کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا خالد ابونافع خزاعی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ طَارِقٍ، حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، ثنا نَافِعُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ صَلَاةً، فَأَخَفَّ وَجَلَسَ، فَأَطَالَ الْجُلُوسَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ أَطَلْتَ الْجُلُوسَ فِي صَلَاتِكَ قَالَ: «إِنَّهَا صَلَاةُ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ سَأَلْتُ اللهَ فِيهَا ثَلَاثَ خِصَالٍ فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ، وَمَنَعَنِي وَاحِدَةٍ، سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ أَصَابَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَى بَيْضَتِكُمْ عَدُوًّا فَيَجْتَاحَهَا، فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَمَنَعَنِيهَا»
ترجمہ
راوی، جو اصحابِ شجرہ میں سے تھے، بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ہمیں ایک نماز پڑھائی، اسے مختصر کیا، پھر (تشہد میں) بیٹھے اور دیر تک بیٹھے رہے۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے اپنی نماز میں بیٹھنا طویل کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ امید اور خوف کی نماز تھی، میں نے اس میں اللہ سے تین چیزیں مانگیں، اس نے مجھے دو عطا کیں اور ایک سے منع فرما دیا۔ میں نے اس سے یہ دعا کی کہ تم پر ایسا عذاب نازل نہ کرے جیسا تم سے پہلے لوگوں پر آیا تھا، تو اس نے مجھے یہ عطا کر دی۔ اور میں نے دعا کی کہ تمہاری جماعت پر کسی دشمن کو مسلط نہ کرے جو اسے جڑ سے اکھاڑ دے، تو اس نے یہ بھی عطا کر دی۔ اور میں نے دعا کی کہ تمہیں فرقوں میں تقسیم نہ کرے اور تمہیں ایک دوسرے کی سختی نہ چکھائے، تو اس نے یہ نہیں دی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 4097
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 192، حدیث 4112
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا صَلَّى وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ صَلَّى صَلَاةً خَفِيفَةً تَامَّةَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
ترجمہ
سیدنا خالد ابونافع خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب لوگوں کے دیکھتے ہوئے نماز پڑھاتے تو ہلکی لیکن رکوع و سجود میں مکمل نماز پڑھاتے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 4098
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 193، حدیث 4113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ نَافِعِ بْنِ خَالِدٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى وَالنَّاسُ حَوْلَهُ صَلَّى صَلَاةً خَفِيفَةً تَامَّةَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، فَجَلَسَ يَوْمًا، فَأَطَالَ الْجُلُوسَ حَتَّى أَوْمَأَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ أَنِ اسْكُتُوا، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوحَى إِلَيْهِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللهِ أَطَلْتَ الْجُلُوسَ حَتَّى أَوْمَأَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ أَنَّهُ يُنَزَّلُ عَلَيْكَ فَقَالَ: «لَا وَلَكِنَّهَا صَلَاةُ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ سَأَلْتُ اللهَ فِيهَا ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُعَذِّبَكُمْ بِعَذَابٍ عُذِّبَ بِهِ مَنْ قَبْلَكُمْ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَى عَامَّتِكُمْ عَدُوًّا يَسْتَبِيحُهَا، فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَمَنَعَنِيهَا» قُلْتُ لَهُ: أَبُوكَ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدَدَ أَصَابِعِي هَذِهِ الْعَشْرِ الْأَصَابِعِ
ترجمہ
...(لوگوں نے سمجھا کہ) رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب آپ (نماز سے) فارغ ہوئے تو بعض لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے بیٹھنا اتنا طویل کر دیا کہ ہم میں سے بعض نے ایک دوسرے کی طرف اشارہ کیا کہ شاید آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ امید اور خوف کی نماز تھی، میں نے اس میں اللہ سے تین چیزیں مانگیں، اس نے مجھے دو عطا کیں اور ایک سے منع فرما دیا۔ میں نے دعا کی کہ تم پر ایسا عذاب نازل نہ کرے جیسا تم سے پہلے لوگوں پر آیا تھا۔ اور میں نے دعا کی کہ تمہاری جماعت پر کسی دشمن کو مسلط نہ کرے جو اسے تباہ کر دے، تو اس نے مجھے یہ عطا کر دی۔ اور میں نے دعا کی کہ تمہیں فرقوں میں تقسیم نہ کرے اور تمہیں ایک دوسرے کی سختی نہ چکھائے، تو اس نے یہ نہیں دی۔“ (راوی کہتے ہیں) میں نے پوچھا: کیا تمہارے والد نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے خود سنی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے انہیں یہ کہتے سنا کہ انہوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے، ان دس انگلیوں کی گنتی جتنی مرتبہ، سنی تھی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 4099
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 193، حدیث 4114