کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بھائی
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " اسْتَلْقَى الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ عَلَى ظَهْرِهِ، ثُمَّ تَرَنَّمَ فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ: «أَيْ أَخِي» ، فَاسْتَوَى جَالِسًا، وَقَالَ: «أَيْ أَنَسَ أَتُرَانِي أَمُوتُ عَلَى فِرَاشِي، وَقَدْ قَتَلْتُ مِائَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ مُبَارَزَةً، سِوَى مَنْ شَارَكْتُ فِي قَتْلِهِ»
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی پیٹھ کے بل لیٹ گئے، پھر گنگنانے لگے، تو انس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”اے میرے بھائی“ تو وہ سیدھے بیٹھ گئے اور کہا: ”اے انس! کیا تمہیں لگتا ہے کہ میں اپنے بستر پر مروں گا، جبکہ میں نے تنہا لڑ کر مشرکین میں سے سو آدمی قتل کیے ہیں، ان کے علاوہ جن کے قتل میں مَیں شریک رہا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، سَنَةَ تِسْعِينَ وَمِئَتَيْنِ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو هِلَالٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ: دَخَلَ أَنَسٌ عَلَى الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ يَقُولُ الشِّعْرَ فَقَالَ: يَا أَخِي قَدْ عَلَّمَكَ اللهُ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكَ مِنْهُ قَالَ: بَلَى، فَقَالَ لَهُ الْبَرَاءُ: أَتَخْشَى أَنْ أَمُوتَ عَلَى فِرَاشِي، وَاللهِ لَا يَكُونُ ذَلِكَ بَلَاءَ اللهِ إِيَّايَ، فَقَدْ قَتَلْتُ مِائَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ، مَا تَفَرَّدْتُ بِقَتْلِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ شَارَكْتُ فِيهِ "
ترجمہ
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: سیدنا انس رضی اللہ عنہ سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس داخل ہوئے اور وہ شعر پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے کہا: اے بھائی! اللہ نے تمہیں اس سے بہتر چیز سکھائی ہے، انہوں نے کہا: کیوں نہیں، تو براء رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تمہیں یہ خدشہ ہے کہ میں اپنے بستر پر مروں گا؟ اللہ کی قسم! اللہ کا مجھ پر یہ امتحان نہیں ہو سکتا، میں نے مشرکین میں سے سو آدمی قتل کیے ہیں، جن میں سے کچھ کو تنہا قتل کیا اور کچھ کے قتل میں شریک رہا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: بَارَزَ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ أَخُو أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرْزُبَانَ الزَّارَةَ، فَقَتَلَهُ ثُمَّ أَخَذَ سَلَبَهُ، فَبَلَغَ سَلَبُهُ ثَلَاثِينَ أَلْفًا، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ: «إِنَّا كُنَّا لَا نُخَمِّسُ السَّلَبَ، وَإِنَّ سَلَبَ الْبَرَاءِ قَدْ بَلَغَ مَالًا كَثِيرًا، فَمَا أُرَانَا إِلَّا خَامِسِيهِ»
ترجمہ
روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بھائی سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے زارہ کے مرزبان سے مقابلہ کیا، اسے قتل کر کے اس کا سامان (سلب) لے لیا، تو ان کا سلب تیس ہزار (درہم) کو پہنچ گیا، جب یہ بات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پہنچی، تو انہوں نے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”ہم سلب میں پانچواں حصہ نہیں نکالا کرتے تھے، لیکن براء کا سلب بہت بڑی مقدار کو پہنچ گیا ہے، تو مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اس میں سے پانچواں حصہ نکالنا چاہیے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: لَقِيَ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ حِمَارُ الْيَمَامَةَ قَالَ: «رَجُلٌ طُوَالٌ فِي يَدِهِ سَيْفٌ أَبْيَضُ» قَالَ: «وَكَانَ الْبَرَاءُ رَجُلًا قَصِيرًا فَضَرَبَ الْبَرَاءُ رِجْلَيْهِ بِالسَّيْفِ، فَكَأَنَّمَا أَخْطَأَهُ فَوَقَعَ عَلَى قَفَاهُ» قَالَ: «فَأَخَذْتُ سَيْفَهُ، وأَغْمَدْتُ سَيْفِي فَمَا ضَرَبْتُ إِلَّا ضَرْبَةً وَاحِدَةً، حَتَّى انْقَطَعَ فَأَلْقَيْتُهُ، وَأَخَذْتُ سَيْفِي»
ترجمہ
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: مسیلمہ کے دن سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ کا سامنا ایک آدمی سے ہوا جسے ”حمار الیمامہ“ کہا جاتا تھا، وہ ”لمبے قد کا آدمی تھا جس کے ہاتھ میں سفید تلوار تھی“ اور ”براء رضی اللہ عنہ پستہ قد آدمی تھے، تو براء رضی اللہ عنہ نے اس کی ٹانگوں پر تلوار سے وار کیا، لیکن گویا وہ چوک گیا اور وہ اپنی پشت کے بل گر پڑا“ (براء رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: ”تو میں نے اس کی تلوار پکڑ لی اور اپنی تلوار نیام میں کر لی، تو میں نے صرف ایک ہی وار کیا یہاں تک کہ (اس کی تلوار) ٹوٹ گئی تو میں نے اسے پھینک دیا اور اپنی تلوار پکڑ لی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الصَّائِغُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخُو إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: " بَيْنَمَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَأَخُوهُ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ عِنْدَ حِصْنٍ مِنْ حُصُونِ الْعَدُوِّ، وَالْعَدُوُّ يُلْقُونَ كَلَالِيبَ فِي سَلَاسِلَ مُحْمَاةٍ، فَتَعْلَقُ بِالْإِنْسَانِ فَيَرْفَعُونَهُ إِلَيْهِمْ، فَعَلِقَ بَعْضُ تِلْكَ الْكَلَالِيبِ، بِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَرَفَعُوهُ حَتَّى أَقَلُّوهُ مِن الْأَرْضَ فَأَتَى أَخُوهُ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ فَقِيلَ: أَدْرِكْ أَخَاكَ، وَهُوَ يُقَاتِلُ في النَّاسِ فَأَقْبَلَ يَسْعَى حَتَّى نَزَا فِي الْجِدَارِ، ثُمَّ قَبَضَ بِيَدِهِ عَلَى السِّلْسِلَةِ وَهِي تُدَارُ، فَمَا بَرِحَ يَجُرُّهُمْ وَيَدَاهُ، تُدَخِّنَانِ حَتَّى قَطَعَ الْحَبْلَ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى يَدَيْهِ، فَإِذَا عِظَامُهَا تَلُوحُ قَدْ ذَهَبَ مَا عَلَيْهَا مِنَ اللَّحْمِ، وأَنْجَى الله عَزَّ وَجَلَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِذَاكَ "
ترجمہ
روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ دشمن کے ایک قلعے کے پاس تھے، اور دشمن گرم زنجیروں میں کنڈے پھینک رہا تھا، جو آدمی سے چمٹ جاتے تو وہ اسے اپنی طرف کھینچ لیتے، تو ان میں سے ایک کنڈا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے چمٹ گیا اور انہیں زمین سے اونچا اٹھا لیا، تو ان کے بھائی براء بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس (کوئی) آیا اور کہا گیا: اپنے بھائی کو بچاؤ، وہ لوگوں کے درمیان لڑ رہے تھے، تو وہ دوڑتے ہوئے آئے یہاں تک کہ دیوار پر چڑھ گئے، پھر اپنے ہاتھ سے اس زنجیر کو پکڑ لیا جو کھینچی جا رہی تھی، تو وہ برابر انہیں کھینچتے رہے اور ان کے دونوں ہاتھ دھواں دیتے رہے یہاں تک کہ رسی کاٹ دی، پھر انہوں نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا تو ان کی ہڈیاں نظر آ رہی تھیں، ان پر سے گوشت جاتا رہا تھا، اور اللہ عزوجل نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو اس (کوشش) کے سبب بچا لیا۔