حدیث نمبر: 2200
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ مُجَالِدٍ، ثنا عَامِرٌ، عَنْ جَرِيرٍ: " أَنَّ عُمَرَ رَضِي اللهُ عَنْهُ صَلَّى بِالنَّاسِ فَخَرَجَ مِنْ إِنْسَانٍ شَيْءٌ فَقَالَ: عَزَمْتُ عَلَى صَاحِبِ هَذه إِلَّا تَوَضَّأَ وَأَعَادَ صَلَاتَهُ، فَقَالَ جَرِيرٌ: أَوَ تَعْزِمُ عَلَى كُلِّ مَنْ سَمِعَهَا أَنْ يَتَوَضَّأَ وَأَنْ يُعِيدَ الصَّلَاةَ، قَالَ: نِعِمَّا، قُلْتُ: جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا فَأَمَرَهُمْ بِذَلِكَ "
ترجمہ

عامر شعبی کہتے ہیں: سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، تو کسی شخص سے کوئی چیز خارج ہوئی، تو انہوں نے فرمایا: میں اس کے مالک کو قسم دیتا ہوں کہ وہ وضو کرے اور اپنی نماز دوبارہ پڑھے۔ اس پر سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ ہر اس شخص کو، جس نے اسے سنا ہو، قسم دیتے ہیں کہ وہ وضو کرے اور نماز دوبارہ پڑھے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ اچھی بات ہے۔ راوی نے کہا: اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ چنانچہ انہوں نے سب کو ایسا کرنے کا حکم دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2200
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 292، حدیث 2213