المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حارثة بن النعمان الأنصاري بدري باب: سیدنا حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ، بدری صحابی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُنَاجِيهِ، فَلَمْ يُسَلِّمْ، فَقَالَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مَنَعَهُ أَنْ يُسَلِّمَ؟ إِنَّهُ لَوْ سَلَّمَ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ. ثُمَّ قَالَ: أَمَا إِنَّهُ مِنَ الثَّمَانِينَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا الثَّمَانُونَ؟» قَالَ: يَفِرُّ النَّاسُ عَنْكَ غَيْرَ ثَمَانِينَ، فَيَصِيرُونَ مَعَكَ، رِزْقُهُمْ وَرِزْقُ أَوْلَادِهِمْ عَلَى اللهِ فِي الْجَنَّةِ. فَلَمَّا رَجَعَ حَارِثَةُ سَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا سَلَّمْتَ حِينَ مَرَرْتَ؟» قَالَ: رَأَيْتُ مَعَكَ إِنْسَانًا، فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَ حَدِيثَكَ. قَالَ: «فَرَأَيْتَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «ذَاكَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ قَالَ» . فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ(روایت ہے کہ) جبریل علیہ السلام نے فرمایا: اسے سلام کرنے سے کس چیز نے روکا؟ اگر وہ سلام کرتا تو میں اس کا جواب دیتا۔ پھر فرمایا: سن لو، وہ ان اسّی صحابہ میں سے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”یہ اسّی کیا ہیں؟“ جبریل علیہ السلام نے کہا: لوگ آپ سے بھاگ کھڑے ہوں گے سوائے اسّی کے، وہ آپ کے ساتھ رہیں گے، ان کا اور ان کی اولاد کا رزق اللہ کے ذمے جنت میں ہو گا۔ پھر جب حارثہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو سلام کیا، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”جب تم گزرے تھے تو سلام کیوں نہیں کیا؟“ انہوں نے کہا: میں نے آپ کے ساتھ ایک شخص کو دیکھا تو مجھے یہ ناپسند ہوا کہ آپ کی بات کاٹوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اسے دیکھا؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جبریل علیہ السلام تھے، اور انہوں نے یہ کہا تھا“، پھر آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ جبریل علیہ السلام نے کیا فرمایا۔