المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحارث بن هشام المخزومي " استشهد يوم اليرموك سنة خمس عشرة، وهو الحارث بن هشام بن المغيرة بن عبد الله بن عمر بن مخزوم، يكنى أبا عبد الرحمن، وأمه أسماء بنت مخرمة بن جندل بن أمير بن نهشل بن دارم بن مالك بن حنظلة بن مالك بن زيد مناة بن تميم، أسلم يوم باب: سیدنا حارث بن ہشام مخزومی رضی اللہ عنہ، پندرہ ہجری میں یرموک کے دن شہید ہوئے، اور وہ حارث بن ہشام بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم ہیں، کنیت ابوعبدالرحمن، ان کی والدہ اسماء بنت مخرمہ بن جندل بن امیر بن نہشل بن دارم بن مالک بن حنظلہ بن مالک بن زید مناۃ بن تمیم تھیں، انہوں نے اسلام قبول کیا جس دن
حدیث نمبر: 3330
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يَنْزِلُ عَلَيْكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ» . قَالَ: «وَهُوَ أَشَدُّ عَلَيَّ، وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ فَيَتَمَثَّلُ لِي فَيُكَلِّمُنِي مَا يَقُولُ»ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کبھی گھنٹی کی جھنکار کی طرح آتی ہے، پھر وہ حالت مجھ سے ختم ہو جاتی ہے اور میں نے وہ سب یاد رکھا ہوتا ہے جو کہا گیا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور یہ مجھ پر سب سے سخت کیفیت ہوتی ہے، اور کبھی فرشتہ میرے پاس آدمی کی صورت میں آ کر مجھ سے کلام کرتا ہے تو میں اسے سمجھ لیتا ہوں۔“