثرت سے تکبیر کہتے۔
اور جب جنگ کے موقع پر خطبہ دیتے تو کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ دیتے، اور جمعہ کے خطبے میں لاٹھی پر ٹیک لگاتے۔ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ جب اذان میں تکبیر کہتے تو قبلہ رخ ہوتے، پھر کہتے: اللہ اکبر اللہ اکبر، اشھد ان لا الٰہ الا اللہ (دو بار)، اشھد ان محمداً رسول اللہ (دو بار)، پھر قبلہ رخ ہو کر دائیں طرف مڑتے اور کہتے: حي علی الصلاۃ (دو بار)، پھر بائیں طرف مڑتے اور کہتے: حي علی الفلاح (دو بار)، پھر قبلہ رخ ہو کر کہتے: اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الٰہ الا اللہ، واللہ اکبر۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5429
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 39، حدیث 5448
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ الْقَرَظِ، أَنَّ أَبَاهُ، وعُمُومَتَهُ أَخْبَرُوهُ: «أَنَّ سَعْدًا الْقَرَظَ كَانَ مُؤَذِّنًا لِأَهْلِ قُبَاءَ، فَانْتَقَلَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَاتَّخَذَهُ مُؤَذِّنًا» ، إِنَّ السُّنَّةَ فِي صَلَاةِ الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ أَنْ يُكَبِّرَ الْإِمَامُ فِي الْأُولَى سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، وَيُكَبِّرَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ خَمْسَ تَكْبِيرَاتٍ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ "
ترجمہ
حفص بن عمر بن سعد قرظ، اپنے والد اور چچاؤں کے واسطے سے بتاتے ہیں کہ سعد قرظ رضی اللہ عنہ قباء والوں کے مؤذن تھے، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں مدینہ منتقل کر کے اپنا مؤذن بنا لیا۔ سنت یہ ہے کہ عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز میں امام پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات تکبیریں کہے، اور دوسری رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5430
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 40، حدیث 5449
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، وَعَنْ عَمَّارٍ، وَعُمَرَ ابْنَيْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ آبَائِهِمْ، عَنْ أجْدَادِهِمْ، عَنْ سَعْدٍ، «أَنَّ أَوَّلَ مَا بَدَأَ الْأَذَانُ أَنَّهُ أُرِيَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَخْبَرَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا أَنْ يُؤَذِّنَ» ، فَأَلْقَاهُ عَلَيْهِ الْأَنْصَارِيُّ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، ثُمَّ عَادَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ
ترجمہ
…عبدالرحمن بن سعد بن عمار بن سعد، عبداللہ بن محمد بن سعد اور عمار و عمر (حفص بن عمر بن سعد کے بیٹوں) سے، وہ اپنے آباء سے، وہ اپنے اجداد سے، وہ سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اذان کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ انصار میں سے ایک آدمی کو خواب میں اذان دکھائی گئی، تو اس نے نبی کریم ﷺ کو یہ بات بتائی، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اذان دیں۔ اس انصاری نے اسے یوں سکھایا: اللہ اکبر اللہ اکبر، اشھد ان لا الٰہ الا اللہ، اشھد ان لا الٰہ الا اللہ، اشھد ان محمداً رسول اللہ، اشھد ان محمداً رسول اللہ، پھر دوبارہ کہا: اشھد ان لا الٰہ الا اللہ، اشھد ان لا الٰہ الا اللہ، اشھد ان محمداً رسول اللہ، اشھد ان محمداً رسول اللہ، حي علی الصلاۃ حي علی الصلاۃ، حي علی الفلاح حي علی الفلاح، اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الٰہ الا اللہ۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5431
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 40، حدیث 5450
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْأَوَّلِ، ثنا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، ثنا الْحَوْضِيُّ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ «وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَعَلَ لَهُ أَذَانًا»
ترجمہ
…(راوی) اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے اذان کی ذمہ داری مقرر فرما دی تھی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5432
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 40، حدیث 5451
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عَائِذِ الْقَرَظُ، ٢٥ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ، وَعَنْ عَمَّارٍ، وَعُمَرَ ابْنَيْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ آبَائِهِمْ، عَنْ أجْدَادِهِمْ، عنْ سَعْدٍ الْقَرَظِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَيَّ سَاعَةٍ أَتَى قُبَاءَ أَذَّنَ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ، لِأَنْ يَعْلَمَ النَّاسُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَاءَ، فَيَجْتَمِعُوا إِلَيْهِ، فَأَتَى يَوْمًا وَلَيْسَ مَعَهُ بِلَالٌ فَنَظَرَ زُنُوجُ النُّصْحِ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَرَقَى سَعْدٌ فِي عِذْقِ الْأَذَانِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ تُؤَذِّنَ يَا سَعْدُ» ، قَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي، رَأَيْتُكَ فِي قِلَّةٍ مِنَ النَّاسِ، وَلَمْ أَرَ بِلَالًا مَعَكَ، وَرَأَيْتُ هَؤُلَاءِ الزُّنُوجِ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْكَ، فَخَشِيتُ عَلَيْكَ مِنْهُمْ، فَأَذَّنْتُ، قَالَ: «أَصَبْتَ يَا سَعْدُ، إِذَا لَمْ تَرَ بِلَالًا مَعِي فَأَذِّنْ» ، فَأَذَّنَ سَعْدٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
…تاکہ وہ ان کے پاس جمع ہو جائیں، ایک دن وہ آئے جبکہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ نہ تھے، تو زنگی لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، اس پر سعد رضی اللہ عنہ اذان دینے کی جگہ پر چڑھ گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے سعد! تمہیں اذان دینے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟“ انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے آپ کو لوگوں کی کمی میں دیکھا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو آپ کے ساتھ نہیں دیکھا، اور میں نے دیکھا کہ یہ زنگی لوگ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں اور آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں، تو مجھے ان کی طرف سے آپ پر خدشہ ہوا، اس لیے میں نے اذان دے دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے درست کیا اے سعد، جب بلال کو میرے ساتھ نہ دیکھو تو تم اذان دے دیا کرو۔“ چنانچہ سعد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی زندگی میں تین بار اذان دی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5433
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 40، حدیث 5452
وَبِإِسْنَادِهِ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ، بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي الْمَطَرِ»
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ بارش کے وقت مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر لیتے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5434
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 41، حدیث 5453
وَبِإِسْنَادِهِ «أَنَّ النَّجَاشِيَّ بَعَثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثِ عَنْزَاتٍ، فَأَمْسَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً لِنَفْسِهِ، وَأَعْطَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاحِدَةً، وَعُمَرَ وَاحِدَةً، وَكَانَ بِلَالٌ يَمْشِي بِهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَيَرْكُزُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فِي الْعِيدَيْنِ، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا»
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے کہ نجاشی نے نبی کریم ﷺ کے پاس تین چھوٹے نیزے بھیجے، تو نبی کریم ﷺ نے ایک اپنے پاس رکھا، ایک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیا اور ایک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیا۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اسے آپ ﷺ کے آگے آگے لے کر چلتے اور دونوں عیدوں کے موقع پر اسے آپ ﷺ کے سامنے گاڑ دیتے، تو آپ ﷺ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5435
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 41، حدیث 5454