المعجم الكبير للطبراني
باب الباء— حرف با سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بلال بن رباح مؤذن رسول الله صلى الله عليه وسلم " شهد بدرا، يكنى أبا عبد الله " باب: سیدنا بلال بن رباح رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے مؤذن: بدری صحابی، کنیت ابوعبداللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعُمَرُ، وَعَمَّارٌ أَبِي حَفْصٍ، عَنْ آبَائِهِمْ، عَنْ أَجْدَادِهِمْ، قَالُوا: جَاءَ بِلَالٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَفْضَلَ عَمَلِ الْمُؤْمِنِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ» وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَ نَفْسِي فِي سَبِيلِ اللهِ حَتَّى أَمُوتَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا أَنْشُدُكَ بِاللهِ يَا بِلَالُ، وَحُرْمَتِي وَحَقِّي لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي، وَضَعُفَتْ قُوَّتِي، وَاقْتَرَبَ أَجَلِي، فَأَقَامَ بِلَالٌ مَعَهُ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَاءَ عُمَرُ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ، فَأَبَى بِلَالٌ عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَمَنْ يَا بِلَالُ؟ فَقَالَ: إِلَى سَعْدٍ، فَإِنَّهُ قَدْ أَذَّنَ بِقُبَاءَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ عُمَرُ الْأَذَانَ إِلَى سَعْدٍ وَعَقِبِهِروایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”مومن کا سب سے افضل عمل اللہ کی راہ میں جہاد ہے“ اور میں چاہتا ہوں کہ اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں وابستہ کر لوں یہاں تک کہ مر جاؤں، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں اے بلال، اور اپنی حرمت اور اپنے حق کا واسطہ دیتا ہوں، میری عمر بڑھ چکی ہے، میری قوت کمزور ہو گئی ہے، اور میری موت قریب آ گئی ہے، چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ ٹھہر گئے، پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے بھی وہی بات کہی جو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہی تھی، تو بلال رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر کس کے پاس جاؤ گے اے بلال؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: سعد کے پاس، کیونکہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قباء میں اذان دی تھی، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اذان (کی ذمہ داری) سعد اور ان کی اولاد کے سپرد کر دی۔