حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: طَلَعَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ خَيْرُ ذِي يُمْنٍ عَلَيْهِ مَسْحَةُ مَلَكٍ» فَطَلَعَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ
ترجمہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آئے، اس سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”تمہارے پاس یمن کا بہترین شخص آنے والا ہے، جس پر فرشتے کی سی رونق ہے“، پھر سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آئے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَرِيرٌ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ ظَهْرًا لِبَطْنٍ» قَالَهَا ثَلَاثًا
ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جریر ہم اہلِ بیت میں سے ہیں، ظاہری اور باطنی طور پر“، یہ بات آپ ﷺ نے تین بار فرمائی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ التَّلِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ جَرِيرًا رَضِي اللهُ عَنْهُ، بَارَزَ مِهْرَانَ فَقَتَلَهُ فَقُوِّمَتْ مِنْطَقَتُهُ ثَلَاثِينَ أَلْفًا، وَكَانَ مَنْ بَارَزَ رَجُلًا فَقَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ، فَكَتَبُوا إِلَى عُمَرَ رَضِي اللهُ عَنْهُ فَقَالَ عُمَرُ: «لَيْسَ هَذَا مِنَ السَّلَبِ الَّذِي يُعْطَى لَيْسَ مِنَ السِّلَاحِ، وَلَا مِنَ الْكُرَاعِ، وَلَمْ يُنَفِّلْهُ وَجَعَلَهُ مَغْنَمًا»
ترجمہ
راوی کہتے ہیں: سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے مہران سے مبارزت کی اور اسے قتل کر دیا، تو اس کی کمر پیٹی کی قیمت تیس ہزار درہم لگائی گئی، اور دستور یہ تھا کہ جو کسی سے مبارزت کر کے اسے قتل کرے، اس کا سامان اسی کا ہوتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ اس سلب میں سے نہیں جو دیا جاتا ہے، یہ نہ ہتھیار میں سے ہے اور نہ سواری کے جانور میں سے“، اور انہیں یہ اضافی حصہ نہیں دیا بلکہ اسے عام مالِ غنیمت میں شامل کر دیا۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ مُجَالِدٍ، ثنا عَامِرٌ، عَنْ جَرِيرٍ: " أَنَّ عُمَرَ رَضِي اللهُ عَنْهُ صَلَّى بِالنَّاسِ فَخَرَجَ مِنْ إِنْسَانٍ شَيْءٌ فَقَالَ: عَزَمْتُ عَلَى صَاحِبِ هَذه إِلَّا تَوَضَّأَ وَأَعَادَ صَلَاتَهُ، فَقَالَ جَرِيرٌ: أَوَ تَعْزِمُ عَلَى كُلِّ مَنْ سَمِعَهَا أَنْ يَتَوَضَّأَ وَأَنْ يُعِيدَ الصَّلَاةَ، قَالَ: نِعِمَّا، قُلْتُ: جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا فَأَمَرَهُمْ بِذَلِكَ "
ترجمہ
عامر شعبی کہتے ہیں: سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، تو کسی شخص سے کوئی چیز خارج ہوئی، تو انہوں نے فرمایا: میں اس کے مالک کو قسم دیتا ہوں کہ وہ وضو کرے اور اپنی نماز دوبارہ پڑھے۔ اس پر سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ ہر اس شخص کو، جس نے اسے سنا ہو، قسم دیتے ہیں کہ وہ وضو کرے اور نماز دوبارہ پڑھے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ اچھی بات ہے۔ راوی نے کہا: اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ چنانچہ انہوں نے سب کو ایسا کرنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَلْبِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا سُلَيْمٌ أَبُو الْهُذَيْلِ، قَالَ: «كُنْتُ رَفًّا عَلَى بَابِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَكَانَ يَخْرُجُ فَيَرْكَبُ بَغْلَةً لَهُ وَيَحْمِلُ غُلَامَهُ خَلْفَهُ»
ترجمہ
سلیم ابوالہذیل بیان کرتے ہیں: میں سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے دروازے پر (خدمت گار) ہوا کرتا تھا، وہ نکلتے تو اپنے خچر پر سوار ہوتے اور اپنے غلام کو اپنے پیچھے سوار کر لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرٍ قَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْتَسِي وَهُوَ عَارٍ يَعْنِي الثِّيَابَ الرِّقَاقَ»
ترجمہ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”آدمی کپڑا پہنے ہوئے بھی ننگا ہوتا ہے“، یعنی باریک کپڑے (پہننے والا)۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: «اجْتَمَعَ جَرِيرٌ، وَالْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فِي جِنَازَةٍ فَقَدَّمَ الْأَشْعَثُ جَرِيرًا فَصَلَّى عَلَيْهَا»
ترجمہ
قیس بن ابی حازم بیان کرتے ہیں: سیدنا جریر اور اشعث بن قیس رضی اللہ عنہما ایک جنازے میں اکٹھے ہوئے تو اشعث نے جریر کو آگے کیا، چنانچہ انہوں نے نماز جنازہ پڑھائی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرٍ قَالَ: خَرَجَ مِنَ الْكُوفَةِ جَرِيرٌ، وَعَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، وَحَنْظَلَةُ الْكَاتِبُ إِلَى قِرْقِيسِيَا، وَقَالُوا: «لَا نُقِيمُ فِي بَلْدَةٍ يُشْتَمُ فِيهَا عُثْمَانُ رَضِي اللهُ عَنْهُ»
ترجمہ
مغیر بیان کرتے ہیں: سیدنا جریر، عدی بن حاتم اور حنظلہ الکاتب رضی اللہ عنہم کوفہ سے قرقیسیا کی طرف نکل گئے اور کہا: ”ہم اس شہر میں نہیں رہیں گے جہاں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو گالی دی جاتی ہو۔“