حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ خَالِي، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ الزُّهْرِيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَارِبٍ وَهُوَ بِخَيْبَرَ فَحَثَى فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ، ثُمَّ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَضَرَبُوهُ بِنِعَالِهِمْ، وَبِمَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ، حَتَّى قَالَ لَهُمْ: «ارْفَعُوهُ» فَرَفَعُوا فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتِلْكَ سُنَّتُهُ، ثُمَّ جَلَدَ أَبُو بَكْرٍ فِي الْخَمْرِ أَرْبَعِينَ، ثُمَّ جَلَدَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ أَرْبَعِينَ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ، ثُمَّ جَلَدَ ثَمَانِينَ فِي آخِرِ خِلَافَتِهِ «، ثُمَّ جَلَدَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ الْحَدَّ أَرْبَعِينَ، ثُمَّ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ ثَمَانِينَ»
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: … اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس، جب آپ خیبر میں تھے، ایک شرابی لایا گیا تو آپ ﷺ نے اس کے منہ پر مٹی پھینکی، پھر اپنے صحابہ کو حکم دیا تو انہوں نے اسے اپنے جوتوں سے اور جو کچھ ان کے ہاتھ میں تھا اس سے مارا، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اسے اٹھاؤ۔“ تو انہوں نے اسے اٹھا لیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی اور یہی آپ ﷺ کا طریقہ رہا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شراب پر چالیس کوڑے لگوائے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے آغاز میں چالیس، اور اپنی خلافت کے آخر میں اسی کوڑے لگوائے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے چالیس کی حد لگوائی، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسی۔
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مَحْشِيٍّ، عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ الْفِرَاسِيَّ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَسْأَلُ؟ قَالَ: «لَا، وَإِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ سَائِلًا، فَسَلِ الصَّالِحِينَ»
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا فراسی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں سے سوال کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، مگر اگر تمہیں ضرور سوال کرنا ہی ہو تو نیک لوگوں سے سوال کرو۔“