المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ابن عباس، عن خالد بن الوليد باب: ابن عباس کی سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ: أَخْبِرُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يُرِيدُ يَأْكُلُ مِنْهُ، فَقَالُوا: هُوَ ضَبٌّ فَرَفَعَ يَدَهُ، فَقُلْتُ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ» ، قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے گھر گئے، تو بھنی ہوئی گوہ لائی گئی، رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا، تو میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود بعض عورتوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو بتاؤ کہ آپ کیا کھانے لگے ہیں، تو انہوں نے بتایا کہ یہ گوہ ہے، تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ روک لیا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن یہ میری قوم کی سرزمین میں نہیں پایا جاتا، اس لیے مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔“ خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچا اور کھا لیا جبکہ رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے۔