کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: ابن عباس کی سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایات
❮
❯
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ وَعِنْدَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَأَهْوَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَأْكُلَ فَقِيلَ: إِنَّهُ ضَبٌّ فَأَمْسَكَ بِيَدِهِ، فَقَالَ لَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «لَا، وَلَكِنَّهُ لَا يَكُونُ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ» ، قَالَ: فَأَكَلَ خَالِدٌ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دو بھنی ہوئی گوہیں لائی گئیں، اور آپ کے پاس خالد بن ولید رضی اللہ عنہ موجود تھے، نبی کریم ﷺ نے کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو کہا گیا کہ یہ گوہ ہے، تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن یہ میری قوم کی سرزمین میں نہیں پایا جاتا، اس لیے مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر خالد رضی اللہ عنہ نے اسے کھایا جبکہ رسول اللہ ﷺ انہیں دیکھ رہے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3800
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 107، حدیث 3815
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ: أَخْبِرُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يُرِيدُ يَأْكُلُ مِنْهُ، فَقَالُوا: هُوَ ضَبٌّ فَرَفَعَ يَدَهُ، فَقُلْتُ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ» ، قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے گھر گئے، تو بھنی ہوئی گوہ لائی گئی، رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا، تو میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود بعض عورتوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو بتاؤ کہ آپ کیا کھانے لگے ہیں، تو انہوں نے بتایا کہ یہ گوہ ہے، تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ روک لیا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن یہ میری قوم کی سرزمین میں نہیں پایا جاتا، اس لیے مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔“ خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچا اور کھا لیا جبکہ رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3801
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 107، حدیث 3816
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ كَامِلٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَيْفُ اللهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ خَالَتُهُ وَخَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ - فَوَجَدَ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوذًا قَدِمَتْ بِهِ أُخْتُهَا حُفَيْدَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ، فَقَدَّمَتِ الضَّبَّ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ قَلَّمَا يُقَدِّمُ يَدَهُ لِطَعَامٍ حَتَّى يُحَدَّثُ بِهِ وَيُسَمَّى لَهُ، فَأَهْوَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ إِلَى الضَّبِّ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسْوَةِ الْحُضُورِ: أَخْبِرْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدَّمْتُنَّ إِلَيْهِ، قُلْنَ: هُوَ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللهِ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: أَتُحَرِّمُ الضَّبَّ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «لَا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ» ، قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ فَلَمْ يَنْهَنِي
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، جنہیں سیف اللہ (اللہ کی تلوار) کہا جاتا ہے، نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی زوجہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے - وہ ان کی بھی خالہ تھیں اور ابن عباس کی بھی خالہ - تو ان کے پاس بھنی ہوئی گوہ پائی جو ان کی بہن حفیدہ بنت حارث نجد سے لائی تھیں، انہوں نے وہ گوہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کی، اور آپ ﷺ کم ہی کسی کھانے کی طرف ہاتھ بڑھاتے تھے جب تک آپ کو اس کے بارے میں بتا نہ دیا جاتا اور اس کا نام نہ لیا جاتا۔ رسول اللہ ﷺ نے گوہ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہاں موجود عورتوں میں سے ایک عورت نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو بتاؤ کہ تم نے آپ کے سامنے کیا پیش کیا ہے۔ عورتوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ گوہ ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ روک لیا، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ گوہ کو حرام قرار دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن یہ میری قوم کی سرزمین میں نہیں پایا جاتا، اس لیے مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔“ خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچا اور کھا لیا جبکہ رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے اور مجھے منع نہ فرمایا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3802
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 107، حدیث 3817
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُتِيَ بِضَبٍّ مَشْوِيٍّ فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِيَدِهِ لِيَأْكُلَ مِنْهُ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ مَنْ حَضَرَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ فَرَفَعَ يَدَهُ، فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِي أَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: نبی کریم ﷺ کے پاس بھنی ہوئی گوہ لائی گئی تو آپ ﷺ نے اسے کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا، حاضرین میں سے کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ گوہ کا گوشت ہے، تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن یہ میری قوم کی سرزمین میں نہیں پایا جاتا، اس لیے مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3803
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 108، حدیث 3818
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ: أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ لِمَيْمُونَةَ لَحْمَ ضَبٍّ، فَدَخَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُدِّمَ إِلَيْهِ، وَكَانَ لَا يَأْكُلُ طَعَامًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ؟ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: أَخْبِرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذَا؟، فَقَالُوا: إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ أَهْدَتْهُ أُمُّ حُفَيْدٍ لِمَيْمُونَةَ، قَالَ: وَهَمَّ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ، فَكَفَّ، أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «لَا، وَلَكِنِّي أَجِدُنِي أَعَافُهُ وَلَيْسَ مِنْ طَعَامِ قَوْمِي» ، قَالَ خَالِدٌ: فَأَكَلْتُهُ وَهُوَ جَالِسٌ فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيَّ
ترجمہ
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ام حفید نے میمونہ رضی اللہ عنہا کو گوہ کا گوشت تحفے میں بھیجا، نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو وہ آپ کے سامنے پیش کیا گیا، اور آپ ﷺ کوئی کھانا اس وقت تک نہیں کھاتے تھے جب تک یہ نہ جان لیتے کہ وہ کیا ہے۔ ایک عورت نے کہا: نبی کریم ﷺ کو بتاؤ کہ یہ کیا ہے؟ تو لوگوں نے بتایا کہ یہ گوہ کا گوشت ہے جو ام حفید نے میمونہ رضی اللہ عنہا کو تحفے میں بھیجا ہے۔ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ نے اسے کھانے کا ارادہ کیا پھر رک گئے، (میں نے) عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن مجھے اس سے کراہت آتی ہے اور یہ میری قوم کا کھانا نہیں ہے۔“ خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر میں نے اسے کھا لیا جبکہ آپ ﷺ بیٹھے تھے، تو آپ ﷺ نے اس پر مجھ پر کوئی اعتراض نہ کیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3804
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 108، حدیث 3819
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا سَلَامَةُ بْنُ رَوْحٍ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِي خَالَتُهُ وَخَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ - فَوَجَدَ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوذًا قَدِمَتْ بِهِ أُخْتُهَا حُفَيْدَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ، فَقَدَّمَتِ الضَّبَّ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ قَلَّمَا يُقَدِّمُ يَدَهُ لِطَعَامٍ حَتَّى يُحَدَّثَ بِهِ وَيُسَمَّى لَهُ، فَأَهْوَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ إِلَى الضَّبِّ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسْوَةِ الْحُضُورِ: أَخْبِرْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدَّمْتُنَّ لَهُ، قُلْنَ: هُوَ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللهِ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: أَحَرَامٌ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ» ، قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَنْظُرُ وَلَمْ يَنْهَنِي .
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی زوجہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے - وہ ان کی (یعنی خالد کی) اور ابن عباس کی خالہ تھیں - تو ان کے پاس بھنی ہوئی گوہ پائی جو ان کی بہن حفیدہ بنت حارث نجد سے لائی تھیں، انہوں نے وہ گوہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کی، اور آپ ﷺ کم ہی کسی کھانے کی طرف ہاتھ بڑھاتے تھے جب تک آپ کو اس کے بارے میں بتا نہ دیا جاتا اور اس کا نام نہ لیا جاتا۔ رسول اللہ ﷺ نے گوہ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہاں موجود عورتوں میں سے ایک عورت نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو بتاؤ کہ تم نے آپ کے سامنے کیا پیش کیا ہے۔ عورتوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ گوہ ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا گوہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن یہ میری قوم کی سرزمین میں نہیں پایا جاتا، اس لیے مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔“ خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچا اور کھا لیا جبکہ رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے اور مجھے منع نہ فرمایا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3805
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 108، حدیث 3820
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدَنِيِّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ - وَهِي خَالَتُهُ - إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمُ ضَبٍّ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے - وہ ان کی خالہ تھیں - تو رسول اللہ ﷺ کے پاس گوہ کا گوشت لایا گیا، پھر اسی طرح کی حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3806
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 108، حدیث 3821
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ خَازِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى مَيْمُونَةَ، فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِ ضَبًّا مَطْبُوخًا بِتَمْرٍ، فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: أَخْبِرُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَأْكُلَ، فَلَمَّا أُخْبِرَ بِهِ أَمْسَكَ يَدَهُ عَنْهُ، فَقَالُوا: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ أَعَافُهُ» فَاجْتَرَّهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَأَكَلَهُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ.
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کے سامنے کھجور کے ساتھ پکی ہوئی گوہ پیش کی۔ میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے کھانے سے پہلے انہیں بتا دو، تو جب آپ ﷺ کو بتایا گیا تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس سے روک لیا۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔“ تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے اپنی طرف کھینچ کر کھا لیا جبکہ رسول اللہ ﷺ انہیں دیکھ رہے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3807
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 109، حدیث 3822
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3808
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 109، حدیث 3823