کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ، بدری صحابی
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَكَّائِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقِ " فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا: حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ غَنْمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ "
ترجمہ
محمد بن اسحاق رحمہ اللہ بدر میں شریک ہونے والوں کے نام بتاتے ہوئے کہتے ہیں: حارثہ بن نعمان بن زید بن عبید بن ثعلبہ بن غنم بن مالک بن نجار (شریک تھے)۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ " فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ: حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، وَهُوَ الَّذِي مَرَّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَعَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عِنْدَ الْمَقَاعِدِ "
ترجمہ
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ بدر میں شریک ہونے والے انصار میں سے، پھر بنو نجار میں سے نام بتاتے ہوئے کہتے ہیں: حارثہ بن نعمان، اور وہی ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے جبکہ آپ ﷺ مقاعد کے مقام پر جبریل علیہ السلام کے ساتھ تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُنَاجِيهِ، فَلَمْ يُسَلِّمْ، فَقَالَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مَنَعَهُ أَنْ يُسَلِّمَ؟ إِنَّهُ لَوْ سَلَّمَ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ. ثُمَّ قَالَ: أَمَا إِنَّهُ مِنَ الثَّمَانِينَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا الثَّمَانُونَ؟» قَالَ: يَفِرُّ النَّاسُ عَنْكَ غَيْرَ ثَمَانِينَ، فَيَصِيرُونَ مَعَكَ، رِزْقُهُمْ وَرِزْقُ أَوْلَادِهِمْ عَلَى اللهِ فِي الْجَنَّةِ. فَلَمَّا رَجَعَ حَارِثَةُ سَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا سَلَّمْتَ حِينَ مَرَرْتَ؟» قَالَ: رَأَيْتُ مَعَكَ إِنْسَانًا، فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَ حَدِيثَكَ. قَالَ: «فَرَأَيْتَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «ذَاكَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ قَالَ» . فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ
ترجمہ
(روایت ہے کہ) جبریل علیہ السلام نے فرمایا: اسے سلام کرنے سے کس چیز نے روکا؟ اگر وہ سلام کرتا تو میں اس کا جواب دیتا۔ پھر فرمایا: سن لو، وہ ان اسّی صحابہ میں سے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”یہ اسّی کیا ہیں؟“ جبریل علیہ السلام نے کہا: لوگ آپ سے بھاگ کھڑے ہوں گے سوائے اسّی کے، وہ آپ کے ساتھ رہیں گے، ان کا اور ان کی اولاد کا رزق اللہ کے ذمے جنت میں ہو گا۔ پھر جب حارثہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو سلام کیا، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”جب تم گزرے تھے تو سلام کیوں نہیں کیا؟“ انہوں نے کہا: میں نے آپ کے ساتھ ایک شخص کو دیکھا تو مجھے یہ ناپسند ہوا کہ آپ کی بات کاٹوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اسے دیکھا؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جبریل علیہ السلام تھے، اور انہوں نے یہ کہا تھا“، پھر آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ جبریل علیہ السلام نے کیا فرمایا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ جَالِسٌ فِي الْمَقَاعِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ أَجَزْتُ، فَلَمَّا انْصَرَفْتُ وَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي: «هَلْ رَأَيْتَ الَّذِي كَانَ مَعِي؟» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَقَدْ رَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ»
ترجمہ
سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا جبکہ آپ ﷺ کے ساتھ جبریل علیہ السلام مقاعد کے مقام پر بیٹھے تھے، تو میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا، پھر آگے نکل گیا، جب میں واپس ہوا اور نبی کریم ﷺ بھی واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھا جو میرے ساتھ تھا؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جبریل علیہ السلام تھے، اور انہوں نے تمہارے سلام کا جواب دیا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْقُرْمُطِيُّ الْعَدَوِيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْمَدَنِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ لَازِمَاتٌ لِأُمَّتِي: الطِّيَرَةُ، وَالْحَسَدُ، وَسُوءُ الظَّنِّ ". فَقَالَ رَجُلٌ: مَا يُذْهِبُهُنَّ يَا رَسُولَ اللهِ مِمَّنْ هُوَ فِيهِ؟ قَالَ: «إِذَا حَسَدْتَ فَاسْتَغْفَرِ اللهَ، وَإِذَا ظَنَنْتَ فَلَا تُحَقِّقْ، وَإِذَا تَطَيَّرْتَ فَامْضِ»
ترجمہ
سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین چیزیں میری امت سے لازم رہیں گی: بدشگونی، حسد اور بدگمانی۔“ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جس میں یہ ہوں وہ انہیں کیسے دور کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تجھے حسد آئے تو اللہ سے استغفار کر، اور جب بدگمانی ہو تو اسے یقین میں نہ بدل، اور جب بدشگونی لے تو اپنے کام میں آگے بڑھ جا۔“
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْلُ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْوَلِيدِ الْهَرَوِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ، فَاتَّخَذَ خَيْطًا فِي مُصَلَّاهُ إِلَى بَابِ حُجْرَتِهِ، وَوَضَعَ عِنْدَهُ مِكْتَلًا فِيهِ تَمْرٌ وَغَيْرُهُ، فَكَانَ إِذَا جَاءَ الْمِسْكِينُ فَسَلَّمَ أَخَذَ مِنْ ذَلِكَ الْمِكْتَلِ، ثُمَّ أَخَذَ بِطَرَفِ الْخَيْطِ حَتَّى يُنَاوِلَهُ، وَكَانَ أَهْلُهُ يَقُولُونُ: نَحْنُ نَكْفِيكَ. فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مُنَاوَلَةُ الْمِسْكِينِ تَقِي مِيتَةَ السُّوءِ»
ترجمہ
روایت ہے کہ سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ خود دھاگے کے کنارے سے پکڑ کر چیز مسکین کو دیتے تھے، ان کے گھر والے کہتے: ہم آپ کی طرف سے یہ کر دیتے ہیں۔ تو وہ کہتے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”مسکین کو اپنے ہاتھ سے کچھ دینا بری موت سے بچاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ مَوْلَى غُفْرَةَ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَخْرُجُ الرَّجُلُ فِي غُنَيْمَتِهِ إِلَى حَاشِيَةِ الْقَرْيَةِ فَيَشْهَدُ الصَّلَوَاتِ ويَؤُوبُ إِلَى أَهْلِهِ، حَتَّى إِذَا أَكَلَ مَا حَوْلَهُ وَتَعَذَّرَتْ عَلَيْهِ الْأَرْضُ، قَالَ: لَوِ ارْتَفَعْتُ إِلَى رَدْهَةٍ هِيَ أَعْفَا كَلَأً مِنْ هَذِهِ. فَيَرْتَفِعُ حَتَّى لَا يَشْهَدَ مِنَ الصَّلَوَاتِ إِلَّا الْجُمُعَةَ، حَتَّى إِذَا أَكَلَ مَا حَوْلَهُ وَتَعَذَّرَتْ عَلَيْهِ الْأَرْضُ، قَالَ: لَوِ ارْتَفَعْتُ إِلَى رَدْهَةٍ هِيَ أَعْلَا كَلَأً مِنْ هَذِهِ. فَيَرْتَفِعُ حَتَّى لَا يَشْهَدَ جُمُعَةً، وَلَا يَدْرِي مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ حَتَّى يُطْبَعَ عَلَى قَلْبِهِ "
ترجمہ
سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک آدمی اپنی بکریوں کے ساتھ بستی کے کنارے تک نکلتا ہے، وہاں سے نمازوں میں حاضر ہوتا رہتا ہے اور اپنے گھر والوں کے پاس لوٹتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اپنے آس پاس کی چراگاہ کھا لیتا ہے اور زمین اس کے لیے دشوار ہو جاتی ہے تو کہتا ہے: کاش میں کسی ایسے نشیبی میدان کی طرف چلا جاؤں جہاں اس سے زیادہ ہری بھری چراگاہ ہو۔ چنانچہ وہ آگے بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ جمعہ کے سوا کسی نماز میں حاضر نہیں ہوتا، پھر جب وہاں کی بھی چراگاہ ختم ہو جاتی اور زمین دشوار ہو جاتی ہے تو کہتا ہے: کاش میں کسی اور ایسی جگہ چلا جاؤں جہاں اس سے بھی زیادہ ہری چراگاہ ہو۔ چنانچہ وہ آگے بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ جمعہ میں بھی حاضر نہیں ہوتا، اور اسے یہ بھی معلوم نہیں رہتا کہ جمعہ کا دن کون سا ہے، یہاں تک کہ اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُمَرَ مَوْلَى غُفْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَا: ثنا عُمَرُ مَوْلَى غُفْرَةَ أَنَّ ثَعْلَبَةَ بْنَ أَبِي مَالِكٍ - وَكَانَ كَبِيرًا وَكَانَ إِمَامَ بَنِي قُرَيْظَةَ حَتَّى مَاتَ - قَالَ: سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ النُّعْمَانِ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَخْرُجُ الرَّجُلُ فِي غَنَمِهِ فَيَكُونُ فِي حَاشِيَةِ الْقَرْيَةِ، وَيَشْهَدُ الصَّلَوَاتِ ويَؤُوبُ إِلَى أَهْلِهِ، حَتَّى إِذَا أَكَلَ مَا حَوْلَهُ وَتَعَذَّرَتْ عَلَيْهِ الْأَرْضُ قَالَ: لَوِ انْتَقَلْتُ إِلَى رَدْهَةٍ هِيَ أَعْفَا كَلَأً مِنْ هَذِهِ. فَيَنْتَقِلُ حَتَّى لَا يَشْهَدَ مِنَ الصَّلَوَاتِ شَيْئًا إِلَّا الْجُمُعَةَ، حَتَّى إِذَا أَكَلَ مَا حَوْلَهُ وَتَعَذَّرَتْ عَلَيْهِ الْأَرْضُ قَالَ: لَوِ انْتَقَلْتُ إِلَى رَدْهَةٍ هِيَ أَعْفَا كَلَأً مِنْ هَذِهِ. فَيَنْتَقِلُ حَتَّى لَا يَشْهَدَ الْجُمُعَةَ وَلَا يَدْرِي مَا الْجُمُعَةُ، فَيُطْبَعَ عَلَى قَلْبِهِ " .
ترجمہ
سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک آدمی اپنی بکریوں کے ساتھ نکلتا ہے اور بستی کے کنارے پر رہتا ہے، نمازوں میں حاضر ہوتا رہتا ہے اور اپنے گھر والوں کے پاس لوٹتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اپنے آس پاس کی چراگاہ کھا لیتا ہے اور زمین اس کے لیے دشوار ہو جاتی ہے تو کہتا ہے: کاش میں کسی ایسے نشیبی میدان کی طرف منتقل ہو جاؤں جہاں اس سے زیادہ ہری بھری چراگاہ ہو۔ چنانچہ وہ منتقل ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ جمعہ کے سوا کسی نماز میں حاضر نہیں ہوتا، پھر جب وہاں کی بھی چراگاہ ختم ہو جاتی اور زمین دشوار ہو جاتی ہے تو کہتا ہے: کاش میں کسی اور ایسی جگہ منتقل ہو جاؤں جہاں اس سے بھی زیادہ ہری چراگاہ ہو۔ چنانچہ وہ منتقل ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ جمعہ میں بھی حاضر نہیں ہوتا اور اسے یہ بھی معلوم نہیں رہتا کہ جمعہ کیا ہے، یہاں تک کہ اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عُمَرَ مَوْلَى غُفْرَةَ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَكُونُ لَهُ الْغُنَيْمَةُ فِي حَاشِيَةِ الْقَرْيَةِ» . فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ
سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”ایک آدمی کی بستی کے کنارے ایک چھوٹا سا ریوڑ ہوتا ہے“، پھر انہوں نے اسی طرح بیان کیا جیسا پہلے مذکور ہوا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عُمَرَ مَوْلَى غُفْرَةَ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رُسْتَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ مَرْزُوقٍ الرَّازِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مُنَاوَلَةُ الْمِسْكِينِ تَقِي مِيتَةَ السُّوءِ»
ترجمہ
سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”مسکین کو اپنے ہاتھ سے کچھ دینا بری موت سے بچاتا ہے۔“