المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
من أخباره باب: ان کے بعض واقعات
حدیث نمبر: 2199
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ التَّلِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ جَرِيرًا رَضِي اللهُ عَنْهُ، بَارَزَ مِهْرَانَ فَقَتَلَهُ فَقُوِّمَتْ مِنْطَقَتُهُ ثَلَاثِينَ أَلْفًا، وَكَانَ مَنْ بَارَزَ رَجُلًا فَقَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ، فَكَتَبُوا إِلَى عُمَرَ رَضِي اللهُ عَنْهُ فَقَالَ عُمَرُ: «لَيْسَ هَذَا مِنَ السَّلَبِ الَّذِي يُعْطَى لَيْسَ مِنَ السِّلَاحِ، وَلَا مِنَ الْكُرَاعِ، وَلَمْ يُنَفِّلْهُ وَجَعَلَهُ مَغْنَمًا»ترجمہ
راوی کہتے ہیں: سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے مہران سے مبارزت کی اور اسے قتل کر دیا، تو اس کی کمر پیٹی کی قیمت تیس ہزار درہم لگائی گئی، اور دستور یہ تھا کہ جو کسی سے مبارزت کر کے اسے قتل کرے، اس کا سامان اسی کا ہوتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ اس سلب میں سے نہیں جو دیا جاتا ہے، یہ نہ ہتھیار میں سے ہے اور نہ سواری کے جانور میں سے“، اور انہیں یہ اضافی حصہ نہیں دیا بلکہ اسے عام مالِ غنیمت میں شامل کر دیا۔