حدیث نمبر: 4183
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا، يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَيْصَرَ صَاحِبِ الرُّومِ بِكِتَابٍ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذَنُوا لِرَسُولِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ قَيْصَرُ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ عَلَى الْبَابِ رَجُلًا يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَزِعُوا لِذَلِكَ فَقَالَ: أَدْخِلْهُ، فَأَدْخَلَنِي عَلَيْهِ وَعِنْدَهُ بَطَارِقَتُهُ، فَأَعْطَيْتُهُ الْكِتَابَ فَقُرِئَ عَلَيْهِ، فَإِذَا فِيهِ: «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ إِلَى قَيْصَرَ صَاحِبِ الرُّومِ» فَنَخَرَ ابْنُ أَخٍ لَهُ أَحْمَرُ أَزْرَقُ سَبِطٌ، فَقَالَ: لَا تَقْرَإِ الْكِتَابَ الْيَوْمَ بَدَأَ بِنَفْسِهِ، وَكَتَبَ صَاحِبَ الرُّومِ، لَمْ يَكْتُبْ مَلِكَ الرُّومِ، قَالَ: فَقُرِئَ الْكِتَابُ حَتَّى فَرَغَ مِنْهُمْ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَخَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيَّ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَسَأَلَنِي فَأَخْبَرْتُهُ، فَبَعَثَ إِلَى الْأَسْقُفِّ فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَكَانَ صَاحِبَ أَمْرِهِمْ يَصْدُرُونَ عَنْ رَأْيَهُ وَعَنْ قَوْلِهِ، فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ قَالَ الْأُسْقُفُّ: هُوَ وَاللهِ الَّذِي بَشَّرَنَا بِهِ مُوسَى، وَعِيسَى الَّذِي كُنَّا نَنْتَظِرُ، قَالَ قَيْصَرُ: فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا فَإِنِّي مُصَدِّقُهُ ومُتَّبِعُهُ، فَقَالَ قَيْصَرُ: أَعْرِفُ أَنَّهُ كَذَلِكَ، وَلَكِنْ لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَفْعَلَ، إِنْ فَعَلْتُ ذَهَبَ مُلْكِي وقَتَلَنِي الرُّومُ
ترجمہ

...(دربان نے کہا) دروازے پر ایک آدمی ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہے، تو وہ اس سے گھبرا گئے، تو اس (بادشاہ) نے کہا: اسے اندر لاؤ۔ چنانچہ مجھے اس کے پاس لے گئے، اس کے پاس اس کے سردار (بطارقہ) موجود تھے، میں نے اسے خط دیا تو وہ اس کے سامنے پڑھا گیا، اس میں یہ تھا: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم، محمد اللہ کے رسول کی طرف سے، روم کے حکمران قیصر کے نام۔“ اس پر اس کے ایک سرخ، نیلی آنکھوں والے اور سیدھے بالوں والے بھتیجے نے آواز نکالی اور کہا: آج خط مت پڑھو، اس نے اپنی ذات سے آغاز کیا ہے، اور 'روم کے حکمران' لکھا ہے، 'روم کا بادشاہ' نہیں لکھا۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ خط پڑھا گیا یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوئے، پھر اس نے انہیں حکم دیا تو وہ اس کے پاس سے نکل گئے۔ پھر اس نے مجھے بلا بھیجا، میں اس کے پاس گیا، اس نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اسے بتایا۔ پھر اس نے بشپ کو بلا بھیجا، وہ اس کے پاس آیا، اور وہ ان کے معاملات کا نگران تھا، وہ اسی کی رائے اور بات کی طرف رجوع کرتے تھے۔ جب اس نے خط پڑھا تو بشپ نے کہا: اللہ کی قسم! یہی وہ ہے جس کی خوشخبری موسیٰ اور عیسیٰ نے ہمیں دی تھی، جس کا ہم انتظار کر رہے تھے۔ قیصر نے کہا: تو تم مجھے کیا حکم دیتے ہو؟ اس نے کہا: میں تو اس کی تصدیق کرتا ہوں اور اس کی پیروی کرتا ہوں۔ قیصر نے کہا: میں جانتا ہوں کہ ایسا ہی ہے، لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا، اگر میں ایسا کروں تو میری بادشاہت جاتی رہے گی اور رومی مجھے قتل کر دیں گے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الدال / حدیث: 4183
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 225، حدیث 4198