کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا حارث بن ہشام مخزومی رضی اللہ عنہ، پندرہ ہجری میں یرموک کے دن شہید ہوئے، اور وہ حارث بن ہشام بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم ہیں، کنیت ابوعبدالرحمن، ان کی والدہ اسماء بنت مخرمہ بن جندل بن امیر بن نہشل بن دارم بن مالک بن حنظلہ بن مالک بن زید مناۃ بن تمیم تھیں، انہوں نے اسلام قبول کیا جس دن
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: «تُوُفِّيَ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ بِالشَّامِ سَنَةَ ثَمَانِ عَشْرَةَ»
ترجمہ
یحییٰ بن بکیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ سن 18 ہجری میں شام میں فوت ہوئے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ فُسْتُقَةُ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، أَخْبَرَنِي مُصْعَبُ بْنُ عُثْمَانَ وَمَنْ لَا أُحْصِي، عَنِ ابْنِ هَرِمَةَ، قَالَ الزُّبَيْرُ: وَحَدَّثَنِي نَوْفَلُ بْنُ مَيْمُونٍ، أَنْشَدَنِي أَبُو مَالِكٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ هَرِمَةَ لِعَمِّهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ هَرِمَةَ: «
[البحر الطويل]
فَمَنْ لَمْ يُرِدْ مَدْحِي فَإِنَّ قَصَائِدِي ... نَوَافِقُ عِنْدَ الْأَكْرَمِينَ سَوَامِي
نَوَافِقُ عِنْدَ الْمُشْتَرِي الْحَمْدَ بِالنَّدَى ... نِفَاقَ بَنَاتِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ»
[البحر الطويل]
فَمَنْ لَمْ يُرِدْ مَدْحِي فَإِنَّ قَصَائِدِي ... نَوَافِقُ عِنْدَ الْأَكْرَمِينَ سَوَامِي
نَوَافِقُ عِنْدَ الْمُشْتَرِي الْحَمْدَ بِالنَّدَى ... نِفَاقَ بَنَاتِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ»
ترجمہ
زبیر بن بکار رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے نوفل بن میمون نے بتایا کہ ابومالک محمد بن مالک بن علی بن ہرمہ نے مجھے اپنے چچا ابراہیم بن علی بن ہرمہ کا یہ شعر پڑھ کر سنایا: ”جو میری تعریف نہیں چاہتا تو بیشک میرے قصیدے معزز لوگوں کے ہاں اسی طرح مقبول ہیں جیسے آزادانہ چرنے والے قیمتی جانور — یہ خریدار کے ہاں سخاوت کی تعریف کے ساتھ اسی طرح خوب بکتے ہیں جیسے حارث بن ہشام کی بیٹیوں کا سامان خوب بکتا تھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْبَغْدَادِيُّ الْمَدِينِيُّ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الْكَوْسَجِ مَوْلَى آلِ أَبِي فَرْوَةَ لِرَجُلٍ:
[البحر الكامل]
أَحَسِبْتَ أَنَّ أَبَاكَ يَوْمَ تَسُبُّنِي ... فِي السُّوقِ كَانَ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامِ "
[البحر الكامل]
أَحَسِبْتَ أَنَّ أَبَاكَ يَوْمَ تَسُبُّنِي ... فِي السُّوقِ كَانَ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامِ "
ترجمہ
ابن کوسج مولیٰ آلِ ابی فروہ رحمہ اللہ نے ایک شخص سے کہا: ”کیا تم نے یہ سمجھ لیا کہ جس دن تم بازار میں مجھے گالی دے رہے تھے تو تمہارا باپ حارث بن ہشام جیسا معزز شخص تھا؟“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا التُّسْتَرِيُّ، ثنا شَبَّابٌ الْعُصْفُرِيُّ، ثنا أَبُو وَهْبٍ السَّهْمِيُّ، عَنْ أَبِي يُونُسَ الْقُشَيْرِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، " أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ، وَعِكْرِمَةَ بْنَ أَبِي جَهْلٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ أُثْبِتُوا يَوْمَ الْيَرْمُوكِ، فَدَعَا الْحَارِثُ بِشَرَابٍ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ عِكْرِمَةُ فَقَالَ: ادْفَعُوهُ إِلَى عِكْرِمَةَ، فَدُفِعَ إِلَيْهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ: ادْفَعُوهُ إِلَى عَيَّاشٍ، فَمَا وَصَلَ إِلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ حَتَّى مَاتُوا جَمِيعًا وَمَا ذَاقُوهُ "
ترجمہ
حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا حارث بن ہشام، سیدنا عکرمہ بن ابی جہل اور سیدنا عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہم یرموک کے دن زخمی حالت میں گر پڑے، حارث رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا، عکرمہ رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف دیکھا تو حارث نے کہا: یہ عکرمہ کو دے دو، چنانچہ وہ انہیں دیا گیا، تو عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف دیکھا، عکرمہ نے کہا: یہ عیاش کو دے دو، پس وہ ان میں سے کسی تک بھی نہ پہنچا یہاں تک کہ وہ سب کے سب فوت ہو گئے اور اسے چکھا تک نہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يَنْزِلُ عَلَيْكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ» . قَالَ: «وَهُوَ أَشَدُّ عَلَيَّ، وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ فَيَتَمَثَّلُ لِي فَيُكَلِّمُنِي مَا يَقُولُ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کبھی گھنٹی کی جھنکار کی طرح آتی ہے، پھر وہ حالت مجھ سے ختم ہو جاتی ہے اور میں نے وہ سب یاد رکھا ہوتا ہے جو کہا گیا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور یہ مجھ پر سب سے سخت کیفیت ہوتی ہے، اور کبھی فرشتہ میرے پاس آدمی کی صورت میں آ کر مجھ سے کلام کرتا ہے تو میں اسے سمجھ لیتا ہوں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ حُمَيْدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأُرْزِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ قَالَ: يَأْتِينِي صَلْصَلَةً كَصَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، وَيَأْتِينِي أَحْيَانًا فِي صُورَةِ رَجُلٍ يُكَلِّمُنِي كَلَامًا، وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيَّ، فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ "
ترجمہ
سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: وحی آپ کے پاس کیسے آتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ مجھے گھنٹی کی جھنکار کی طرح آتی ہے، اور کبھی وہ آدمی کی صورت میں آ کر مجھ سے کلام کرتا ہے، اور یہ مجھ پر آسان ہوتا ہے، پھر وہ کیفیت مجھ سے ختم ہو جاتی ہے اور میں نے سب یاد رکھا ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، وَهُوُ أَشَدُّ عَلَيَّ، فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ» . قَالَتْ عَائِشَةُ: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرْقًا
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: وحی آپ کے پاس کیسے آتی ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کبھی وہ مجھے گھنٹی کی جھنکار کی طرح آتی ہے، اور یہ مجھ پر سب سے سخت ہوتی ہے، پھر وہ کیفیت مجھ سے ختم ہو جاتی ہے اور میں نے وہ سب یاد رکھا ہوتا ہے جو کہا گیا، اور کبھی فرشتہ آدمی کی صورت میں میرے سامنے آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے تو میں وہ سب یاد رکھتا ہوں جو وہ کہتا ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے آپ ﷺ کو دیکھا ہے کہ سخت سردی کے دن آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو کیفیت ختم ہونے پر آپ ﷺ کی پیشانی پسینے سے شرابور ہوتی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الطَّحَّانُ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلَ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَأْتِيهِ الْوَحْيُ، قَالَ: «يَأْتِينِي أَحْيَانًا مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُهُ، وَهُوَ أَشَدُّ عَلَيَّ، وَيَأْتِينِي أَحْيَانًا الْمَلَكُ فِي صُورَةِ الرَّجُلِ فَأَعِي مَا يَقُولُ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کبھی وہ مجھے گھنٹی کی جھنکار کی طرح آتی ہے، پھر وہ کیفیت مجھ سے ختم ہو جاتی ہے اور میں نے اسے یاد رکھا ہوتا ہے، اور یہ مجھ پر سب سے سخت ہوتی ہے، اور کبھی فرشتہ آدمی کی صورت میں میرے پاس آتا ہے تو میں وہ سمجھ لیتا ہوں جو وہ کہتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ فِي شَوَّالٍ، وَجَمَعَهَا إِلَيْهِ فِي شَوَّالٍ»
ترجمہ
سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی کریم ﷺ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شوال میں نکاح کیا اور شوال ہی میں انہیں اپنے ہاں رخصت کر کے لے آئے۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا السَّاجيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ سَمْعَانَ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَعِيدٍ الْمُقْعَدَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْبِرْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «امْلِكْ هَذَا» ، وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ
ترجمہ
سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: مجھے کوئی ایسی بات بتائیں جسے میں مضبوطی سے تھام لوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس پر قابو رکھو“، اور آپ ﷺ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ. قَالَ: «امْلِكْ عَلَيْكَ هَذَا» ، وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ
ترجمہ
عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی بات بتائیں جسے میں مضبوطی سے تھام لوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس پر قابو رکھو“، اور اپنی زبان کی طرف اشارہ فرمایا۔