المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ابن عباس، عن خالد بن الوليد باب: ابن عباس کی سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ كَامِلٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَيْفُ اللهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ خَالَتُهُ وَخَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ - فَوَجَدَ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوذًا قَدِمَتْ بِهِ أُخْتُهَا حُفَيْدَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ، فَقَدَّمَتِ الضَّبَّ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ قَلَّمَا يُقَدِّمُ يَدَهُ لِطَعَامٍ حَتَّى يُحَدَّثُ بِهِ وَيُسَمَّى لَهُ، فَأَهْوَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ إِلَى الضَّبِّ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسْوَةِ الْحُضُورِ: أَخْبِرْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدَّمْتُنَّ إِلَيْهِ، قُلْنَ: هُوَ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللهِ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: أَتُحَرِّمُ الضَّبَّ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «لَا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ» ، قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ فَلَمْ يَنْهَنِيسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، جنہیں سیف اللہ (اللہ کی تلوار) کہا جاتا ہے، نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی زوجہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے - وہ ان کی بھی خالہ تھیں اور ابن عباس کی بھی خالہ - تو ان کے پاس بھنی ہوئی گوہ پائی جو ان کی بہن حفیدہ بنت حارث نجد سے لائی تھیں، انہوں نے وہ گوہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کی، اور آپ ﷺ کم ہی کسی کھانے کی طرف ہاتھ بڑھاتے تھے جب تک آپ کو اس کے بارے میں بتا نہ دیا جاتا اور اس کا نام نہ لیا جاتا۔ رسول اللہ ﷺ نے گوہ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہاں موجود عورتوں میں سے ایک عورت نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو بتاؤ کہ تم نے آپ کے سامنے کیا پیش کیا ہے۔ عورتوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ گوہ ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ روک لیا، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ گوہ کو حرام قرار دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن یہ میری قوم کی سرزمین میں نہیں پایا جاتا، اس لیے مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔“ خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچا اور کھا لیا جبکہ رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے اور مجھے منع نہ فرمایا۔