المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحارث بن هشام المخزومي " استشهد يوم اليرموك سنة خمس عشرة، وهو الحارث بن هشام بن المغيرة بن عبد الله بن عمر بن مخزوم، يكنى أبا عبد الرحمن، وأمه أسماء بنت مخرمة بن جندل بن أمير بن نهشل بن دارم بن مالك بن حنظلة بن مالك بن زيد مناة بن تميم، أسلم يوم باب: سیدنا حارث بن ہشام مخزومی رضی اللہ عنہ، پندرہ ہجری میں یرموک کے دن شہید ہوئے، اور وہ حارث بن ہشام بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم ہیں، کنیت ابوعبدالرحمن، ان کی والدہ اسماء بنت مخرمہ بن جندل بن امیر بن نہشل بن دارم بن مالک بن حنظلہ بن مالک بن زید مناۃ بن تمیم تھیں، انہوں نے اسلام قبول کیا جس دن
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، وَهُوُ أَشَدُّ عَلَيَّ، فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ» . قَالَتْ عَائِشَةُ: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرْقًاسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: وحی آپ کے پاس کیسے آتی ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کبھی وہ مجھے گھنٹی کی جھنکار کی طرح آتی ہے، اور یہ مجھ پر سب سے سخت ہوتی ہے، پھر وہ کیفیت مجھ سے ختم ہو جاتی ہے اور میں نے وہ سب یاد رکھا ہوتا ہے جو کہا گیا، اور کبھی فرشتہ آدمی کی صورت میں میرے سامنے آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے تو میں وہ سب یاد رکھتا ہوں جو وہ کہتا ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے آپ ﷺ کو دیکھا ہے کہ سخت سردی کے دن آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو کیفیت ختم ہونے پر آپ ﷺ کی پیشانی پسینے سے شرابور ہوتی۔