المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خالد بن عرفطة العذري " وعذرة من قضاعة وكان خليفة سعد بن أبي وقاص على الكوفة ثم استعمله زياد على الكوفة " باب: سیدنا خالد بن عرفطہ عذری رضی اللہ عنہ (عذرہ قبیلہ قضاعہ سے تھا، آپ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی طرف سے کوفہ کے نائب تھے، پھر زیاد نے بھی آپ کو کوفہ پر عامل بنایا)
حدیث نمبر: 4089
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، وَخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ فَبَلَغَهُمَا أَنَّ رَجُلًا مَاتَ بِالْبَطْنِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ يَقْتُلُهُ بَطْنُهُ لَمْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهِ؟» قَالَ: بَلَىترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: میں سلیمان بن صرد اور خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا تھا، انہیں خبر ملی کہ ایک شخص پیٹ کی بیماری سے فوت ہو گیا ہے، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا: ”جسے اس کے پیٹ نے موت دی، اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا“؟ اس نے کہا: کیوں نہیں۔