حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ عَنْ أَبِي هِلَالٍ الرَّاسِبِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْسَلَ إِلَى دَغْفَلٍ فَسَأَلَهُ عَنِ الْعَرَبِيَّةِ وَعَنْ أَنْسَابِ النَّاسِ، وَسَأَلَهُ عَنِ النُّجُومِ، فَإِذَا عَالِمٌ فَقَالَ: يَا دَغْفَلُ مِنْ أَيْنَ حَفِظْتَ هَذَا؟ فَقَالَ: «حَفِظْتُ هَذَا بِلِسَانٍ سَئُولٍ وَقَلْبٍ عَقُولٍ وَإِنَّ آفَةَ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ» ، قَالَ: فَاذْهَبْ بِيَزِيدَ فَعَلِّمْهُ الْعَرَبِيَّةَ وَأَنْسَابَ قُرَيْشٍ وَالنُّجُومَ
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: معاویہ رضی اللہ عنہ نے دغفل کی طرف آدمی بھیجا اور ان سے عربی زبان، لوگوں کے نسب اور ستاروں کے بارے میں پوچھا، تو وہ (اس فن کے) عالم نکلے، تو انہوں نے کہا: اے دغفل! تم نے یہ کہاں سے یاد کیا؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ سوال کرنے والی زبان اور یاد رکھنے والے دل سے یاد کیا، اور علم کی آفت بھول جانا ہے۔ انہوں نے کہا: پھر یزید کو لے جاؤ اور اسے عربی، قریش کے نسب اور ستاروں کی تعلیم دو۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ السِّمْسَارُ، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالُوا: ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ دَغْفَلِ بْنِ حَنْظَلَةَ، قَالَ: «تُوُفِّيِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ سَنَةً»
ترجمہ
دغفل بن حنظلہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی جبکہ آپ کی عمر پینسٹھ سال تھی۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، قَالَا: ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ دَغْفَلِ بْنِ حَنْظَلَةَ، قَالَ: " كَانَ عَلَى النَّصَارَى صَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ فَكَانَ عَلَيْهِمْ مَلِكٌ فَمَرِضَ، فَقَالَ: لَئِنْ شَفَاهُ اللهُ لَيَزِيدَنَّ عَشْرًا، ثُمَّ كَانَ عَلَيْهِمْ مَلِكٌ بَعْدَهُ، فَأَكَلَ اللَّحْمَ فَوَجِعَ، فَقَالَ: لَئِنْ شَفَاهُ اللهُ لَيَزِيدَنَّ ثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ كَانَ مَلِكٌ بَعْدَهُ، فَقَالَ: مَا نَدَعُ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ أَنْ نُتِمَّهَا وَنَجْعَلُ صَوْمَنَا فِي الرَّبِيعِ، فَفَعَلَ فَصَارَتْ خَمْسِينَ يَوْمًا "
ترجمہ
دغفل بن حنظلہ بیان کرتے ہیں: عیسائیوں پر رمضان کے مہینے کا روزہ فرض تھا۔ ان پر ایک بادشاہ تھا جو بیمار ہو گیا تو اس نے کہا: اگر اللہ نے مجھے شفا دی تو میں (اس میں) ضرور دس دن کا اضافہ کروں گا۔ پھر ان پر اس کے بعد ایک اور بادشاہ آیا، اس نے گوشت کھایا تو بیمار پڑ گیا، اس نے کہا: اگر اللہ نے مجھے شفا دی تو میں (اس میں) ضرور آٹھ دن کا اضافہ کروں گا۔ پھر ان پر اس کے بعد ایک اور بادشاہ آیا، اس نے کہا: ہم ان دنوں میں سے کچھ نہیں چھوڑیں گے بلکہ انہیں پورا کریں گے، اور اپنا روزہ بہار کے موسم میں رکھیں گے۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا، تو وہ پچاس دن کا ہو گیا۔