❮
❯
حدیث نمبر: 3804
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ: أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ لِمَيْمُونَةَ لَحْمَ ضَبٍّ، فَدَخَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُدِّمَ إِلَيْهِ، وَكَانَ لَا يَأْكُلُ طَعَامًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ؟ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: أَخْبِرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذَا؟، فَقَالُوا: إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ أَهْدَتْهُ أُمُّ حُفَيْدٍ لِمَيْمُونَةَ، قَالَ: وَهَمَّ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ، فَكَفَّ، أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «لَا، وَلَكِنِّي أَجِدُنِي أَعَافُهُ وَلَيْسَ مِنْ طَعَامِ قَوْمِي» ، قَالَ خَالِدٌ: فَأَكَلْتُهُ وَهُوَ جَالِسٌ فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيَّ
ترجمہ

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ام حفید نے میمونہ رضی اللہ عنہا کو گوہ کا گوشت تحفے میں بھیجا، نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو وہ آپ کے سامنے پیش کیا گیا، اور آپ ﷺ کوئی کھانا اس وقت تک نہیں کھاتے تھے جب تک یہ نہ جان لیتے کہ وہ کیا ہے۔ ایک عورت نے کہا: نبی کریم ﷺ کو بتاؤ کہ یہ کیا ہے؟ تو لوگوں نے بتایا کہ یہ گوہ کا گوشت ہے جو ام حفید نے میمونہ رضی اللہ عنہا کو تحفے میں بھیجا ہے۔ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ نے اسے کھانے کا ارادہ کیا پھر رک گئے، (میں نے) عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن مجھے اس سے کراہت آتی ہے اور یہ میری قوم کا کھانا نہیں ہے۔“ خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر میں نے اسے کھا لیا جبکہ آپ ﷺ بیٹھے تھے، تو آپ ﷺ نے اس پر مجھ پر کوئی اعتراض نہ کیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3804
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 108، حدیث 3819