حدیث نمبر: 3332
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، وَهُوُ أَشَدُّ عَلَيَّ، فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ» . قَالَتْ عَائِشَةُ: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرْقًا
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: وحی آپ کے پاس کیسے آتی ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کبھی وہ مجھے گھنٹی کی جھنکار کی طرح آتی ہے، اور یہ مجھ پر سب سے سخت ہوتی ہے، پھر وہ کیفیت مجھ سے ختم ہو جاتی ہے اور میں نے وہ سب یاد رکھا ہوتا ہے جو کہا گیا، اور کبھی فرشتہ آدمی کی صورت میں میرے سامنے آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے تو میں وہ سب یاد رکھتا ہوں جو وہ کہتا ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے آپ ﷺ کو دیکھا ہے کہ سخت سردی کے دن آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو کیفیت ختم ہونے پر آپ ﷺ کی پیشانی پسینے سے شرابور ہوتی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3332
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 259، حدیث 3345