کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا خالد بن عرفطہ عذری رضی اللہ عنہ (عذرہ قبیلہ قضاعہ سے تھا، آپ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی طرف سے کوفہ کے نائب تھے، پھر زیاد نے بھی آپ کو کوفہ پر عامل بنایا)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ خَالِدٍ «وَكَانَ سَعْدٌ اسْتَخْلَفَهُ عَلَى الْكُوفَةِ»
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں (خالد بن عرفطہ کو) کوفہ پر اپنا خلیفہ (قائم مقام) مقرر کیا تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 4083
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 188، حدیث 4098
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا، ثنا، حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا خَالِدُ إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ وأَحْدَاثٌ وَاخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ الْمَقْتُولَ لَا الْقَاتِلَ فَافْعَلْ»
ترجمہ
سیدنا خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے خالد! عنقریب فتنہ، نئے واقعات، اختلاف اور تفرقہ رونما ہوں گے، جب ایسا ہو تو اگر تم سے ہو سکے کہ قاتل کے بجائے مقتول بن جاؤ تو ایسا ہی کرو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 4084
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 189، حدیث 4099
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَشِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُسْلِمٍ، مَوْلَى خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
ترجمہ
سیدنا خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو شخص جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 4085
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 189، حدیث 4100
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ يَسَارٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، وَخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ فَبَلَغَهُمَا أَنَّ رَجُلًا مَاتَ بِالْبَطْنِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: أَلَمْ يَبْلُغْكَ أَوْ أَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ فَلَنْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهِ» ، قَالَ: بَلَى
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: میں سلیمان بن صرد اور خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا تھا، انہیں خبر ملی کہ ایک شخص پیٹ کی بیماری سے فوت ہو گیا ہے، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں، یا تم نے نہیں سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے اس کے پیٹ (کی بیماری) نے موت دی، اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا“؟ اس نے کہا: کیوں نہیں (سنا ہے)۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 4086
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 189، حدیث 4101
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ، ثنا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، لِخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ لَمْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهِ؟» قَالَ خَالِدٌ: نَعَمْ
ترجمہ
عبداللہ بن یسار جہنی بیان کرتے ہیں: سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا: ”جسے اس کے پیٹ نے موت دی، اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا“؟ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 4087
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 190، حدیث 4102
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَأَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ جُهَيْنَةَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ، فَلَمَّا كَانَ كَالْغَدِ جَلَسْتُ إِلَى سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، وَخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ فَقَالَا: مَا مَنَعَكَ أَنْ تُؤْذِنَنَا بِجِنَازَةِ الرَّجُلِ الصَّالِحِ فَنَشْهَدَهُ؟، قُلْنَا: كَانَ الْحَرُّ وَكَانَ الرَّجُلُ مَبْطُونًا، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: أَلَمْ تَسْمَعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ يَقْتُلُهُ بَطْنُهُ لَمْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهِ؟» ، قَالَ: بَلَى
ترجمہ
...ان دونوں نے کہا: تمہیں کس چیز نے روکا کہ تم ہمیں اس نیک آدمی کے جنازے کی خبر نہ دیتے تاکہ ہم اس میں شریک ہوتے؟ ہم نے کہا: گرمی بہت تھی اور وہ شخص پیٹ کی بیماری میں مبتلا تھا (اس لیے جلدی دفن کر دیا)۔ اس پر ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: کیا تم نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا: ”جسے اس کے پیٹ نے موت دی، اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا“؟ اس نے کہا: کیوں نہیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 4088
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 190، حدیث 4103
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، وَخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ فَبَلَغَهُمَا أَنَّ رَجُلًا مَاتَ بِالْبَطْنِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ يَقْتُلُهُ بَطْنُهُ لَمْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهِ؟» قَالَ: بَلَى
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: میں سلیمان بن صرد اور خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا تھا، انہیں خبر ملی کہ ایک شخص پیٹ کی بیماری سے فوت ہو گیا ہے، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا: ”جسے اس کے پیٹ نے موت دی، اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا“؟ اس نے کہا: کیوں نہیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 4089
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 190، حدیث 4104
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ، وَهُوَ يَقُولُ لِخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ لَمْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهِ؟» قَالَ: نَعَمْ
ترجمہ
عبداللہ بن یسار بیان کرتے ہیں: انہوں نے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ کو خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے سنا: کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا: ”جسے اس کے پیٹ نے موت دی، اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا“؟ خالد نے کہا: ہاں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 4090
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 190، حدیث 4105
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ يُونُسَ الزَّيَّاتُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، وَخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ يَقْتُلُهُ بَطْنُهُ لَمْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهِ»
ترجمہ
عبداللہ بن یسار بیان کرتے ہیں: میں سلیمان بن صرد اور خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا تھا، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا: ”جسے اس کے پیٹ نے موت دی، اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا“؟
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 4091
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 190، حدیث 4106
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُبَاتَةَ الرَّازِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ الْخَرَّازُ الرَّازِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُقْرِئُ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنَّا كَانَ بِهِ الْبَطْنُ فَبَكَّرْنَا بِهِ فَأَتَيْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، وَخَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ فَقَالَ سُلَيْمَانُ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تُؤْذِنَنَا بِصَاحِبِكُمْ؟، قُلْتُ: كَانَ بِهِ الْبَطْنُ فَبَكَّرْنَا بِهِ، فَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يُعَذَّبُ فِي الْقَبْرِ صَاحِبُ الْبَطْنِ» أَمَا تَشْهَدُ يَا، خَالِدُ؟، قَالَ: بَلَى
ترجمہ
...(راوی اور) خالد بن عرفطہ (موجود تھے) تو سلیمان (بن صرد) نے کہا: تمہیں کس چیز نے روکا کہ تم ہمیں اپنے ساتھی (کی وفات) کی خبر نہ دیتے؟ میں نے کہا: وہ پیٹ کی بیماری میں مبتلا تھے، اس لیے ہم نے جلدی (تدفین) کر دی۔ سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”پیٹ کی بیماری والے کو قبر میں عذاب نہیں دیا جاتا“۔ (پھر خالد سے پوچھا:) اے خالد! کیا تم بھی اس کی گواہی نہیں دیتے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 4092
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 191، حدیث 4107
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَشْوَعَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: كَانَ لَنَا مَيِّتٌ فَعَجَّلْنَا بِهِ فَجِئْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَقِيَنِي خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، فَقَالَا: أَلَا آذَنْتَنَا بِهِ؟، فَقُلْتُ: كَانَ مَبْطُونًا، فَقَالَا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «صَاحِبُ الْبَطْنِ لَا يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ»
ترجمہ
...اور سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے ہمیں اس کی خبر کیوں نہ دی؟ میں نے کہا: وہ پیٹ کی بیماری میں مبتلا تھے۔ ان دونوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”پیٹ کی بیماری والے کو اس کی قبر میں عذاب نہیں دیا جاتا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 4093
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 191، حدیث 4108
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطٍ، ثنا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، ثنا أَبُو سِنَانَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، قَالَ: قَالَ خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ، لِسُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، أَوْ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، لِخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ لَمْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهِ؟» فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: نَعَمْ
ترجمہ
ابواسحاق سبیعی بیان کرتے ہیں: خالد بن عرفطہ نے سلیمان بن صرد سے، یا سلیمان بن صرد نے خالد بن عرفطہ سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا: ”جسے اس کے پیٹ نے موت دی، اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا“؟ تو دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ہاں (سنا ہے)۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 4094
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 191، حدیث 4109
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَالْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، وَجَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانَ الْوَاسِطِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الزِّيَادِيُّ، قَالَا: ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْعُرْفُطِيُّ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْبَزَّازُ، عَنْ كِلَابِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ رَافِعًا يَدَيْهِ يَقُولُ: «اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا»
ترجمہ
سیدنا خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے ہاتھ اٹھائے یہ دعا کرتے دیکھا: ”اے اللہ! قبیلہ احمس کے گھوڑوں اور اس کے سواروں پر برکت نازل فرما۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 4095
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 191، حدیث 4110
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ حَمْدَانَ الْحَنَفِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ يَوْمَ قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ لَنَا خَالِدٌ: هَذَا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّكُمْ سَتُبْتَلَوْنَ فِي أَهْلِ بَيْتِي مِنْ بَعْدِي»
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: جس دن حسین بن علی رضی اللہ عنہما شہید کیے گئے، اس دن ہم خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، تو خالد رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا: یہ وہ بات ہے جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”تم عنقریب میرے بعد میرے اہلِ بیت کے بارے میں آزمائے جاؤ گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 4096
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 192، حدیث 4111