حدیث نمبر: 3330
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يَنْزِلُ عَلَيْكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ» . قَالَ: «وَهُوَ أَشَدُّ عَلَيَّ، وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ فَيَتَمَثَّلُ لِي فَيُكَلِّمُنِي مَا يَقُولُ»
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کبھی گھنٹی کی جھنکار کی طرح آتی ہے، پھر وہ حالت مجھ سے ختم ہو جاتی ہے اور میں نے وہ سب یاد رکھا ہوتا ہے جو کہا گیا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور یہ مجھ پر سب سے سخت کیفیت ہوتی ہے، اور کبھی فرشتہ میرے پاس آدمی کی صورت میں آ کر مجھ سے کلام کرتا ہے تو میں اسے سمجھ لیتا ہوں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3330
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 259، حدیث 3343