المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
وما أسند أبو سعيد الخدري رضي الله عنه باب: اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 5420
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو قَزَعَةَ، أَنَّ أَبَا نَضْرَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، جَعَلَنَا اللهُ فِدَاكَ، مَاذَا يَصْلُحُ لَنَا مِنَ الْأَشْرِبَةِ؟ قَالَ: «لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ» ، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، جَعَلَنَا اللهُ فِدَاكَ، أَوَتَدْرِي مَا النَّقِيرُ؟ قَالَ: «نَعَمْ، الْجِذْعُ يُنْقَرُ وَسَطُهُ، وَلَا فِي الدُّبَّاءِ، وَلَا فِي الْحَنْتَمَةِ، وَعَلَيْكُمْ بَالمُوكَأِ»ترجمہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اللہ ہمیں آپ پر قربان کرے، ہمارے لیے کون سے مشروب موزوں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نقیر میں مت پیو۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اللہ ہمیں آپ پر قربان کرے، کیا آپ کو معلوم ہے نقیر کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، وہ کھجور کا تنا ہے جس کا درمیانی حصہ کھوکھلا کیا جاتا ہے، اور دبّاء (کدو کی تونبی) میں بھی نہ پیو، اور حنتمہ (سبز مٹکے) میں بھی نہیں، اور تم مشکیزے کا استعمال لازم پکڑو۔“