المعجم الكبير للطبراني
باب الباء— حرف با سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
براء بن مالك أخو أنس بن مالك باب: سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بھائی
حدیث نمبر: 1169
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: بَارَزَ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ أَخُو أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرْزُبَانَ الزَّارَةَ، فَقَتَلَهُ ثُمَّ أَخَذَ سَلَبَهُ، فَبَلَغَ سَلَبُهُ ثَلَاثِينَ أَلْفًا، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ: «إِنَّا كُنَّا لَا نُخَمِّسُ السَّلَبَ، وَإِنَّ سَلَبَ الْبَرَاءِ قَدْ بَلَغَ مَالًا كَثِيرًا، فَمَا أُرَانَا إِلَّا خَامِسِيهِ»ترجمہ
روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بھائی سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے زارہ کے مرزبان سے مقابلہ کیا، اسے قتل کر کے اس کا سامان (سلب) لے لیا، تو ان کا سلب تیس ہزار (درہم) کو پہنچ گیا، جب یہ بات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پہنچی، تو انہوں نے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”ہم سلب میں پانچواں حصہ نہیں نکالا کرتے تھے، لیکن براء کا سلب بہت بڑی مقدار کو پہنچ گیا ہے، تو مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اس میں سے پانچواں حصہ نکالنا چاہیے۔“