المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خالد بن عرفطة العذري " وعذرة من قضاعة وكان خليفة سعد بن أبي وقاص على الكوفة ثم استعمله زياد على الكوفة " باب: سیدنا خالد بن عرفطہ عذری رضی اللہ عنہ (عذرہ قبیلہ قضاعہ سے تھا، آپ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی طرف سے کوفہ کے نائب تھے، پھر زیاد نے بھی آپ کو کوفہ پر عامل بنایا)
حدیث نمبر: 4092
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُبَاتَةَ الرَّازِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ الْخَرَّازُ الرَّازِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُقْرِئُ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنَّا كَانَ بِهِ الْبَطْنُ فَبَكَّرْنَا بِهِ فَأَتَيْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، وَخَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ فَقَالَ سُلَيْمَانُ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تُؤْذِنَنَا بِصَاحِبِكُمْ؟، قُلْتُ: كَانَ بِهِ الْبَطْنُ فَبَكَّرْنَا بِهِ، فَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يُعَذَّبُ فِي الْقَبْرِ صَاحِبُ الْبَطْنِ» أَمَا تَشْهَدُ يَا، خَالِدُ؟، قَالَ: بَلَىترجمہ
...(راوی اور) خالد بن عرفطہ (موجود تھے) تو سلیمان (بن صرد) نے کہا: تمہیں کس چیز نے روکا کہ تم ہمیں اپنے ساتھی (کی وفات) کی خبر نہ دیتے؟ میں نے کہا: وہ پیٹ کی بیماری میں مبتلا تھے، اس لیے ہم نے جلدی (تدفین) کر دی۔ سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”پیٹ کی بیماری والے کو قبر میں عذاب نہیں دیا جاتا“۔ (پھر خالد سے پوچھا:) اے خالد! کیا تم بھی اس کی گواہی نہیں دیتے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔