المعجم الكبير للطبراني
باب الباء— حرف با سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بلال بن رباح مؤذن رسول الله صلى الله عليه وسلم " شهد بدرا، يكنى أبا عبد الله " باب: سیدنا بلال بن رباح رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے مؤذن: بدری صحابی، کنیت ابوعبداللہ
حدیث نمبر: 1008
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَمِعْتُ خَشْفَةً أَمَامِي حِينَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ " قَالُوا: بِلَالٌ، فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: «بِمَ تَسْبِقُنِي إِلَى الْجَنَّةِ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَحْدَثْتُ إِلَّا تَوَضَّأْتُ، وَلَا تَوَضَّأْتُ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَى أَثَرِ الْوُضُوءِ رَكْعَتَيْنِترجمہ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں نے جنت میں داخل ہوتے وقت اپنے آگے قدموں کی آہٹ سنی، تو میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟“ صحابہ نے کہا: بلال، تو آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو بتایا تو انہوں نے فرمایا: ”تم مجھ سے پہلے جنت میں کیسے پہنچے؟“ بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں جب بھی بےوضو ہوا تو وضو کیے بغیر نہ رہا، اور جب بھی وضو کیا تو وضو کے بعد دو رکعت نماز پڑھے بغیر نہ رہا۔