کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا بلال بن رباح رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے مؤذن: بدری صحابی، کنیت ابوعبداللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ " فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا: مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ "
ترجمہ
عروہ رحمہ اللہ کی روایت ہے: بدر میں شریک ہونے والوں کے ناموں میں ہے: ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام (یعنی بلال رضی اللہ عنہ)۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1001
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 336، حدیث 1005
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ " فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا: بِلَالٌ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا "
ترجمہ
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: بدر میں شریک ہونے والوں کے ناموں میں ہے: بلال، ابوبکر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1002
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 336، حدیث 1006
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: " تُوُفِّيَ بِلَالٌ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، وَيُقَالُ: إِنَّهُ تِرْبُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِدِمَشْقَ فِي الطَّاعُونِ، وَدُفِنَ عِنْدَ بَابِ الصَّغِيرِ، وَيُكَنَّى أَبَا عَبْدِ اللهِ فِي سَنَةِ سَبْعٍ، أَوْ ثَمَانَ عَشْرَةَ، وَهُوَ مِنْ مُوَلَّدِي السَّرَاةِ، وَيُقَالُ: بِلَالٌ، يُكَنَّى أَبَا عَمْرٍو "
ترجمہ
یحییٰ بن بکیر بیان کرتے ہیں: بلال، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، کا انتقال ہوا، اور کہا جاتا ہے کہ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہم عمر تھے، دمشق میں طاعون کی وبا میں انتقال کیا اور باب الصغیر کے پاس دفن ہوئے، ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی، سن سات یا اٹھارہ ہجری میں (وفات پائی)، اور وہ سراۃ کے پیدائشی باشندوں میں سے تھے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بلال کی کنیت ابوعمرو تھی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1003
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 336، حدیث 1007
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «أَعْتَقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَبْعَةً مِمَّنْ كَانَ يُعَذَّبُ فِي اللهِ، مِنْهُمْ بِلَالٌ، وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ»
ترجمہ
عروہ بیان کرتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سات لوگوں کو آزاد کرایا جنہیں اللہ کے دین میں عذاب دیا جاتا تھا، ان میں بلال اور عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1004
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 336، حدیث 1008
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو مُسْهِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، عَنْ هِنْدٍ امْرَأَةِ بِلَالٍ، قَالَتْ: كَانَ بِلَالٌ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَالَ: «اللهُمَّ تَجَاوَزْ عَنْ سَيِّئَاتِي وَاعْذُرْنِي بِعِلَّاتِي»
ترجمہ
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی زوجہ ہند بیان کرتی ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ جب اپنے بستر پر لیٹتے تو کہتے: ”اے اللہ! میری برائیوں سے درگزر فرما، اور میری کوتاہیوں پر مجھے معذور رکھ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1005
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 337، حدیث 1009
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: قَالَ بِلَالٌ لِأَبِي بَكْرٍ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: «إِنْ كُنْتَ اشْتَرَيْتَنِي لِنَفْسِكَ فَأَمْسِكْنِي، وَإِنْ أَعْتَقْتَنِي لِلَّهِ فَذَرْنِي أَعْمَلْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ
قیس بن ابی حازم بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اگر آپ نے مجھے اپنے لیے خریدا تھا تو مجھے اپنے پاس روک لیجیے، اور اگر مجھے اللہ کے لیے آزاد کیا تھا تو مجھے چھوڑ دیجیے کہ میں اللہ عزوجل کے لیے کام کروں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1006
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 337، حدیث 1010
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: جَاءَ بِلَالٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالشَّامِ، وَحَوْلَهُ أُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ جُلُوسٌ، فَقَالَ: «يَا عُمَرُ» هَا أَنَا عُمَرُ، فَقَالَ بِلَالٌ: «إِنَّكَ بَيْنَ اللهِ وَبَيْنَ هَؤُلَاءِ، وَلَيْسَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ اللهِ أَحَدٌ، فَانْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ، وَعَنْ شِمَالِكَ، وَبَيْنَ يَدَيْكَ، وَمِنْ خَلْفِكَ، إِنَّ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ حَوْلَكَ إِنْ يَأْكُلُونَ إِلَّا لُحُومَ الطَّيْرِ» فَقَالَ: صَدَقْتَ، وَاللهِ لَا أَقُومُ مِنْ مَجْلِسِي هَذَا حَتَّى تُكَلِّفُونَ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُ، وَحَظَّهُ مِنَ الزَّيْتِ وَالْخَلِّ، فَقَالُوا: هَذَا إِلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَدْ أَوْسَعَ اللهُ عَلَيْنَا فِي الرِّزْقِ، وَأَكْثَرَ مِنَ الْخَيْرِ
ترجمہ
قیس بن ابی حازم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جب وہ شام میں تھے، اور ان کے ارد گرد لشکروں کے امراء بیٹھے تھے، تو انہوں نے کہا: ”اے عمر“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں حاضر ہوں، تو بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ اللہ اور ان لوگوں کے درمیان ہیں، اور آپ کے اور اللہ کے درمیان کوئی نہیں، سو اپنے دائیں، بائیں، آگے اور پیچھے دیکھیے، بے شک یہ لوگ جو آپ کے ارد گرد ہیں پرندوں کا گوشت ہی کھاتے ہیں“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے سچ کہا، اللہ کی قسم! میں اپنی اس مجلس سے نہیں اٹھوں گا جب تک تم مسلمانوں میں سے ہر آدمی کے لیے اس کا کھانا اور تیل و سرکے کا حصہ مقرر نہ کر دو، تو لوگوں نے کہا: یہ آپ کی مرضی پر ہے اے امیر المومنین، اللہ نے ہمیں رزق میں فراخی دی ہے، اور بھلائی زیادہ کی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1007
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 337، حدیث 1011
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَمِعْتُ خَشْفَةً أَمَامِي حِينَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ " قَالُوا: بِلَالٌ، فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: «بِمَ تَسْبِقُنِي إِلَى الْجَنَّةِ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَحْدَثْتُ إِلَّا تَوَضَّأْتُ، وَلَا تَوَضَّأْتُ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَى أَثَرِ الْوُضُوءِ رَكْعَتَيْنِ
ترجمہ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں نے جنت میں داخل ہوتے وقت اپنے آگے قدموں کی آہٹ سنی، تو میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟“ صحابہ نے کہا: بلال، تو آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو بتایا تو انہوں نے فرمایا: ”تم مجھ سے پہلے جنت میں کیسے پہنچے؟“ بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں جب بھی بےوضو ہوا تو وضو کیے بغیر نہ رہا، اور جب بھی وضو کیا تو وضو کے بعد دو رکعت نماز پڑھے بغیر نہ رہا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1008
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 337، حدیث 1012
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعُمَرُ، وَعَمَّارٌ أَبِي حَفْصٍ، عَنْ آبَائِهِمْ، عَنْ أَجْدَادِهِمْ، قَالُوا: جَاءَ بِلَالٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَفْضَلَ عَمَلِ الْمُؤْمِنِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ» وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَ نَفْسِي فِي سَبِيلِ اللهِ حَتَّى أَمُوتَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا أَنْشُدُكَ بِاللهِ يَا بِلَالُ، وَحُرْمَتِي وَحَقِّي لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي، وَضَعُفَتْ قُوَّتِي، وَاقْتَرَبَ أَجَلِي، فَأَقَامَ بِلَالٌ مَعَهُ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَاءَ عُمَرُ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ، فَأَبَى بِلَالٌ عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَمَنْ يَا بِلَالُ؟ فَقَالَ: إِلَى سَعْدٍ، فَإِنَّهُ قَدْ أَذَّنَ بِقُبَاءَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ عُمَرُ الْأَذَانَ إِلَى سَعْدٍ وَعَقِبِهِ
ترجمہ
روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”مومن کا سب سے افضل عمل اللہ کی راہ میں جہاد ہے“ اور میں چاہتا ہوں کہ اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں وابستہ کر لوں یہاں تک کہ مر جاؤں، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں اے بلال، اور اپنی حرمت اور اپنے حق کا واسطہ دیتا ہوں، میری عمر بڑھ چکی ہے، میری قوت کمزور ہو گئی ہے، اور میری موت قریب آ گئی ہے، چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ ٹھہر گئے، پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے بھی وہی بات کہی جو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہی تھی، تو بلال رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر کس کے پاس جاؤ گے اے بلال؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: سعد کے پاس، کیونکہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قباء میں اذان دی تھی، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اذان (کی ذمہ داری) سعد اور ان کی اولاد کے سپرد کر دی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1009
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 338، حدیث 1013
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ، ذَكَرَهُ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُدْرِكِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: مَرَرْتُ بِبِلَالٍ وَهُوَ جَالِسٌ حِينَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، قُلْتُ: مَا يَحْبِسُكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ؟ قَالَ: «أَنْتَظِرُ طُلُوعَ الشَّمْسِ»
ترجمہ
مدرک بن عوف بیان کرتے ہیں: میرا گزر بلال رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا اور وہ نماز فجر کے وقت بیٹھے ہوئے تھے، میں نے پوچھا: اے ابوعبداللہ! آپ کو کس چیز نے روک رکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”میں سورج نکلنے کا انتظار کر رہا ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1010
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 338، حدیث 1014
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ فُسْتُقَةُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: «أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا، وَأَعْتَقَ سَيِّدَنَا» يَعْنِي بِلَالًا
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ابوبکر ہمارے سردار ہیں، اور انہوں نے ہمارے سردار کو آزاد کیا“ یعنی بلال رضی اللہ عنہ کو۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1011
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 338، حدیث 1015