حدیث نمبر: 1007
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: جَاءَ بِلَالٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالشَّامِ، وَحَوْلَهُ أُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ جُلُوسٌ، فَقَالَ: «يَا عُمَرُ» هَا أَنَا عُمَرُ، فَقَالَ بِلَالٌ: «إِنَّكَ بَيْنَ اللهِ وَبَيْنَ هَؤُلَاءِ، وَلَيْسَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ اللهِ أَحَدٌ، فَانْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ، وَعَنْ شِمَالِكَ، وَبَيْنَ يَدَيْكَ، وَمِنْ خَلْفِكَ، إِنَّ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ حَوْلَكَ إِنْ يَأْكُلُونَ إِلَّا لُحُومَ الطَّيْرِ» فَقَالَ: صَدَقْتَ، وَاللهِ لَا أَقُومُ مِنْ مَجْلِسِي هَذَا حَتَّى تُكَلِّفُونَ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُ، وَحَظَّهُ مِنَ الزَّيْتِ وَالْخَلِّ، فَقَالُوا: هَذَا إِلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَدْ أَوْسَعَ اللهُ عَلَيْنَا فِي الرِّزْقِ، وَأَكْثَرَ مِنَ الْخَيْرِ
ترجمہ

قیس بن ابی حازم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جب وہ شام میں تھے، اور ان کے ارد گرد لشکروں کے امراء بیٹھے تھے، تو انہوں نے کہا: ”اے عمر“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں حاضر ہوں، تو بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ اللہ اور ان لوگوں کے درمیان ہیں، اور آپ کے اور اللہ کے درمیان کوئی نہیں، سو اپنے دائیں، بائیں، آگے اور پیچھے دیکھیے، بے شک یہ لوگ جو آپ کے ارد گرد ہیں پرندوں کا گوشت ہی کھاتے ہیں“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے سچ کہا، اللہ کی قسم! میں اپنی اس مجلس سے نہیں اٹھوں گا جب تک تم مسلمانوں میں سے ہر آدمی کے لیے اس کا کھانا اور تیل و سرکے کا حصہ مقرر نہ کر دو، تو لوگوں نے کہا: یہ آپ کی مرضی پر ہے اے امیر المومنین، اللہ نے ہمیں رزق میں فراخی دی ہے، اور بھلائی زیادہ کی ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1007
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 337، حدیث 1011