حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ مَنْصُورٍ الْكَلْبِيِّ، أَنَّ دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ، خَرَجَ مِنْ قَرْيَتِهِ بِدِمَشْقَ الْمَزَّةِ إِلَى قَدْرِ قَرْيَةِ عُقْبَةَ فِي رَمَضَانَ، ثُمَّ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ مَعَهُ النَّاسُ وَكَرِهَ آخَرُونَ أَنْ يُفْطِرُوا، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى قَرْيَتِهِ قَالَ: «وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا مَا كُنْتُ أَظُنُّنِي أَرَاهُ، إِنَّ قَوْمًا رَغِبُوا عَنْ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ» ، يَقُولُ ذَلِكَ لِلَّذِينَ صَامُوا، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: «اللهُمَّ اقْبِضْنِي إِلَيْكَ»
ترجمہ
...(وہ اپنی بستی دمشق کی مزہ سے) رمضان میں قریہ عقبہ کے برابر نکلے، پھر روزہ افطار کر لیا اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ افطار کیا جبکہ بعض نے افطار کرنا ناپسند کیا۔ جب وہ اپنی بستی لوٹے تو فرمایا: اللہ کی قسم! آج میں نے ایک ایسی بات دیکھی جس کا مجھے گمان بھی نہ تھا کہ میں دیکھوں گا: کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کے طریقے سے منہ موڑ لیا — یہ بات وہ روزہ رکھنے والوں کے بارے میں کہہ رہے تھے۔ پھر اسی موقع پر فرمایا: ”اے اللہ! مجھے اپنی طرف اٹھا لے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا، يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَيْصَرَ صَاحِبِ الرُّومِ بِكِتَابٍ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذَنُوا لِرَسُولِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ قَيْصَرُ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ عَلَى الْبَابِ رَجُلًا يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَزِعُوا لِذَلِكَ فَقَالَ: أَدْخِلْهُ، فَأَدْخَلَنِي عَلَيْهِ وَعِنْدَهُ بَطَارِقَتُهُ، فَأَعْطَيْتُهُ الْكِتَابَ فَقُرِئَ عَلَيْهِ، فَإِذَا فِيهِ: «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ إِلَى قَيْصَرَ صَاحِبِ الرُّومِ» فَنَخَرَ ابْنُ أَخٍ لَهُ أَحْمَرُ أَزْرَقُ سَبِطٌ، فَقَالَ: لَا تَقْرَإِ الْكِتَابَ الْيَوْمَ بَدَأَ بِنَفْسِهِ، وَكَتَبَ صَاحِبَ الرُّومِ، لَمْ يَكْتُبْ مَلِكَ الرُّومِ، قَالَ: فَقُرِئَ الْكِتَابُ حَتَّى فَرَغَ مِنْهُمْ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَخَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيَّ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَسَأَلَنِي فَأَخْبَرْتُهُ، فَبَعَثَ إِلَى الْأَسْقُفِّ فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَكَانَ صَاحِبَ أَمْرِهِمْ يَصْدُرُونَ عَنْ رَأْيَهُ وَعَنْ قَوْلِهِ، فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ قَالَ الْأُسْقُفُّ: هُوَ وَاللهِ الَّذِي بَشَّرَنَا بِهِ مُوسَى، وَعِيسَى الَّذِي كُنَّا نَنْتَظِرُ، قَالَ قَيْصَرُ: فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا فَإِنِّي مُصَدِّقُهُ ومُتَّبِعُهُ، فَقَالَ قَيْصَرُ: أَعْرِفُ أَنَّهُ كَذَلِكَ، وَلَكِنْ لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَفْعَلَ، إِنْ فَعَلْتُ ذَهَبَ مُلْكِي وقَتَلَنِي الرُّومُ
ترجمہ
...(دربان نے کہا) دروازے پر ایک آدمی ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہے، تو وہ اس سے گھبرا گئے، تو اس (بادشاہ) نے کہا: اسے اندر لاؤ۔ چنانچہ مجھے اس کے پاس لے گئے، اس کے پاس اس کے سردار (بطارقہ) موجود تھے، میں نے اسے خط دیا تو وہ اس کے سامنے پڑھا گیا، اس میں یہ تھا: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم، محمد اللہ کے رسول کی طرف سے، روم کے حکمران قیصر کے نام۔“ اس پر اس کے ایک سرخ، نیلی آنکھوں والے اور سیدھے بالوں والے بھتیجے نے آواز نکالی اور کہا: آج خط مت پڑھو، اس نے اپنی ذات سے آغاز کیا ہے، اور 'روم کے حکمران' لکھا ہے، 'روم کا بادشاہ' نہیں لکھا۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ خط پڑھا گیا یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوئے، پھر اس نے انہیں حکم دیا تو وہ اس کے پاس سے نکل گئے۔ پھر اس نے مجھے بلا بھیجا، میں اس کے پاس گیا، اس نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اسے بتایا۔ پھر اس نے بشپ کو بلا بھیجا، وہ اس کے پاس آیا، اور وہ ان کے معاملات کا نگران تھا، وہ اسی کی رائے اور بات کی طرف رجوع کرتے تھے۔ جب اس نے خط پڑھا تو بشپ نے کہا: اللہ کی قسم! یہی وہ ہے جس کی خوشخبری موسیٰ اور عیسیٰ نے ہمیں دی تھی، جس کا ہم انتظار کر رہے تھے۔ قیصر نے کہا: تو تم مجھے کیا حکم دیتے ہو؟ اس نے کہا: میں تو اس کی تصدیق کرتا ہوں اور اس کی پیروی کرتا ہوں۔ قیصر نے کہا: میں جانتا ہوں کہ ایسا ہی ہے، لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا، اگر میں ایسا کروں تو میری بادشاہت جاتی رہے گی اور رومی مجھے قتل کر دیں گے۔
حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَيَّاشٍ، حَدَّثَهُ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَاطِي فَأَعْطَانِي قُبْطِيَّةً فَقَالَ: «اصْدَعْهَا صَدْعَتَيْنِ فَاقْطَعْ أَحَدَهُمَا قَمِيصًا وأَعْطِ الْآخَرَ امْرَأَتَكَ لِتَخْتَمِرَ بِهَا» فَلَمَّا أَدْبَرَتُ قَالَ: «مُرِ امْرَأَتَكَ أَنْ تَجْعَلَ تَحْتَ صَدْعَتِهَا ثَوْبًا لَا تَصِفُهَا»
ترجمہ
...رسول اللہ ﷺ نے قبطی کپڑا لیا اور مجھے ایک قبطیہ عطا فرمایا اور فرمایا: ”اسے دو حصوں میں پھاڑ لو، ایک سے قمیص بنا لو اور دوسرا اپنی بیوی کو دے دو کہ وہ اس سے اوڑھنی بنائے۔“ جب میں پیٹھ موڑ کر جانے لگا تو فرمایا: ”اپنی بیوی سے کہو کہ وہ اس کپڑے کے نیچے ایک اور کپڑا لگا لے تاکہ اس کا بدن نمایاں نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، ثنا، يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، قَالَ: «أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةٌ صُوفٌ وخُفَّيْنِ فَلَبِسَهُمَا حَتَّى تَخَرَّقَا وَلَمْ يَسْأَلْ عَنْهُمَا ذَكَّيْنَاهُمَا أَمْ لَا»
ترجمہ
سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کو اونی جبہ اور موزے ہدیہ کیے گئے، تو آپ ﷺ نے انہیں پہنا یہاں تک کہ وہ پھٹ گئے، اور آپ نے یہ نہیں پوچھا کہ ان کی کھال کسی ذبح شدہ (حلال جانور) کی ہے یا نہیں۔