المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خالد بن عرفطة العذري " وعذرة من قضاعة وكان خليفة سعد بن أبي وقاص على الكوفة ثم استعمله زياد على الكوفة " باب: سیدنا خالد بن عرفطہ عذری رضی اللہ عنہ (عذرہ قبیلہ قضاعہ سے تھا، آپ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی طرف سے کوفہ کے نائب تھے، پھر زیاد نے بھی آپ کو کوفہ پر عامل بنایا)
حدیث نمبر: 4088
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَأَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ جُهَيْنَةَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ، فَلَمَّا كَانَ كَالْغَدِ جَلَسْتُ إِلَى سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، وَخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ فَقَالَا: مَا مَنَعَكَ أَنْ تُؤْذِنَنَا بِجِنَازَةِ الرَّجُلِ الصَّالِحِ فَنَشْهَدَهُ؟، قُلْنَا: كَانَ الْحَرُّ وَكَانَ الرَّجُلُ مَبْطُونًا، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: أَلَمْ تَسْمَعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ يَقْتُلُهُ بَطْنُهُ لَمْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهِ؟» ، قَالَ: بَلَىترجمہ
...ان دونوں نے کہا: تمہیں کس چیز نے روکا کہ تم ہمیں اس نیک آدمی کے جنازے کی خبر نہ دیتے تاکہ ہم اس میں شریک ہوتے؟ ہم نے کہا: گرمی بہت تھی اور وہ شخص پیٹ کی بیماری میں مبتلا تھا (اس لیے جلدی دفن کر دیا)۔ اس پر ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: کیا تم نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا: ”جسے اس کے پیٹ نے موت دی، اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا“؟ اس نے کہا: کیوں نہیں۔